آن لائن بزنس خواتین کے لئے بہترین ذریعہ آمدن - شازیہ آصف

مہنگائی کے اس دور میں ہر تعلیم یافتہ انسان یہ سوچتا ہے کہ کسی طرح اپنی آمدنی میں اظافہ کرے ۔ ایک تعلیم یافتہ لڑکی بھی یہ سوچے بغیر نہیں رہتی شادی سے پہلے یا بعد میں اگر گھر میں فنانشل پرابلمز ھوں (جو کہ آج کل ایک عام مسئلہ ھے ) تو فورا” اسکی خواہش ہوتی ھے کہ اپنی تعلیم سے کام لیا جائے۔

لیکن دفاتر میں جاب کے دوران اور ساتھ ہی گھرمیں پیش آنے والی مشکلات کی وجہ سے ہر خاتون کے لیے جاب کرنا ممکن نہیں ۔جہاں تعلیم یافتہ خواتین کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ھو رہا ہے وہیں اچھی نوکری کا حصول
بھی آسان نہیں۔ قسمت سے اگرکوئی مناسب جاب مل بھی جائے تو اس کے بعد مزید کئی مسائل ھوتے ھیں مثلا” ٹرانسپورٹ کا مسئلہ، گھر کی باقی ذمہ داریوں کے ساتھ اپنے حلیئے، لباس وغیرہ کا خیال کرنا، شادی شدہ ھوں تو شوھر اور بچوں کی ضروریات ،سسرال کے معاملات وغیرہ۔ ان مسائل کی وجہ سے تعلیم یافتہ خواتین کے لئے آن لا ئن بزنس اضافی آمدن کا ایک بہترین ذریعہ بن سکتا ہے۔ آن لائن بزنس میں بھی اگرچہ کچھ مسائل ھیں لیکن جاب کے مقابلے میں فوائد بہت زیادہ ھیں ۔ کاروبار کو ویسے بھی اللہ نے پسند کیا ہے اور اس میں بہت زیادہ برکت رکھی ھے۔ وہ خواتین جن کی تعلیم اچھی ہو اور وہ بزنس میں دلچسپی رکھتی ہوں وہ تھوڑی سی محنت کر کے اور کچھ بنیادی چیزیں سیکھ کر آن لائن بزنس کا آغاز کرسکتی ہیں۔ ایک اچھی پلاننگ اورمحنت سے شروع کیے گئے بزنس سے خواتین کو کئ فوائد حاصل ھو سکتے ھیں۔

اضافی آمدن
یہ تو سب کو معلوم ہے کہ کارو بار میں آمدن پہلے دن سے شروع نہں ہوتی۔ لیکن جیسے جیسے بزنس کے بنیادی مسائل اور معاملات سمجھنے اور منظم کرنے کے قابل ہو جایئں آمدنی بہتر ہوتی جائے گا ۔ شروع میں بزنس کے اخراجات زیادہ ہوتے ہیں اور آمدن کم، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ آمدنی اور منافع میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ ہر بزنس کی طرح آن لائن بزنس میں بھی صبر اور ہمت کی اشد ضرورت ہے۔ سنجیدگی اور ایمان داری سے کام کو سمجھا جائے اور محنت کی جائے تو کامیابی ضرور ملتی ھے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں کچھ لوگوں نے آن لائن بزنس کو دھوکہ دینے اور گھٹیا اور ناقابل استعمال اشیا کو فروخت کرنے کا ذریعہ بنایا جس کی وجہ سے نا صرف آن لائن بزنس کا امیج خراب ھوا بلکہ اکثر لوگوں کا اعتبار اٹھ گیا۔ لیکن ایمانداری سے بزنس کرنے والوں کواسی بات سے فائدہ ہوتا ہے اور جو لوگ کسٹمر بن جائیں وہ ھمیشہ کے لئے کسٹمر رہتے ہیں۔

