طلبہ یونین پر پابندی کی حمایت، آمرانہ ذہنیت کا تسلسل - احمد حامدی

طلبہ یونینز بحال ہونی چاہیے یا نہیں، پچھلے کچھ دنوں سے ہمارے مضمون نویسوں کی جانیں اِس فکر میں گھلی جا رہی ہیں۔ کالم سے جن کی روٹی وابستہ ہو ان پر لازم ہوتا ہے کہ روزانہ ایک کالم لکھ ماریں، بھلے باتوں میں داخلی تضادات ہوں۔ اگر آپ نے کسی معاملے پر غور نہیں بھی کیا، تو بھی ضروری ہے کہ آپ اس پر کالم لکھیں تاکہ روزی روٹی چلتی رہے۔

میں اپنا اسلوب ذرا علمی اور سنجیدہ رکھتا لیکن میری مجبوری یہ ہے کہ جن کالمز پر مجھے تبصرہ کرنا ہے ان کا مزاج نہ تو علمی ہے اور نہ ہی وہ سنجیدگی کے مستحق ہیں۔ ان کا جواب لکھنے کے لیے کسی فکری مراقبے کی ضرورت نہیں۔ چونکہ طلبہ یونین پر لکھنے کا یہ سلسلہ کچھ عرصے تک جاری رہے گا، اس لیے سنجیدگی اور علمی انداز کسی علمی موضوع پر تنقید کے لیے بچا کے رکھنا حکمت ہے۔

ہمارے ایک کرم فرما، کالم نویس طلبہ یونین پر پابندی کے حامی ہیں۔ انہوں نے طلبہ سیاست کی ستم سامانیاں "دیکھی" ہیں، اس لیے پابندی کی حمایت میں پیش پیش ہیں۔ بعض خیالات کے ساتھ بندہ جذباتی طور پر اتنی گہرائی سے وابستہ ہوتا ہے کہ ایک عالمِ بے خودی میں، عقل کو لبِ بام چھوڑ کر اُس گہرائی میں کود پڑتا ہے۔

اُن کرم فرما کا فرمان ہے کہ طلبہ یونین پر پابندی کے حق میں قانونی دلائل موجود ہیں۔ سپریم کورٹ نے لازم کیا ہے کہ طالب علم بیانِ حلفی کے ذریعے یہ یقین دہانی کرائے کہ وہ دورانِ تعلیم کسی سیاسی سرگرمی میں شریک نہ ہوگا۔ اور یہ پابندی چونکہ عدالت نے لگائی ہے اس لیے اِسے دور، عدالت ہی کرے گی۔

ہماری گزارش یہ ہے کہ کیا عدالت آپ سے آپ یہ پابندی ہٹائے گی یا اس کے لیے کسی جدوجہد کی ضرورت ہوگی؟ پابندی ہٹانے کے لیے جس جدوجہد کی ضرورت ہے طلبہ اسی میں لگے ہوئے ہیں۔ اس جدوجہد میں ایک بڑا نام اسلامی جمعیت طلبہ کا ہے۔ اسلامی جمعیت طلبہ، 1984 بعد ازاں 1992 میں لگنے والی پابندی کو ختم کرنے کے لیے روزِ اول سے مصروفِ عمل ہے۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے جمعیت کے ناظم اعلی نے اس سلسلے میں چیئرمین سینٹ، جناب سجرانی سے ملاقات کی اور ایسی ملاقتوں کی ایک طویل فہرست مرتب ہو سکتی ہے۔ جمعیت ہی نے یونین پر پابندی کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا اور وہ پابندیاں ختم کروائیں۔ اس لیے ممدوح کو اتنی تحقیق تو کر لینی چاہیے تھی کہ سپریم کورٹ کی طرف سے عائد پابندی برقرار ہے یا ختم ہوچکی، برقرار ہے تو کس صورت میں اور ختم ہوئی تو کس طرح۔ خیر اس میں ان کی غلطی نہیں ہے، معلومات کے ہنگامی ترسیل کا زمانہ ہے، یہاں کسے ہوش کہ ٹھہر کے دیکھ لے۔ اس پابندی کو ختم کرنے کے نتیجے میں 1984 کے بعد 1989 میں بے نظیر بھٹو صاحبہ کے زمانے میں یونین الیکشنز ہوئے اور ان الیکشنز کی ڈائریکشن بھی عدالت نے دی تھی۔ اب الیکشنز کا ہونا کچھ عناصر کے ساتھ ساتھ کچھ کالم نگاروں کو بھی ناگوار ہے شاید اس لیے ابھی تک طلبہ اس بنیادی حق سے محروم ہیں۔

