لیبیا میں عالمی مداخلت- نذیر ناجی

لیبیا میں اقوام متحدہ کی حمایت سے فائز السراج کی حکومت قائم ہے۔ اُن کی حکومت کومشرقی حصے پر قابض جنگی سردار خلیفہ حفتر کی لیبین نیشنل آرمی کی جانب سے مزاحمت کا سامنا ہے۔ معزول و مقتول معمر قذافی کے دور میں وہ لیبیا کی فوج کے اعلیٰ افسر تھے‘جو خود کو فیلڈ مارشل بھی قرار دے چکے ہیں۔ انہیں لیبیا کا طاقتور جنگی سرداربھی مانا جاتا ہے۔ اسلحے سے لیس تربیت یافتہ فوج کے علاوہ جنگی طیارے بھی ان کی کمان میں شامل ہیں۔عالمی سطح پر بات کریں تو انہیں فرانس‘ مصر اور متحدہ عرب امارات کی حمایت بھی حاصل ہے۔خلیفہ حفتر کو فرانس کھل کر سپورٹ کرتا ہے ‘جبکہ دوسری طرف ترکی ‘حفترکی شدید مخالفت اور طرابلس میں قائم حکومت کی کھل کر حمایت کر رہا ہے۔ حفتر کی فوج کے خلاف طرابلس حکومت کو ترکی نے ہتھیار بھی فراہم کیے تھے‘نیز یورپی یونین اور فرانس کے درمیان لیبیا کے معاملے پر اختلاف پایا جاتا ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا کہ سینئر امریکی ذمے داران کے ایک وفد نے 24 نومبر کو لیبیا کی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل خلیفہ حفتر سے ملاقات کی ہے۔ ملاقات میں دشمنانہ کارروائیاں روکنے اور لیبیا میں سیاسی حل کے اطلاق کے طریقہ کارپر بحث کی گئی۔ اس کے علاوہ دارالحکومت طرابلس میں عسکری کارروائیاں روکنے پر بھی بات چیت ہوئی۔لیبیا میں حفتر کی فوج رواں سال اپریل سے طرابلس پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ طرابلس اس وقت بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ وفاق کی حکومت کے زیر کنٹرول ہے۔امریکی وفد میں قومی سلامتی کونسل کی خاتون نائب مشیر وکٹوریا کوٹس بھی شامل تھیں‘تاہم امریکی بیان میں حفتر اور امریکی وفد کی ملاقات کے مقام کے بارے میں نہیں بتایا گیا۔
امریکی وزارت خارجہ کے مطابق ‘وفد کے ارکان نے زور دیا کہ واشنگٹن ‘لیبیا کی خود مختاری اور اس کی اراضی کی وحدت کو مکمل طور پر سپورٹ کرتا ہے۔ امریکی ذمہ داران نے اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا کہ روس‘ لیبیا کے عوام کے کھاتے میں اس تنازع سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ نے جنرل خلیفہ حفتر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ طرابلس میں اپنا فوجی آپریشن روک دیں۔

یہ مطالبہ وفاق کی حکومت میں شامل وزرا کے واشنگٹن کے دورے کے فوری بعد سامنے آیاتھا۔کچھ عرصے سے ایسی خبریں زیرگردش رہی ہیں کہ روس‘ لیبیا میں اپنے فوجی بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے‘ خصوصاً یہ خبر برطانوی میڈیا پر ملکی انٹیلی جنس کے حوالے سے نشر کی گئی اور اس بارے میںاس وقت کے برطانوی وزیراعظم تھریسامے کو آگاہ بھی کیا گیا کہ روس‘ لیبیا میں شام کی طرز کا ایک اورآپریشن شروع کرنا چاہتا ہے۔
بلاشبہ لیبیائی کمانڈر خلیفہ حفتر کافی عرصہ سے زور دے رہے ہیں کہ ماسکو ان کی عسکری مددکرے‘ جس میں فوجیوں کو بھیجنا اور آلاتِ حرب کی فراہمی شامل ہے۔ روس کچھ عرصہ قبل‘ اپنے خصوصی فوجی دستے Spetsnaz لیبیا میں فوجی تربیت کے سلسلے میں پہلے ہی بھیج چکا ہے۔ گزشتہ برس اُردن میں منعقدہ عرب لیگ سمٹ کے دوران روس کے نائب وزیر خارجہ میخائل بوگڈونوف نے لیبیا کے وزیراعظم فیاض مصطفی سراج سے ملاقات میں کہا تھا کہ روس‘ لیبیا کے سیاسی بحران کے حوالے سے تعاون کرنے کو تیار ہے؛ اگرچہ روسی نائب وزیر خارجہ‘ جو شرق ِاوسط میں روس کے خصوصی نمائندہ ہیں‘ نے تعاون کی ممکنہ صورت کو بیان کرنے سے گریز کیا ‘لیکن ان کا کہنا تھا کہ روس لیبیا کو خوش اور متحد دیکھنا چاہتا ہے۔

