الوداع مکہ - بلال ایوب بٹ

پاپوں کے منجدھار میں غرق لاش بھی اگر تیرے پاس آ جائے تو اس میں ایک نئی روح ایسے نکھر آئے ، جیسے ابر رحمت کے نزول بعد ہر پتا و گل نکھر جائے. جنکی مہک قرب و جوار کو بھی معطر کر جائے. تیری ایک ملاقات دل کو ایسے بھائے کہ دل ہمیشہ تجھ سے ملاقات کا طلبگار ہو جائے۔

تیری چاہت دل میں پھر ایسے سمائے جیسے برسوں کا کوئی پیاسا پانی چاہے. تیری ہر ہر ملاقات ہمیشہ نئی ملاقات کا ہی احساس دلائے. تیرے پاس گزرے ایک ایک لمحے کی یاد سے بوجھل من ہلکا ہو جائے. اس خوبصورت ملاقات میں جب لمحئہ رخصت قریب آئے تو تجھے دیکھنے والی ہر آنکھ اشکبار ہو جائے۔

نا چاہتے ہوئے بھی نظر مڑ مڑ کر تیری طرف ہی آئے، بڑھتے ہوئے فاصلہ جدائ میں جب تیری صورت آنکھ سے اوجھل ہو جائے، تو تیرے شجر و حجر پہ ہی نظر کی ٹکٹکی بندھ جائے. ہائے یہ فاصلے بڑھتے ہی جا رہے ہیں، کاش نصرت ایزدی غیبی آئے اور ان فاصلوں کو ہمیشہ کیلئے مٹائے..آمین

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com