اوقات کار کی آزادی
خواتین کے لئے آن لائن بزنس میں سب سے بڑی سہولت اپنی مرضی کے اوقات کار ہیں کیوں کہ وہ اس کام کے ساتھ ساتھ با آسانی اپنے بچوں اور گھر کی دیکھ بھال کرسکتی ہیں۔ آن لائن بزنس میں آپ کام کے لئے کسی بھی وقت کا انتخاب کر سکتی ہیں۔ آپ کو آزادی ہے چاہے رات میں کام کریں یا چھٹی کے دن۔ اپنا کام ہونے کی وجہ سے آپ کسی کو جواب دہ بھی نہیں۔ چاہے زیادہ کام کریں یا کم یا اپنی گھریلو مصروفیات کے مطابق روز نیا شیڈول بنا لیں۔ آپ اپنے بزنس پیج یا ویب سائٹ پر بھی اپنی ٹائمنگ سیٹ کر سکتی ھیں۔ اس دوران کسی کسٹمر کا میسیج آجائے تو بھی آپ اپنی فرصت کے وقت اس کو جواب بھیج سکتی ھیں۔ کسٹمر سے وٹس ایپ یا فیس بک میسنجر کے زریعے کسی بھی جگہ سے بات کر سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   مہنگائی کی اصل وجہ اور سرمایہ کاری کی حقیقت - محمد عاصم حفیظ

جگہ کی آزادی
آپ اپنا آن لائن بزنس کسی بھی جگہ سے چلا سکتی ھیں آپ کو آغاز سے ہی دکان دفتر وغیرہ لینے کی ضرورت نہیں۔ دنیامیں آن لائن بزنس سے کامیابی حاصل کرنے والی بہت سی خواتن ایسی ہیں جنہو ں نے اپنے گیراج یا سٹور روم میں پہلا گودام یا دفتر بنایا اور بعد میں شاندار بزنس کی مالک بنیں۔ آپ آغاز ہی سے اپنے روزانہ کے کام اور سٹاک کے لئے اپنے گھر میں ہی کوئی جگہ یا کونہ مخصوص کر لیں تا کہ کام کا تسلسل خراب نہ ہو۔ اس کے علاوہ اگر کبھی سفر کرنا پڑے تو آپ فون اور لیپ ٹاپ کے ذریعے بزنس کے کام معمول کے مطابق جاری رکھ سکتی ہیں۔

بزنس کا انتخاب کرنےکی آزادی
جاب کے مقابلے میں بزنس کی ایک خوبصورتی یہ بھی ہے کہ آپ اپنی تعلیم، مرضی، انٹرسٹ اور سہولت کے مطابق بزنس کا انتخاب کر سکتی ھیں۔ آپ چاہے فری لانسر بننا چاہیں یا گرافک ڈیزائنر، کسی سبجیکٹ کی کوچ بننا چاہیں یا کسی پروڈکٹ کی ریٹیلر آپ کے پاس مکمل آزادی ھے۔ لیکن بزنس کا انتخاب کرتے وقت اپنے انٹرسٹ کے ساتھ ساتھ دوسری چیزوں کو بھی مد نظر رکھیں جیسے آپ کے پاس سیونگ کتنی ھے ، مہارت کیا ھے، پہلے کیا تجربہ ہے وغیرہ ۔ اس چیز کو بھی مد نظر رکھیں کہ آپ نے جس پراڈکٹ کا انتخاب کیا ھے وہ آپکے علاقے میں آسانی سے دستیاب بھی ہے یا نہیں، دوسرے اس چیز کی مارکیٹ میں ڈیمانڈ کتنی ہے۔