جمعیت کی قانونی جدوجہد اور احتجاجی جدوجہد کی تاریخ طول طویل ہے اور جدوجہد کے سلسلے میں صرف جمعیت کا ذکر اس لیے کر رہا ہوں کہ یہ طرّہ و تمغہ صرف جمعیت ہی کا حق ہے، یقین نہ آئے تو کچھ دنوں تک کالمز پڑھنے اور نعرے سننے کے بجائے طلبہ سیاست کی کوئی مستند تاریخ پڑھ لیں۔

1992 میں نواز شریف صاحب کے زمانۂ اقتدار میں عدالت نے جو پابندی لگائی تھی اس کے خلاف جمعیت نے ہمیشہ آواز اٹھائی۔ نہ ضیاء الحق صاحب کے جبر کو جمعیت نے قبول کیا تھا، نہ نواز شریف صاحب کی آمریت کے سامنے جمعیت جھکی ہے۔ اور نہ پچھلے عرصے میں شہباز شریف صاحب کے آمرانہ ہتھکنڈوں کے سامنے جمعیت تسلیم ہوئی۔ 1992 کی پابندی کے خلاف جمعیت نے جو سفارشات عدالت میں جمع کروائی تھیں وہ ریکارڈ کا حصہ ہے۔ ذیل میں ان سفارشات کی تلخیص درج ہے۔ یہ بھی جمعیت کی قانونی اور جمہوری جدوجہد کا ایک ثبوت ہے:

جمعیت کا مقصدِ وجود امر بالمعروف و نہی عن المنکر ہے اور اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے وہ پرامن ماحول کی خواہاں ہے۔

تعلیمی اداروں میں تشدد پر عدالت عظمٰی کی تشویش بجا ہے اور جمعیت بھی اس تشویش میں شریک ہے۔ لیکن اس تشدد کے ذمہ دار صرف طلبہ نہیں ہیں۔ یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جس میں معاشرے کا اخلاقی زوال، تعلیمی اداروں کے سربراہان اور اساتذہ کی غفلت اور حکومتوں کی اپنے اغراض کے لیے تعلیمی اداروں میں مداخلت، شامل ہے۔

اس تشویش ناک صورت کو دور کرنے کے لیے جمعیت عدالتِ عظمٰی، مقننہ اور انتظامیہ کو حمایت اور تعاون کی یقین دہانی کراتی ہے۔

1992 کے عبوری حکم پر عدالت نے جو نظر ثانی فرمائی ہے اس پر جمعیت کو کچھ تحفظات ہیں اور کچھ تجاویز پیش کرنا چاہتی ہے:

1: طلبہ کا سیاست میں حصہ لینا ممنوع ہے اور اخراج کے اختیارات بحق سربراہِ ادارہ محفوظ ہیں۔ اس فیصلے میں لفظ "سیاست" اور "حصہ لینا" مبہم ہیں اور اس ابہام کا غلط فائدہ اٹھانا قرین قیاس ہے۔ اس پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ اور یہ بات کہ سیاسی جماعتوں کی طلبہ تنظیمیں تشدد کی اصل وجہ ہے، یہ محض متھ ہے۔

2: طلبہ سیاست کی سرگرمیاں یا تو نظریاتی ہوتی یا حقوق اور مطالبات کی شکل میں، اور یہ دونوں صورتیں ناجائز اور غلط نہیں ہیں بلکہ فطری اور ضروری ہیں۔ ان پر پابندی کا نتیجہ خدانخواستہ زیادہ بھیانک ہو سکتا ہے۔ (یہ بات درست ثابت ہوئی، پابندی کے بعد حالات کہیں تو بہت خراب ہوئے اور جہاں حالات ٹھیک نظر آتے ہیں وہاں دراصل آمرانہ مزاج غالب ہے۔)

