شعور اور لا شعور کی کارکردگی - ڈاکٹر بشری تسنیم

انسان جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی طور پہ اللہ تعالیٰ کی ایک ایسی نادر تخلیق ہے جس کو سمجھنا صرف خالق کے ہی بس میں ہے. دلوں میں کیا خیالات ہیں، زبان پہ کیا جملے ہیں، زہن میں کیسے ارادوں کی کھچڑی پک رہی ہے ..ظاہر کیا ہے؟ اور باطن کیسا ہے وہ ذات جو علیم بذات الصدور ہے وہ ہی جاننے کا حق دار ہے..

انسانی شخصیت کی حقیقت اس لاشعورسے جڑی ہوتی ہے جو بنیادوں میں موجود ہوتا ہے..اور اس کا کچھ حصہ" عہد الست" سے تعلق رکھتا ہے اور باقی اسی حصے سے قرب یا دوری کا نتیجہ ہوتاہے." الست بربکم"کے عہد سے قرب، مثبت سوچ اور دوری، منفی سوچ کو پروان چڑھاتی ہے.. قرب یا دوری کی وجوہات ماحول ،تعلیم وتربیت، حالات یا مورثی وغیرہ ہوسکتے ہیں.

لا شعور پہ انسان کے شعور کا پردہ پڑا رہتا ہے اور شعور انسان کے اختیاری علم وفہم کا نام ہے تو لاشعور اس کے باطنی فہم کا پرتو ہے. لاشعور ایک ایسی زمین ہے جس کو مثبت افکار کا مفید پانی زرخیز بناتا ہے اور منفی افکار کاغیر مفید پانی سیم و شور زدہ کرتا ہے یا بنجر بنا دیتا ہے.. مثبت افکار آفاقی سچ ہیں اور آفاقی سچ کی انتہا موحد ہونا ہے. اور اللہ کو ایک ماننے والا صفات الہی کا پرتو یعنی "صبغۃ اللہ "میں رنگا ہوتا ہے.جب کہ منفی افکار کی وجہ سے لا شعور کی زمین زرخیز نہیں ہوتی. اور وہاں بد عادات کے جھاڑ جھنکار کے سوا کچھ نہیں پایا جاتا. لاشعور کی زمین میں اسی خوبی یا خامی کا عمر اور وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتا رہتا ہے..الا یہ کہ اس کا کوئی حل تلاش کر لیا جائے.

انسان کا اختیاری نظام اعصاب، لاشعور پہ پردہ ڈالے رکھتا ہے..جب کوئی غیر متوقع سانحہ، واقعہ یا حالات شعوری و اختیاری نظام اعصاب کو متأثر کرتے ہیں تو شعور پہ کنٹرول کمزور ہوجاتا ہے اور اس کی باگ ڈور لا شعور سنبھال لیتا ہے. اب لاشعور کی زمین زرخیز ہے تو معاملات کا سلجھاؤ مثبت ہوگا.اور نتیجہ ثمر آور ہوگا .اور اگر یہ پوشیدہ منفی افکار کے پلتے رہنے کی وجہ سے بنجر ہے یا غیر زرخیز ہے تو معاملات میں الجھاؤ بڑھے گا اور نتیجہ بے ثمر ہوگا..

لاشعور کی زرخیز زمین پر تحمل، برداشت ،وسعت قلبی،رواداری،عاجزی کے پودے پنپتے اور ان پہ صلح جوئ، محبت ،امن و آشتی، إحساس ذمہ داری کے پھل پھول لگتے ہیں..اور ان کی دریافت اسی وقت ہوتی ہے جب کوئی غیر معمولی برےحالات سے واسطہ پڑتا ہے یا اپنے مفاد پہ زد پڑتی ہے.یا غیر معمولی کامیابی معاشرے میں اچانک مل جاتی ہے.

حسد، تکبر،ریاء، تنگئ نفس اور اس طرح کی دیگر بری صفات کے کھاری پانی کی مسلسل ترسیل سے لاشعور کی زمین ثمر آور کیسے ہو سکتی ہے؟.اس کی اصلیت کا اندازہ بهی اس وقت ہوتا ہے جب نا مساعد حالات کی وجہ سے شعوری اعصاب کا کنٹرول لا شعور کے ہاتھ میں جاتا ہے. یا اپنے مفاد کو خطرہ ہوتا ہے.

منفی افکار کے حامل لوگوں کا شعوری کنٹرول بہت جلد بے قابو ہو جاتا ہے اور ان کا باطنی شعور ان کی زبان اور ہاتھ کے ذریعے اپنی اصلیت ظاہر کرنے لگتا ہے. ان کو اپنی رائے سے اختلاف، اپنا محاسبہ برداشت نہیں ہوتا. نصیحت سننا اپنی ہتک محسوس ہوتی ہے. دوسرے کی خوبی اور اپنی غلطی تسلیم کر سکنے کا یارا نہیں ہوتا. ضد، انا، ہٹ دهرمی غیظ و غضب تکبر کے پودے سے جھاڑ جھنکار کے سوا کچھ حاصل ہونا ممکن نہیں. ایسے لوگ اپنے لاشعور کے اظہار کے لئے دوسروں کے بارے میں جو زبان استعمال کرتے ہیں اس سے وہ تعلق ظاہر ہوتا ہے جو دل میں پوشیدہ ہوتا ہے کیونکہ دوسروں کے بارے میں انسان کا اصل روپ اس کے لاشعور میں بسا ہوتا ہے.