ٹیکس کی بچت اور بزنس کے ابتدائی اخراجات میں کمی
اگر ایک دفتر یا دکان لے کر کام شروع کریں تو بزنس شروع کرنے کے لیئے ابتدائی طور پر ہی بہت سے سرمائے کی ضرورت ہو تی ہے جیسا کہ دوکان کا ایڈوانس، کرایہ ، دوکان کی ڈیکوریشن وغیرہ وغیرہ ۔یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ کبھی بھی بزنس کرنے کا نہیں سوچتے اور اگر انہیں بزنس کا مشورہ دیں تو سرمایے کی کمی کا رونا روتے ہیں۔ آن لائن بزنس میں میں آپ بہت چھوٹے پیمانے پر گھر ھی سے آغاز کر سکتی ہیں۔ جب آپ کے کام میں اللہ کے کرم سے اضافہ ہو اور آپ اس لیول پر پہنچیں کہ بزنس کو بڑھانا مقصود ہو تب کوئی جگہ اپنے بزنس کی آمدن اور ضرورت کے لحاظ سے منتخب کر سکتی ہیں۔ اسی طرح سٹاک میں بھی آپکو بہت زیادہ پیسا لگانے کی ظرورت نہیں پڑتی۔ شروع میں اپنی گنجائش کے مطابق سٹاک خریدیں اورآہستہ آہستہ بڑھاتی جائیں۔

یہ بھی پڑھیں:   تعزیر کا کوڑا عثمان بزدار کی پشت پر کیوں - آصف محمود

آن لائن بزنس لامحدود
آن لائن بزنس کی کوئی جغرافیائی حد نہیں۔ آپ پورے پاکستان تو کیا پوری دنیا سے رابطہ کر سکتی ہیں۔ اگر آپ کے پاس کوئی اچھی مہارت یا منفرد پروڈکٹ ہے تو آپ آن لائن بزنس کے زریعے اپنی کامیابی کے مواقع کو لا محدود کر لیتے ہیں۔ اللہ تعالی کوشش کرنے والوں کو مایوس نہیں کرتا۔ یاد رکھیں محنت اور ایمانداری سے کامیابی کے سب راستے کھل جاتے ھیں۔ ہمارے ملک میں بہت سے لوگ علاقائی چیزیں مثلا سوہن حلوہ ، پشاوری چپل، سواتی شالیں وغیرہ ویب سائٹس کے ذریعے پوری دنیا میں بیچ رہے ہیں اور کما رہے ہیں۔ اسی طرح پڑھے لکھے نوجوانوں کی بہت بڑی تعداد اپ ورک اور فائور جیسی ویب سائٹس پر سروسز دے کر بہت اچھا کما رہے ہیں۔

پروڈکٹ اور سروسز کا آسان اور ڈیجیٹل ڈسپلے
انٹر نیٹ پر آپ اپنی پراڈکٹ یا سروسز کا ڈسپلے زیادہ آسانی سے کر سکتی ھیں اور ایک وقت میں کئ گاہکوں سے بات چیت ہو سکتی ھے۔ مثال کے طور پر اگر آپ کسی کپڑے والے کے پاس جائیں تو وہ ہر سوٹ آپکو کھول کر دکھائے گا یا اگر شیلف میں لگے ہیں تو ہر کسٹمر کے ساتھ شاپ کا ایک ملازم گائیڈ کرنے کے لیئے ہوتا ہے لیکن آن لائن آپ کی ایک ویب سائٹ کئی لوگ ایک وقت میں دیکھ کر آرڈر کر سکتے ہیں اور آپ ایک وقت میں بہت سے آڈر لے سکتی ہیں۔ اسی طرح سروسز کا آن لائن پورٹ فولیو دنیا کے کسی بھی حصے سے آپکو کام دلوا سکتا ھے۔

یاد رکھیں آن لائن بزنس کوئی جادو کی چھڑی نہیں ہے لیکن جاب سے بہت بہتر اور باعزت زریعہ آمدن ہے۔ منافع کے ساتھ ساتھ اس سے آپکو خود اعتمادی اور دلی اطمینان بھی ملے گا۔ اگر آپ نے بہت اچھی تعلیم حاصل کی ہے تو ملازمت سے کہیں بہتر ہے کہ آپ خود دوسروں کو ملازمت مہیا کرنے کا ذریعہ بنیں۔ اللہ آپ کا مددگار ہو۔ آمین