خواتین ملازمتیں کیوں چھوڑ رہی ہیں؟نیلم اسلم

مجھے یاد ہے کہ جب میں ایف ایس سی پری میڈیکل کی اسٹوڈنٹ تھی۔ اکثر لوگ کہتے تھے کہ بہت سی لڑکیاں میڈیکل میں جارہی ہیں، پر یہ آگے جاکر پریکٹس نہیں کریں گی۔ اس طرح بہت سی میڈیکل کی سیٹس ضائع ہوجائیں گی۔ وہ کہتے تھے کہ ہماری سوسائٹی میں فیمیل ڈاکٹرز کی ضرورت کہیں زیادہ ہے۔ کیونکہ بہت سارے لوگ چاہتے ہیں کہ ان کی خواتین کے لیے صرف خواتین ڈاکٹرز ہی ہوں۔

یہ صرف میڈیکل کا شعبہ ہی نہیں، ہر جگہ Sterotypes ہیں کہ یہ شعبہ خواتین کا ہے یا خواتین کا نہیں۔ کوئی انجینئرنگ میں جانے کی بات کرے، پائلٹ بننا چاہیے۔ پولیس، فوج یا کسی اور فورس میں جانے کی بات کرے تو اکثر گھرانوں میں یہی کہا جاتا ہے کہ بیٹا کچھ اور کرلو، ان فیلڈز میں تم لڑکیوں کا کیا کام؟

خیر یہ بحث بہت بڑی ہے، اس پر بعد میں کبھی صفحے کالے کروں گی، آج ایک بہت اہم ایشو کی طرف آپ کو متوجہ کرنا چاہتی ہوں۔ وہ یہ ہے کہ لڑکیاں کیوں آگے نہیں بڑھ پاتیں؟ شادی کا مطلب لڑکیوں کا end of career کیوں ہوتا ہے؟ وہ جن پر والدین لاکھوں خرچ کرتے ہیں اور جن پر ریاست کی خطیر رقم خرچ ہوتی ہے، وہ گھروں میں صرف برتن دھونے اور روٹیاں پکانے تک کیوں محدود ہوجاتی ہیں؟ اپنی کلاس کی ذہین ترین بچیاں تعلیم مکمل کرنے کے بعد کیوں گھر کی ہی ہوکر رہ جاتی ہیں؟

ممکن ہے کہ آپ کی نظر میں اس کی کئی وجوہات ہوں، لیکن میں ایک چھوٹی سی مثال دوں گی، یقینا آپ مجھ سے اتفاق کریں گے کہ ایک بہت بڑی وجہ یہ بھی ہے اور عین ممکن ہے آپ کہہ دیں کہ اصل وجہ ہی یہی ہے۔ میری ایک بہت اچھی دوست ہیں۔ نام اور حوالہ دینا مناسب نہیں کہ اب بھی وہ ملازمت کررہی ہیں، انہیں کسی قسم کا کوئی مسئلہ پیش نہ آجائے۔ ایک دن بہت پریشان نظر آئی۔ اس کی چند ماہ کی بیٹی ہے۔

میری دوست نے مجھے بتایا کہ کبھی کبھی آفس جانا بھی آزمائش بن جاتا ہے۔ گھر سے آفس کے لیے نکلتے وقت اپنی معصوم بچی پر نظر ڈالتی ہوں تو اُداسی بڑھ جاتی ہے۔ آفس جاکر پریشانی میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ ہر وقت یہی سوچ ذہن پر سوار رہتی ہے کہ وہ اس وقت کیا کررہی ہوگی؟ کہیں وہ مجھے یاد تو نہیں کررہی ہوگی؟ کہیں وہ رو تو نہیں رہی ہوگی؟ کہیں اسے بھوک تو نہیں لگ رہی ہوگی؟

میں نے اپنی دوست کو مشورہ دیا کہ تم اپنی بیٹی کو آفس ساتھ کیوں نہیں لے کر جاتی؟ میری بینکر دوست نے بتایا کہ ان کے آفس میں کوئی Day care centre ہی نہیں۔ میں یہ سن کر حیران رہ گئی کیونکہ وہ ایک بہت بڑے ادارے میں ملازمت کرتی تھی۔ میں نے اپنی حیرت کا اظہار کیا کہ اتنا بڑا ادارہ اور اس میں ایسے والدین کے لیے ایک اضافی کمرے کی گنجائش نہیں؟ میری دوست نے میری پریشانی میں مزید اضافہ کرتے ہوئے بتایا کہ جب اس بینک کا ایک فلور خالی ہوا تو سینئر مینجمنٹ کو مشورہ دیا گیا کہ یہاں ڈے کیئر سینٹر بنادیں۔ یقینا مشورہ دینے والوں نے یہی سوچا ہوگا کہ سینئر مینجمنٹ میں کئی ایسے ہوں گے جو باہر سے پڑھ کر آئے ہوں گے۔ ان میں سے خود کئی ایسے مسائل کا سامنا بھی کررہے ہوں گے، سو یقین تو یہی تھا کہ انہیں مشورہ نہ صرف پسند آئے گا بلکہ ایسا مشورہ دینے والوں کی تعریف بھی ضرور کریں گے۔ لیکن وہاں سے آنے والا جواب انتہائی مایوس اور حیران کن تھا، بلکہ آپ اسے شرمناک بھی کہہ سکتے ہیں۔