3:جو سرگرمیاں شرافت اور قانون کے دائرے سے باہر ہوتی ہیں، تشدد ان کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ تشدد کو ختم کرنے کے لیے اُنہی سرگرمیوں پر پابندی لگنی چاہیے جو براہ راست تشدد کا سبب بنتی ہیں۔

4: جمعیت تجویز کرتی ہے کہ "سیاست میں حصہ لینے" جیسے مبہم جملے کی جگہ یہ جملے ہونے چاہیئں؛ "ملکی سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے، ملک کی سیاسی جماعتوں کی سرگرمیوں کو فروغ دینے، اپنے مسائل کے حل کے لیے غیر قانونی، متشددانہ اور ادب و شائستگی کے معروف طریقوں کے خلاف طریقے اختیار کرنے، یا ایسے طریقے اختیار کرنے جن سے تعلیمی اداروں کا امن درہم برہم ہو اور تعلیم کے مقصد و معیار کو نقصان پہنچے"۔

5: طلبہ کے خلاف تعلیمی اداروں کے سربراہان کو جو اختیارات دیے گئے ہیں وہ بھی قانونی مسلمات، اسلام اور عرف کے خلاف ہیں۔ اِس پر بھی نظرثانی کی ضرورت ہے۔ اپیل کے لیے سپریم کورٹ کا رستہ کھلا رکھنے کے باوجود اس کا فائدہ نہ ہونے کے برابر ہوگا کیونکہ یہ عملاََ مشکل راستہ ہے۔ اور وسیع اختیارات کے ذریعے سربراہان یا اساتذہ کے وقار کو بحال کرانا بھی ایک بناوٹی اور غیر مؤثر عمل ہوگا۔

اس بعد ان واقعات کی تفصیل ہے جن کو بنیاد بنا کر پابندی لگائی گئی تھے۔ واقعات کو درست تناظر میں دیکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

سفارشات کا تفصیلی مطالعہ یہاں مقصود نہیں ہے۔ جو لوگ تفصیلی مطالعہ کے خواہش مند ہیں وہ مرکزِ جمعیت سے رابطہ کریں۔ یہاں مقصود صرف یہ بتانا ہے کہ طلبہ یونین پر پابندی کے خلاف جمعیت نے ہر جائز اور معروف طریقۂ کار کو اپناتے ہوئے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا ہے اور یونینز کی بحالی میں جمعیت کی جدوجہد کچھ ڈھکی چھپی نہیں ہے۔

کالم نگار صاحب نے حامیانِ بحالئ یونین پر ایک پھبتی کَسی ہے کہ یہ ان لوگوں کے ماضی کا رومانس ہے یا یہ ناسٹلجیا کے شکار ہیں۔ ایسے جملے یقیناً کاٹ دار ہوتے ہیں، لیکن ان کی کوئی خاص حیثیت نہیں ہوتی۔ ایسی جملوں کی حیثیت الزامات یا ذرا مہذب گالیوں کی ہے۔ اس سے ملتے جلتے کچھ جملے ایسے ہوتے ہیں: یہ محض ردِ عمل ہے یا یہ فرسٹریشن کا شاخسانہ ہے۔ وغیرہ ۔۔۔ کالم نگاری و گالم نگاری میں بہت باریک فرق ہے۔ متانت سلامت رہے!

محترم لکھتے ہیں کہ ایم بی بی ایس اور انجنیئرنگ کے طالب علم کو سیاست سیکھنی کی کیا حاجت؟ سیاست سیکھنا اور سیاسی شعور حاصل کرنا دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ طلبہ یونین کے بعد ہر ایک ایم پی اے یا ایم این اے نہیں بنتا، لیکن ہر ایک سیاسی طور پر باشعور بنتا ہے۔ اب کوئی ان سے پوچھے کہ ڈاکٹر یا انجنیئر کو سیاسی شعور کی ضرورت ہے یا نہیں۔