حسد، تکبر، وہ بنیادی نفسیاتی بیماری ہے جس کے نتیجے میں غصہ، بد گمانی، الزام تراشی ،بہتان ،انتقام کے کانٹے دار جھاڑ اگتے اور پھیلتے چلے جاتے ہیں ،اور زبان ان سب کی نمائندہ اور سفیر ہوتی ہے.. زبان ہی انسان کے باطنی إحساسات کے خزانے کی چابی ہوتی ہے. غصہ کرنااسی لئے حرام ہے کہ انسان اپنے ہوش وحواس کھو بیٹھتا ہے اور شعوری اعصاب پہ کنٹرول نہ رہنے سے اپنے اندر کے راز افشا ء کر بیٹھتا ہے. ہر دور کے دانشور اس بات پہ متفق رہے ہیں کہ جب تک انسان کو غصے کی حالت میں نہ پرکھ لیا جائے اس کے بارے میں کوئی رائے قائم نہ کی جائے. غصہ کی کیفیت ہر انسان پہ طاری ہوتی ہے مگر اس کا اندازِ اظہار انسان کی شخصیت ظاہر کرتا ہے.انسان اللہ رب العزت کے حضور انہی اقوال و أفعال کا حساب دینے کا مکلف ہے جو عملاً ظاہر کر دیے گئے ہوں گے.. جب تک زبان بند رہتی ہے انسان اپنا لحاظ خود رکھ لیتا ہے . جو اپنا لحاظ خود رکھنے سے عاجز ہوجائے اس کو کسی رشتے کالحاظ نہیں رہتا اور کسی کی خیرخواہی پہ یقین نہیں آتا.رشتے میں فوقیت جب زبان اور ہاتھ کی سختی سے قائم کی جاتی ہے تو اس کا نتیجہ دل کی سختی کی صورت میں نکلتا ہے..

عیش ہو یا طیش مثبت افکار کے حامل لوگ ہی لا شعور کے اس ربانی عہد سے بندھے رہتے ہیں جس سے وفا ہی میں اولاد آدم کی نجات اور دنیا و آخرت میں سرخروئی ممکن ہے.
جسمانی بیماریوں کا علاج کرنے کی انسان ہر ممکن کوشش کرتا ہے تو منفی افکار کا علاج بھی ممکن ہے. اگر ان کی بر وقت تشخیص نہ کی جائے اور ان کا تدارک نہ کیا جائے تو یہ نفسیاتی پیچیدگی میں اضافہ کا موجب بن جاتا ہے..

اس کا علاج انسان اپنا جائزہ خود لے کر ہی شروع کر سکتا ہے..اور صحت یابی اسی صورت ممکن ہے جب انسان خود کو مریض سمجھے، مرض کی نوعیت کا جائزہ لے. "انسان اپنے آپ کو خوب جانتا ہے اگر چہ وہ کتنی ہی معزرتیں پیش کرے "

اللہ تعالیٰ سے اپنی خطاؤں کی معافی مانگے. منفی سوچوں سے چھٹکارے کی ابتداء استغفار سے ہوتی ہے. اپنے اندر عاجزی پیدا کرنے کی کوشش دوسرا مرحلہ ہے..اپنی غلطی،اور کمی کوتاہی اور دوسرے کی خوبی و اچھائ کو یاد رکھنا ،تسلیم کرنا مثبت سوچ کی طرف راہنمائی کرتا ہے.شیطان کی بنیادی خطا یہی تھی اور آج تک اس پہ قائم ہے کہ اسے آدم علیہ السلام سے حسد تھا اور اپنی بڑائ ثابت کرنا چاہتا تھا. اور اس کے اظہار سے اس کی باطنی حقیقت کھل گئی کہ وہ بد نیتی سے کسی طمع و لالچ کے زیر اثر عبادتوں کے ڈھونگ رچا رہا تھا .. خلافت آدم کو مل جانے سے اس کے مفاد پہ ضرب پڑی تو غصہ، انتقام کی آگ میں جلنے لگا اور آج تک جل رہا ہے. اولاد آدم کے درمیان دوریاں پیدا کرنے کے لئے بھی اس کے پاس آج بھی یہی کامیاب نسخہ ہے. ساری انسانیت اس کے نرغے میں ہے سوائے ان لوگوں کے جن کو "عہد الست" یاد ہے اور جو اس ازلی و ابدی دشمن کی چالوں سے خبردار رہتے ہیں اور اپنا دفاع بھی کرتے ہیں.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com