آن لائن بزنس کے متعلق کچھ غلط فہمیاں - شازیہ آصف

پاکستان میں آن لائن بزنس کومتعارف ہوئے زیادہ عرصہ نہیں ہوا۔ اگرچہ کافی لوکل برانڈزپہلے ہی آن لائن شاپنگ کی سہولت دے رہے تھے لیکن کچھ مشہور آن لائن ویب سائٹس مثلاً علی ایکسپریس وغیرہ کی پاکستانی سوشل میڈیا پربہت زیادہ مارکیٹنگ کی وجہ سے لوگ آن لائن بزنس اور آن لائن شاپنگ کی طرف باقاعدہ متوجہ ہوئے ہیں ۔ جونہی آن لائن شاپنگ کا رجحان بڑھنا شروع ہوا بہت سے نئے لوگ انفرادی طور پر یا چھوٹے پیمانے پر آن لائن بزنس میں پیسہ کمانے کی دوڑ میں شامل ہو گئے اور لوگوں کی جلد توجہ حاصل کرنے کے لیئے مارکیٹنگ کے رنگ برنگے طریقے اختیار کر لئے۔

اگر معاملہ یہاں تک رہتا تو قابل قبول بھی تھا اور قابل تعریف بھی۔ لیکن اللہ ہدائیت دے کچھ لوگ ہر دوڑ میں جائز، نا جائز اور حلال و حرام کے فرق کو بھول جاتے ہیں۔ منفی ذہنیت رکھنے والے لوگوں نے آن لائن خرید و فروخت کا بہت ہی غلط تاثر پیش کیا اور اس آسانی اور فوائد سے بھرپور سہولت کی شکل ہی تبدیل کر دی۔ انہیں تو گویا ڈیفیکٹڈ، ریجکٹڈ، غلط اور خراب مال بیچنے کا آسان طریقہ مل گیا۔ بھولے بھالے معصوم لوگوں کو دکھایا کچھ اور بھیجا کچھ اور۔ اس لوٹ مار میں جہاں دھوکے باز لوگ حرام کے چار پیسے کما کر غائب ہو گئے وہا ں نئے آنے والے ایماندار سیلرز اور خاص طور پر چھوٹے پیمانے پر کام شروع کرنے والوں کے لئے ہزار مشکلیں پیدا کر دیں۔ بڑے بڑے اسٹیبلش برانڈز کوتو زیادہ مسئلہ نہیں ہوا کیوں کہ وہ کئی سال میں اپنا اعتماد بنا چکے ہیں لیکن آج بھی نئے آنے والے کئی دن، ہفتے یا مہینے کوشش کے بعد کچھ اعتماد بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔
بیان کردہ اس ساری صورت حال سے آن لائن بزنس اور شاپنگ کے بارے میں عام لوگوں میں بہت سی غلط فہمیا ں پیدا ہوئی ہیں جنہیں دور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ یہاں کچھ نمایا ں غلط فہمیوں کا ذکر کرتے ہیں جن سے بطور آن لائن سیلرکسی کا بھی واسطہ پڑسکتا ہے کیوں کہ اسی طرح ان غلط فہمیوں کا شکار بہت سے لوگ آن لائن بزنس شروع کرتے ہیں اور لوگوں کی توقعات اور بد اعتمادی دیکھ کر آن لائن کام سے بد دل ہو کر چھوڑ دیتے ہیں۔

1۔ آن لائن بزنس پیسے کمانے کا آسان ترین طریقہ

اکژ لوگوں کا خیال ہے کہ آن لائن بزنس کرنا تو کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ گھر بیٹھ کر آرام سے تصویریں لگاتے جائیں اور جو کچھ دل چاہے پارسل میں بھیج دیں۔ دھوکہ دینا توخیر سرے سے ہی غلط ہے اور اس سے کبھی زیادہ دیر تک فائدہ نہیں ملتا۔ دوسرے اگر آپ نے حقیقت میں کبھی بزنس کیا ہے یا کسی بزنس کا قریب سے مشاہدہ کیا ہے تو آپ کو علم ہو گا کہ کوئی بزنس شروع کرنا، چلانا اور کامیابی تک لے جانا مسلسل محنت کا کام ہے۔ آن لائن بزنس بھی دوسرے تمام کاروباروں کی طرح ہے اور اس کی کامیابی کے لئے بھی ایمانداری کے ساتھ انہی تمام مراحل سے گزرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی سوچیں کہ اس میں پروڈکٹ بھی خریدنے سے لے کر کسٹمر کے گھر تک پہنچانے کی ذمہ داری ہے جس کے لئے ایک پورا سسٹم ترتیب دینا پڑتا ہے جس کے الگ مسائل اور اخراجات ہیں۔