وزیراعظم فیاض سراج نے گزشتہ سال مارچ کے اوائل میں ماسکو کا دورہ کیا تھا‘ جس کے بعد سے چہ مگوئیاں شروع ہوگئی تھیں کہ روس اس بحران کے حل کے لیے ممکنہ اقدامات کرنے کی کوشش کررہا ہے اور عین ممکن ہے‘ اس وقت روس ‘لیبیا میں فوجی مداخلت کا منصوبہ بنارہا ہو۔یہ اطلاعات بھی ہیںکہ روس کے خصوصی فوجی دستے اور ڈرونز کو مصر کے ساحلی شہر سدابرانی میں دیکھا
گیا ‘ جو مشرقی لیبیا سے محض سو کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روس‘ شام کی طرح لیبیا میں بھی طاقت کا توازن بدلنے کی کوشش کرسکتا ہے‘ جس سے ایک طرف تو مشرقی بحیرۂ روم میں ترکی کی تزویراتی اہمیت متاثر ہونے کا امکان ہے ‘تو دوسری جانب اس مداخلت کے نتیجے میں مصری صدر سیسی کو یہ اطمینان حاصل ہونے کی امید ہے کہ ان کی مغربی سرحد پر جاری شورش میں کمی واقع ہوجائے گی۔

لیبیا میں جاری خانہ جنگی میںاس وقت شدت دیکھنے میں آئی‘ جب ملک کے شمالی علاقوں راس لانوف اور صدارا میں موجودتیل کے ذخائر پر مصراتہ سے تعلق رکھنے والی ملیشیائوں نے قبضہ کرلیا‘ جس پر لیبیا کی سرکاری افواج نے قبضہ کیا تھا اور ابھی تک ان ذخائر پر لڑائی جاری ہے۔ ملک کی کُل آمدنی کا 95 فیصد تیل سے حاصل ہوتا ہے اور زرمبادلہ کا 98 فیصد یہیں سے آتا ہے ‘جو قریباً 50 ارب ڈالر سالانہ ہے۔ خلیفہ حفتر کی وفادار افواج ملک کے اکثر تیل کے ذخائر پر قابض ہیں اور انہوں نے ملک کی بڑی بندرگاہ کو بھی اپنے کنٹرول میں لے رکھا ہے‘ جس کے بعد سے تیل کی پیداوار دُگنی ہوچکی ہے‘ یعنی اب تین لاکھ بیرل یومیہ سے پیداوار بڑھ کر سات لاکھ بیرل تک پہنچ چکی ہے۔
روس کی لیبیا میں دلچسپی کی ایک بہت بڑی وجہ تیل کے ٹھیکوں کو حاصل کرنا ہے‘ جو اسے قذافی دور میں سہولت حاصل تھی‘ اس کے علاوہ اس دور میں لیبیا ‘روسی اسلحے اور دفاعی سازوسامان کا بڑا خریدار تھا‘ لیکن قذافی دور کے خاتمے کے بعد قریباً 10ارب ڈالرز کی دفاعی منڈی سے روس محروم ہوگیاتھا۔