کیا خواتین کے ساتھ اب بچے بھی آفس آیا کریں گے؟
خواتین بچوں کو سنبھالیں گی تو آفس کا کام کون کرے گا؟‘
جنہیں بچے پالنے کا زیادہ شوق ہے وہ ملازمت چھوڑکر گھر بچے پالتے رہیں۔

یہ ہماری سوسائٹی کے پڑھے لکھے لوگوں کا حال ہے۔ یقین کے ساتھ کہتی ہوں کہ ان میں سے کئی ایسے بھی ہوں گے جو باہر سے پڑھ کر آئے ہوں گے، لیکن ان کی سوچ کو اکیس توپوں کی سلامی کہ باہر سے لینے والی یہ ڈگریاں بھی ان کا کچھ نہ بگاڑسکیں۔ آپ اس سے اندازہ لگائیں کہ یہ ایک بینک کی سینئر مینجمنٹ کا حال ہے تو باقی چھوٹے اداروں سے کیا گلہ کیا جاسکتا ہے؟ یہی تو وہ لوگ ہیں جن کی وجہ سے خواتین شادی اور بالخصوص بچوں کے بعد اپنا کیریر آگے نہیں بڑھا پاتیں۔ ان کی نظر میں بچے کسی batman کی مانند ہیں۔

ایک اور مثال سنیں میری نظروں کے سامنے سے یہ خبر گزری کہ ایک لیڈی ٹریفک وارڈن کو صرف اس لیے جرمانہ کردیا گیا کہ وہ اپنا چھوٹا بچہ ساتھ لے کر کیوں آئی؟ یعنی یہ معصوم مخلوق نہیں، بلکہ اچھوت ہوگئی، جنہوں نے دفتر کی کسی چیز کو چھوا تو اب ایک عذاب آجائے گا۔

کسی اور کا شکوہ کیا ہوگا، آپ نے تو عوامی نمایندوں کا حال بھی سنا اور دیکھا ہوگا۔ پچھلے دنوں میں نے ہی یہ خبر دی تھی کہ بلوچستان اسمبلی میں ایک خاتون رکن اسمبلی کو بچہ ساتھ لانے پر اسمبلی چھوڑنے کا کہہ دیا گیا۔ حالانکہ یہ وہ فورم ہے جہاں اس قسم کے مسائل کے حل پیش کیے جاتے ہیں۔ جہاں قانون سازی کی جاتی ہے، مگر وہاں کا اپنا یہ حال ہے تو اس سے کسی قانون سازی کی اُمید کیسے رکھی جاسکتی ہے؟

میڈیا کا حال بھی زیادہ اچھا نہیں۔ ایک مارننگ شو سے متعلق معلوم ہوا کہ اس کی اینکر expect کررہی تھیں، شو کے پرڈیوسر مختلف جگہوں پر بتاتے پھررہے تھے کہ انہیں آخر آنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ حالانکہ منہ پر وہ ان کی تعریفیں کیے نہیں تھکتا تھا۔

یہ مختلف مثالیں میں اس لیے دے رہی ہوں کہ یہ وہ ادارے ہیں جہاں کام کرنے والے عام افراد کے مقابلے میں بہت مختلف ہوتے ہیں۔ انہوں نے دنیا دیکھی ہوتی ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں انسانوں کے حقوق، خواتین کے حقوق سے متعلق آگہی رکھتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی کے سوا کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ ان کی باتیں تو امریکا اور یورپی ممالک کی، لیکن سوچ لنڈے بازار والی۔ جب تک پڑھے لکھوں کی یہ سوچ نہیں بدلے گی، تب تک ملازمت پیشہ خواتین کی زندگی نہیں بدلے گی۔ اور اگر ہمیں معاشرے کی ایک بڑی اکثریت یعنی خواتین کو مفید شہری بنانا ہے تو ان کی اس ضرورت کے لیے اپنی آواز اُٹھانی ہوگی۔ مزاحمت کا سامنا ضرور ہوگا، لیکن اگر خواتین کا یہ حق لینے میں کامیابی مل جاتی ہے تو ایک انقلاب آئے گا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com