2۔آن لائن شاپ سستی چیزیں بیچنے کا ذریعہ ہے
یہ غلط فہمی پیدا کرنے میں زیادہ قصوروار وہ لوگ ہیں جن کا اوپر ذکر کیا ہے۔ ہزار روپے میں چھ سگرٹ پینٹس، پانچ سو میں تین شرگس اور اس طرح کے بہت سے اشتہار ہم نے کئی بار دیکھے ہیں اور جن لوگوں نے وہ چیزیں منگوائیں وہ جانتے ہیں کہ اتنی سستی کیوں تھیں۔ یاد رکھیں اچھی اور میعاری چیز سستی نہیں مل سکتی نہ بیچی جا سکتی ہے ۔ پھر آن لائن سیلر نے تو چیز گھر تک پہنچانی ہوتی ہے تو اس کے الگ اخراجات ہیں۔ ایک کسٹمر کا خیال ہوتا ہے کہ اس میں کیا مشکل ہے، وہ ڈیلیوری چارجز دے رہے ہیں سیلرکسی بھی کورئیر پر جا ئیں اور پارسل بک کروا دیں۔ لیکن کاش یہ سب اتنا سادہ ہوتا۔ اگر آپ تھوڑا سا غور کریں اور کوئی ایک مثال کی تفصیل میں جائیں تو آپکو اندازہ ہوگا کہ ایک عام دکاندار کے مقابلے میں آن لائن کے اخراجات بہت زیادہ ہیں جبکہ آپ اپنی چیزوں کی قیمت مارکیٹ سے زیادہ چارج نہیں کر سکتے۔ آن لائن سیلرایک آرڈرکی قیمت میں اضافی اخراجات یعنی سورٹنگ، پیکنگ، کورئیر،اور کیش پیمنٹ جو واپس آتی ہے اس کا کرایہ یاخرچ بھی برداشت کرتا ہے چاہے وہ آرڈر کسی ایک چھوٹی سی آئٹم ہی کا کیوں نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے آن لائن سیلر بہت اچھا بزنس ہونے کے باوجود بھی ریٹرن، ایکسچینج یا آفٹر سیل سروسز نہیں دیتے کیوں کہ اس کے لئے الگ ٹیم اوراضافی اخراجات ہوتے ہیں۔

3۔ آن لائن بزنس ہر کوئی کر سکتا ہے
بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں آن لائن کام کرنا بہت آسان ہے اس لیے اسے ہر کوئی کر سکتا ہے۔ دن رات کئی لوگ مجھے میسج کرتے ہیں کہ پلیز ہمیں آن لائن بزنس کا طریقہ بتا دیں، لیکن جب ان کو اپنی سکلز امپروو کرنے کا مشورہ دوں تو سخت برا مناتے ہیں۔ لیکن آپ ایمانداری سے سوچیں کہ اپنے آپ کو امپروو کیے بغیر آپ زندگی کیسے تبدیل کر سکتے ہیں۔ شروع شروع میں کچھ لوگوں کو فیس بک پیج بنا کر دیا، چلانا سکھایا لیکن ایک دو کے علاوہ سب چند دن میں چھوڑ گئے۔ بعض تو سادہ پوسٹ تک بنانا نہیں سیکھ سکے۔ آن لائن بزنس میں سب سے پہلے پڑھا لکھا ہونا ضروری ہے۔ اس کے بعد کمپیوٹر کی بنیادی تعلیم اور سوشل میڈیا کے بطور بزنس استعما ل کا کچھ تعارف ہونا چاہیے۔کچھ تخلیقی صلاحیت، تکنیکی سمجھ اور ان سب کے ساتھ صبر اور حوصلہ ہونا چاہیے تاکہ ابتدائی مشکلات پر پریشان نہ ہوں۔

