یہ بھی کرپشن ہی ہے- کرن وسیم

جب سے ہوش سنبھالا اور ملکی و سیاسی معاملات میں دلچسپی بڑھی تب ہی سے "کرپشن" کالفظ سنتے آئے.سیاست دان,حکومتِ وقت,میڈیااور عام افراد سب ہی اس لفظ سے مانوس تو ہیں لیکن انتہائ محدود معانی کے ساتھ. کرپشن صرف مالی وسائل اور معاشی خردبرد اور بدعنوانی کو ہی سمجھتےہیں حالانکہ یہ ایک کردار ہے جومالی, معاشرتی اور اخلاقی زندگی کے ہر پہلو میں بےقاعدگی کو ظاہر کرتا ہے اور ہمارا معاشرہ ان سب پہلوؤں سے کرپٹ کہلانے کامستحق ہے۔

کل لاہور میں وکلاء اور ڈاکٹرز کاتصادم انتہائ اخلاقی اور تربیتی کرپشن کی مثال ثابت ہوا.یہ دونوں پیشے ملک کاانتہائ قابل اور تعلیم یافتہ طبقہ مانے جاتے ہیں۔عام فرد سے سب سے زیادہ تعلق رکھنے والے پیشہ ورافراد کے اخلاق کاجنازہ تو نکلاہی ساتھ میں چھ قیمتی جانیں بھی گئیں جو عام افراد تھے ,نہ ڈاکٹر تھے نہ وکیل۔
عمرانی حکومت جوکرپشن کاراگ الاپتی اقتدار میں آئ ہےاس اخلاقی درندگی کوروکنے میں مکمل ناکام.قانون نافذ کرنیوالے اداروں کا کردار تو خودکش حملوں میں بھی فقط اتنا تھا کہ وہ کسی مذہبی حلیہ اور داڑھی والے سر کو حملہ آور کاسر ثابت کرنے میں سارا زور لگادیتے تھے.تاکہ دینی مزاج رکھنے والوں کی شناخت مسخ ہو.اور بس..مگر دینی تعلیم کو ثانوی حیثیت دینے کے نتائج کل کے سانحے میں واضح ہوئے۔

اب دینی تعلیم حاصل کرنیوالوں کے اخلاق اور نام نہاد جدید تعلیمی اداروں کے تعلیم یافتہ افراد کی اخلاقیات کافرق نمایاں ہوگیا۔اللہ ہم سب کو ہرطرح کی کرپشن اور کردار کی گراوٹ سے بچائے۔آمین.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com