امت مسلمہ لہو لہو ، اسلحے کی بڑھتی تجارت اور " حقوق انسانی" کا عالمی دن - محمد عاصم حفیظ

دنیا بھر میں 10 دسمبر کو انسانی حقوق کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے ، اس دن کو منانے کا مقصد بنیادی انسانی حقوق کو بلا تفریق رنگ و نسل، مذہب اور زبان تسلیم کرنا ہے۔
ایک ایسے وقت میں جب امت مسلمہ دنیا بھر میں مشکلات کا شکار ہے ۔

مقبوضہ کشمیر میں بدترین کرفیو جاری ہے ، فلسطین پر اسرائیلی بمباری سے بچے شہید ہو رہے ہیں ، لاکھوں شامی مسلمان بے گھر ہیں اور روزانہ بچے ، عورتیں بوڑھے شہید کئے جا رہے ہیں ، برما کے لاکھوں مسلمان بے یارومددگار پڑے ہیں ، عراق ، افغانستان میں بھی مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی جا رہی ہے ۔ اقوام متحدہ حقوق انسانی کا دعوی بے بنیاد اور کھوکھلا لگ رہا ہے ۔امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے عالمی یوم انسانی حقوق کے حوالے سے خصوصی رپورٹ جاری کی ہے جس میں دنیا بھر میں اسلحے کی تجارت اور اس کے عالمی امن پر اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے ۔ سی این این کی رپورٹ کے مطابق رواں سال دنیا بھر میں اسلحے کی تجارت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے ۔ مغربی قوتیں جو کہ ایک طرف تو امن ، انسانی حقوق کی بات اکرتیں ہیں جبکہ دوسری جانب اسلحہ بیچ کر لاکھوں لوگوں کا خون کر رہی ہیں ۔

اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (ایس آئی پی آر آئی) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ، گذشتہ سال اسلحے کی عالمی صنعت میں مجموعی فروخت میں 6.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ دنیا بھر کی 100 بڑی اسلحہ ساز کمپنیوں نے خطرناک ہتھیاروں کی فروخت سے 420 ارب ڈالر کا نفع کمایا جن میں سے پانچ بڑی کمپنیاں امریکہ کی تھیں ۔ صرف پانچ بڑی امریکی کمپنیوں لاک ہیڈ مارٹن ، بوئنگ ، نارتروپ گرومین ، ریتھیون اور جنرل ڈائنامکس نے 148 بلین ڈالر کا اسلحہ فروخت کیا ، جو مجموعی طور پر دنیا بھر میں فروخت ہونیوالے اسلحے کا 35 فیصد ہے۔ مجموعی طور پر امریکی کمپنیوں کا کل فروخت میں 59٪ حصہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   تصورِ جہاد پروفیسر عمران احسن خان نیازی (ترجمہ: مراد علوی)

رپورٹ کے مطابق نائن الیون کے واقعے کے بعد اسلحہ کی عالمی فروخت میں 2002 سے اب تک 47 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔برطانیہ یورپ میں ہتھیاروں کی سب سے بڑی پیداوار ہے ، برطانوی کمپنیوں کی فروخت 35.1 ارب ڈالر رہی ۔ فرانس یورپ کا دوسرا سب سے بڑا پروڈیوسر ہے ، جس کی فروخت $ 23.2 بلین ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اس دن کو منانے کا فیصلہ دس دسمبر انیس سو اڑتالیس میں کیا جس کا مقصد دنیا بھر کے لوگوں کی انسانی حقوق کے حوالے سے اقوام متحدہ کے ڈیکلیریشن کی جانب توجہ دلانا تھا۔

اس سال کا موضوع " نوجوان حقوق انسانی کے لئے اٹھ کھڑے ہونے کو رکھا گیا ہے ۔ اس تاریخ کے انتخاب کا مقصد 10 دسمبر 1949ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے توثیق کردہ انسانی حقوق کا آفاقی منشور Universal Declaration of Human Rights کی یاد تازہ کرنا اور دنیا کی توجہ اس طرف مبذول کروانا ہے۔روایتی طور پر 10 دسمبر ہی کو انسانی حقوق کے میدان میں پانچ سالہ اقوامِ متحدہ انعام اور نوبل امن انعام بھی دیا جاتا ہے۔ انسانی حقوق سے متعلق سرگرم عمل کئی سرکاری اور غیر سرکاری تنظیمیں اس دن کو منانے کے لیے کئی خصوصی تقریبات منعقد کرتی ہیں۔

دوسری جانب نائن الیون کے واقعے کے بعد شروع ہونیوالی نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ پر تحقیق کرنیوالے ادارے واٹسن انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل پبلک افیئرز براون یونیورسٹی امریکہ کے جاری کردی اعدادوشمار کے مطابق امریکہ کی جانب سے شروع کی جانیوالی ان جنگوں میں اب تک دو کروڑ 70 لاکھ سے زائد مسلمان افغانستان ، پاکستان اور عراق اور دیگر علاقوں میں شہید ہو چکے ہیں ۔ امریکہ اب تک اس جنگ پر 6 ہزار 500 ارب ڈالر خرچ کر چکا ہے ۔ شام ، لیبیا اور دیگر علاقوں میں خانہ جنگی کے باعث بھی لاکھوں مسلمان شہید ہو چکے ہیں جبکہ بے گھر ہونیوالوں کی تعداد کروڑوں میں ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:   سلامتی کونسل بھارتی جارحیت کی گونج - قادر خان یوسف زئی

اقوام متحدہ کو چاہیے کہ عالمی یوم انسانی حقوق صرف علامتی طور پر ہی نہ منایا جائے بلکہ دنیا بھر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے ٹھوس اقدامات بھی اٹھائے جائیں ۔ فلسطین ، برما، شام ، عراق ، مقبوضہ کشمیر اور افغانستان سمیت دیگر علاقوں میں مسلمانوں پر ہونیوالے ظلم و ستم کا ازالہ کیا جائے ۔ اقوام متحدہ صرف مغرب کی آلہ کار ہونے کا کردار ادا نہ کرے بلکہ حقیقی معنوں میں انسانیت کی بھلائی کے لئے کام کرے ۔