4۔ آن لائن بزنس بہت کم یا بغیر سرما ئے کے شروع کیا جا سکتا ہے۔
یہ غلط فہمی عموماًان لوگوں کو ہوتی ہے جو انٹرنیٹ اور ای کامرس کی دنیا کے بارے میں بہت کم جانتے ہیں۔ جیسا کہ اوپر بات ہوئی آن لائن بزنس میں وہ تما م خرچ تو شامل ہیں ہی جو ایک نارمل بزنس میں ہوتے ہیں۔ان کے علاوہ مزید کئی اخراجات مثلا"

۔اگرگھر سے شروع کریں تو شاپ لینے کا خرچ تو بچ جاتا ہے لیکن گھر میں کسی جگہ کو الگ کرنا اور اسے سٹاک رکھنے کے مطابق بنانے پرخاصی لاگت آتی ہے ؛

۔ایک ہائی سپیڈ انٹرنیٹ کنکشن، کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ ، پرنٹر اور بنیادی آفس ایکوئپمنٹ کا انتظام ،آوٹ ڈورآن لائن رہنے کے لیئے ایک اچھا موبائل سیٹ اور اس پراچھا انٹرنیٹ پیکیج ؛

۔ویب سائٹ ڈومین، ہوسٹنگ اور سوشل میڈیا کمپین کے اخراجات ،ویب سائٹ ڈیزائین اور ڈیویلپمنٹ ۔ پھر بعد میں اگر آپ ویب سائٹ اور دوسری چیزوں کو خود مینیج نہیں کر سکتے تو اس کے لئے بھی قیمتا' سروسز لینا پڑتی ہیں ۔

۔آن لائن بزنس پر اعتماد نہ ہونے کی وجہ سے شروع میں منافع بہت کم ہوتاہے اس لئے کم از کم ایک سال کے اخراجات کا انتظام ہونا چاہیے۔

5۔ آن لائن بزنس کو پارٹ ٹائم چلایا جا سکتا ہے۔

جس طرح ایک نارمل شاپ یا برانڈ کو پارٹ ٹائم چلا کر کچھ فائدہ نہیں اس طرح آن لائن بزنس کو بھی جب تک آپ پوری توجہ اور وقت نہیں دیں مطلوبہ نتائج نہیں ملتے۔ ہر روزکم سے کم چھ سے آٹھ گھنٹے وقت دینا پڑتا ہے جو کہ ایک جاب کے ساتھ ممکن نہیں۔ پھر ایک جاب کے بعد انسان ویسے ہی ذہنی اور جسمانی طور پر بہت تھک جاتا ہے اس لئے ساتھ میں بزنس کے کاموں کا تسلسل رکھنا بہت مشکل ہے۔

6۔ مارکیٹنگ پہ بہت سے پیسے لگا دیں ۔
اس غلط فہمی کی وجہ سے لوگ شروع میں ہی مارکیٹنگ کے سب طریقے ٹرائی کرتے ہیں اور نقصان اٹھاتے ہیں۔ آپ کو شروع ہی سے پلاننگ کے ساتھ چلنا پڑتا ہے۔ آپ پہلے اپنے بزنس کے مسائل اور مارکیٹ کو سمجھیں پھربتدریج مارکیٹنگ بجٹ بڑھائیں تبھی فائدہ ہے۔

اوپر بیان کردہ تمام نکات ایک عام انفرادی طور پر آن لائن بزنس کرنے میں دلچسپی رکھنے والوں کو مد نظر رکھ کر لکھے گئے ہیں ۔ امید ہے ان سے کچھ نہ کچھ رہنمائی ہو سکے گی۔ یہ سب مسائل بتانے کا مقصد نئے آنے والوں کو خوف زدہ کرنا نہیں بلکہ ایجوکیٹ کرنا ہے۔ کام شروع کرنے سے پہلے اگر سب چیزوں کا پتا ہو تو آپ مکمل مائنڈ سیٹ کے ساتھ کام شروع کریں گے اور زیادہ سرپرائزز سے واسطہ نہیں پڑے گا۔