حضرت کا فرمانا ہے کہ یونین کے بجائے سوسائیٹیز کے تحت انتخابات، مقابلے اور سرگرمیاں ہونی چاہیے۔ جب آپ اس پر ذرا غور کریں گے تو آپ آسانی سے اس نتیجے تک پہنچ جائیں گے کہ ہر وہ ایکٹیویٹی غلط ہے جس کے نتیجے میں طلبہ کو اپنے حقوق کا احساس ہو جائے۔ یعنی بے شک کمپین چلائیں، امیدوار بنیں اور پھر صدر بن جائیں لیکن سوسائیٹیز کے تحت، جس کی لگام یونیورسٹی اتنظامیہ کے ہاتھ میں ہوتی ہے اور جس کے نتیجے میں اپنے حقوق کے شعور جیسی مہلک بیماری سے طالب علم بچا رہتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ ممدوح کالم نویس تو اس بات کے حق میں بھی ہیں کہ سیاسی پارٹیوں کو چاہیے کہ طالب علموں کو سیاسی شعور دیں، ان کو کونسلر وغیرہ کے ٹکٹ دیں۔ پھر وہی بات، کونسلر بن کے محلے کی اصلاح و بہبود تو درست ہے اور سیاسی تربیت کا حصہ ہے، لیکن طلبہ یونینز کے ذریعے صدر بن کے تعلیمی ادارے کے مسائل حل کروانا غلط!

یونینز پر پابندی کا ازالہ کرنے کے لیے تجاویز دینے سے افضل تھا کہ موصوف بنیادی مسئلہ یعنی تشدد، اسلحہ کلچر اور قبضہ کلچر کو ختم کرنے کے معاملے میں طلبہ کی راہنمائی فرماتے۔ اور یقیناً طلبہ ایسی راہنمائی کو احسان مندی سے سننے پر آمادہ ہیں۔ ڈان اخبار کا تعصب اور حقائق کو مسخ کرنے کا رویہ اپنی جگہ لیکن ایک اداریے میں اس نے بہت درست رائے اپنائی ہے، جو قابلِ احترام کالم نگار کے لیے ایک اچھا جواب ہے۔ وہ ایک اداریے میں لکھتا ہے کہ تشدد اور قوت کے غلط استعمال پر صرف طلبہ کو دوشی گرداننا ایک غلط رویہ ہے۔ تشدد ہمارے معاشرے کا عمومی رویہ ہے۔ تشدد اور طاقت کا غلط استعمال یقیناً المیہ ہے اور اس پر نوحہ کرنا درست ہے لیکن اس وجہ سے پورے ادارے کو ختم کرنا بالکل غلط طرز عمل ہے۔ جتنا مرض ہے اتنی دوا ہونی چاہیے، ملیریا کے مریض کو کنسر کی دوا دینا کسی بھی عقلی پیمانے پر غلط ٹھہرے گا۔

جو علاج اور جیسی رائے ہمارے ممدوح نے اپنائی ہے اس کو اگر پورے معاشرے پر لاگو کیا جائے تو یہ کہنا درست ہوگا کہ معاشرہ ایک آمر کا متقاضی ہے۔ لیکن اس کے باوجود اگر آمریت معاشرے کی سطح پر غلط ہے تو تعلیمی اداروں میں بھی مردود ہی ہوگی۔ ایک کالم میں جناب نے شہباز شریف صاحب کی تعریف فرمائی ہے کہ انہوں نے انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور میں جنرل ریٹائرڈ اکرم صاحب کو وائس چانسلر مقرر کرکے ملک و قوم پر بڑا احسان کیا ہے۔ اس جملے پر تنقیدی رائے کی کوئی خاص ضرورت نہیں، "جنرل ریٹائرڈ "پر بندہ غور فرمائے تو اسے حقیقتِ حال معلوم ہو جائے۔ اور سب جانتے ہیں کہ ضیاء الحق صاحب کےسیاسی وارثین کون ہیں، ن لیگ ضیاء صاحب کے ناخلف وارثین کی سیاسی جماعت ہے۔ اس لیے شہباز شریف صاحب نے یو ای ٹی لاہور اور پنجاب یونیورسٹی کے ساتھ جو کھیل روا رکھے تھے وہ بعید از فہم نہیں ہیں۔ اِنہوں نے قوم پرستی کو ہوا دی، بالکل اپنے مورثِ اعلی کے تتبع میں۔ ضیاء صاحب بھی ایم کیو ایم کو کراچی میں پروموٹ کرکے، قوم کے محسن ہوئے۔ ان کا طریقۂ واردات یہی ہے کہ ساسی مخالفوں یا حق مانگنے والوں کو قوم پرستی کے ذریعے ختم کیا جائے۔ یہی قوم کے وہ محسن ہیں جنہوں نے پاکستانیت یعنی وحدت کا شیرازہ منشتر کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

تاریخ کی درستی کے لیے یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ ضیاء صاحب کے بعد طلبہ یونین پر دوبارہ پابندی نواز شریف صاحب نے لگائی تھی۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو ضیاء صاحب کے وارثین نے ان کے جس عمل کو تسلسل سے اپنائے رکھا وہ تعلیمی اداروں میں آمریت کا قیام و دوام ہے۔

موصوف نے ذکر فرمایا کہ طالب علموں کی کثرت کی وجہ سے بہت سے انتظامی بگاڑ پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں نے تو صرف کھیلوں کے میدانوں کے نہ ہونے کا ذکر کیا، لیکن میں اس پر یہ اضافہ کرنا چاہتا ہوں کہ ٹراسپورٹ سہولت کا نہ ہونا، ہاسٹلز کی کمی وغیرہ بھی اس میں شامل ہیں۔ کیا یہ مسائل اس قابل نہیں ہیں کہ ان کے لیے طلبہ جدوجہد کریں اور جدوجہد کو بارآور بنانے کے لیے ایک قانونی نظام یعنی طلبہ یونین کی بحالی کی تحریک چلائیں۔

اگر پچھلے عشروں میں طلبہ کو سیاسی شعور سے محروم نہ رکھا جاتا تو ملکی سیاست کی یہ حالت نہ ہوتی جو ہم دیکھ رہے ہیں۔ ایک قومِ یوتھ ہے جو گالم بازی، سطحیت اور سیاسی غلامی میں گھری بے ہنگم بھاگی جا رہی ہے۔ یہ سب کچھ اس جرمِ عظیم کا نتیجہ ہے جو حکمران یا طاقت ور طبقے نے طلبہ کو سیاسی شعور سے بے بہرہ رکھ کر انجام دیا۔

ممدوح نے طلبہ سیاست کے بعض بھیانک احوال کا ذکر کیا ہے۔ لیکن اگر وہ کچھ غور فرماتے تو انہیں معلوم ہوتا کہ یہ سب ہولناکیاں یونین پر پابندی لگنے کے بعد کی ہیں۔ یونین کے زمانے تک حالات اس درجہ خراب نہ تھے۔ اور ایک عام سی بات یہ کہ کچھ خرابیوں کی وجہ سے اداروں کو بالکل ختم کر دینا سنگین غلطی ہے۔ کیا ایم کیو ایم، پیپلز پارٹی اور بعض دیگر قوم پرست جماعتوں کی سیاہ کاریوں کو دلیل بنا کر جمہوریت اور ملکی سیاست پر پابندی لگانا درست رویہ ہوگا؟ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ کالم نگاروں اور مفکروں کی طاقتیں اس جبر کو طول دینے کے بجائے طلبہ یونین کی بعض خرابیوں کو دور کرنے میں صرف ہوں۔

ان شاء اللہ تنقیدات کا یہ سلسلہ کچھ عرصے تک جاری رہے گا۔ طلبہ سیاست پر لکھنے والوں نے تاریخی حقائق کو جس طرح مسخ کیا ہے۔ اور لوگ جس طرح پروپیگنڈہ کے شکار ہوئے ہیں، ان سب عوامل و حقائق کا جائزہ لیا جائے گا۔ عصبیت بعض اوقات اچھے اچھوں کو اندھا کر دیتی ہے۔ ہم ایسے جانتے بوجھتے اندھے بنے لوگوں کو کچھ بِنائی فراہم کرنے کی کوشش کریں گے، تاکہ اتمامِ حجت ہو اور پروپیگنڈے کا اثر حتی الامکان زائل ہو۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com