کامیابی مگر کیسے - محمد احمد

کامیاب زندگی ہر ایک کا خواب اور خواہش ہوتی ہے، لیکن یہ خیال حقیقت کا روپ اس وقت دھارتا ہے جب محنت، لگن انتھک کوششیں اور جدوجہد شامل ہو. مجھے اپنے استاد محترم کے الفاظ آج بھی یاد ہیں بلکہ میرے کانوں میں گونج رہے ہیں کہ حقائق کی دنیا بہت کڑوی ہے. یہ ہر ایک کا مشاہدہ اور تجربہ ہے، کوئی انکار اور جھٹلا نہیں سکتا. اب ہوتا کیا ہے جب طلبہ اپنی تعلیم میں مگن ہوتے ہیں تو وہ طرح طرح کے خیالی پلاؤ پکاتے رہتے ہیں اور شیخ چلی کی طرح خوابات کی دنیا میں مگن رہتے ہیں۔

لیکن وہ حقیقت سے کوسوں دور بس اپنی خیالات کی دنیا میں رہتے ہیں. ہر ایک یہ سمجھتا ہے جب ہم پڑھ کر جائیں گے تو لوگ پھول لے کر ہماری آمد کے منتظر ہونگے، سرخ قالین بچھا کر ہمارا استقبال کیا جائے گا، کوئی سوچتا ہے منصب ہماری تاک میں ہونگے، کسی کے ذہن میں ہوتا ہے جاتے ہی بڑے ادارے کی چارج مل جائے گی بس یہ منتشر خیالات نے سب کو گھیر کر رکھا ہوتا ہے. حالانکہ ایسا کچھ نہیں، حقائق یہ ہے معاشرہ گل پاشی کے بجائے نمک پاشی کرتا ہے، ریڈ قالین نہیں بلکہ کانٹوں سے گزر کر اپنا لوہا منوانا پڑتا ہے. منصب، عہدے اور مقام حاصل کرنے کے لئے محنت شاقہ عظیمہ کی ضرورت ہے. آپ کو کڑے امتحانات اور گہرے تجربات سے گزرنا پڑے گا. تب جا کر کہیں محنت بار آور اور ثمر بار ہوگی۔

میری طلبہ ساتھیوں سے گذارش ہے جب آپ عملی زندگی میں قدم رکھیں تو سب پہلے یہ کام کریں جس شعبہ اور فیلڈ میں مہارت اور دلچسپی ہے آپ اس شعبہ کا انتخاب کریں اور مزید اختصاص پیدا کریں۔

آپ جو ہیں وہ ہی اپنے آپ کو پیش کریں، اپنے قد سے زیادہ بڑھا چڑھا پیش کرنا نقصان کا باعث ہوسکتا ہے. جو کچھ کرسکتے ہیں اس کے دعوے کریں، اپنی اوقات سے بڑھ کر ہرگز کسی کام کی حامی نہ بھریں. ورنہ ایک داستان بن جاؤگے۔

یقین جانیے!جب آپ کی سوچ یہ ہوگی تو آپ کے خیالات حقائق میں بدل سکتے ہیں اور دنیا آپ کی قدر کرے گی اور اپنی پلکیں بچھائے گی. اس کے برخلاف اگر آپ بغیر محنت اور مشقت کے منصب و مقام کے متلاشی رہے تو ہمیشہ سرگرداں رہیں گے، اللہ نہ کرے پھر ایک وقت آئے گا آپ مایوسی کی دلدل میں پھنس جائیں گے اور آپ کو واپسی کا راستہ نہیں ملے گا. لہٰذا اپنے آپ کو اس مایوس کن صورتحال سے بچائیں.کتنے ہمارے نوجوان ساتھی مایوسی کی کھائی میں گرنے بعد ابھی تک واپس نہیں آسکے۔

دوسرا اس بات کا خیال رکھیں کہ ہمیشہ سچ اور سچائی کا ساتھ دیں، اگر آپ نے یہ بات پلے باندھ لی پھر دیکھنا کیسے کامیابی وکامرانی کے زینے چڑھ رہے ہیں. وگرنہ کوئی دہوکہ دہی کے مرض میں مبتلا ہوگیا تو دنیا اس کو ٹھکرا دے گی. وہ بندہ ہمیشہ شکوہ شکایت کرتا نظر آئے گا اور احساس کمتری کا شکار رہے گا. آپ ابھی شاید لااُبَالی پَن میں ان باتوں کو زیادہ اہمیت نہ دیں لیکن کسی تجرکار سے دریافت کرلیں پھر آپ پر حقیقت آشکار ہوگی۔

میں ہمیشہ ان دو قسم کے ساتھیوں کو ناکام دیکھتاہوں جو شعبہ کا انتخاب غلط کرتے ہیں اور سچائی کا اہتمام نہیں کرتے. اگر آپ نے اپنی دنیا سنوارنی ہے اور کچھ کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں اور یہ شوق ہے دنیا تمہاری خدمات کا اعتراف کرے پھر طبیعت سے لاپرواہی، سستی، کاہلی اور غفلت کو جواب دے کر اپنے دل دماغ پر کام کی دہن سوار کرلیں، وقت ضائع نہ کریں. وقت نے ہی لوگوں کو اٹھایا ہے اور گرایا ہے. کسی کامیاب شخصیت کی آپ بیتی اٹھاکر دیکھ لیں نظر آئے گا کہ اس نے کتنی وقت کی پابندی کی ہے. ہمارا دین بھی وقت کی پابندی کا سبق دیتا ہے. یہی وجہ ہے ہر عبادت کا ایک مخصوص وقت ہوتا ہے، نماز، روزہ، حج، اور زکوٰۃ سب کا وقت متعین ہے. جس کے بغیر آپ یہ عبادتیں نہیں کرسکتے. اس سے کتنا بڑا سبق ملتا ہے، ہمیں بھی اپنی زندگی میں نظم وضبط کا خیال بلکہ پابندی کرنی چاہیے. یہی وہ چیزیں ہیں جو ترقی میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔

صورتحال یہ ہے کہ ہمارے نوجوان بھٹک رہے ہیں، روزگار کی تلاش میں ہیں. لیکن کامیابی ان سے دور بھاگ رہی ہے. وجوہات کیا ہیں؟کسی نے کبھی اسباب پر غور کیا ہے؟ غور وفکر کے نتیجہ میں جو بات سامنے آتی ہے وہ یہ کہ یہ وہ لوگ ہیں جو منزل کی تلاش میں ہیں، لیکن منزل تک پہنچنے کا زاد راہ ساتھ نہیں.اب منزل کی جستجو کیسے؟ پہلے آپ زاد راہ ساتھ لیں پھر منزل کی جانب گامزن ہوں۔

کامیاب شخص مناصب اور عہدوں کے پیچھے نہیں دوڑتا بلکہ یہ سب چیزیں خود ان کی تلاش میں ہوتی ہیں. بغیر وقت ضائع کیئے اپنے آپ کو سچائی کا خوگر، محنت کا عادی اور وقت کا پابند بنائیں پھر آپ کے خیالات حقیقت میں بدل سکتے ہیں. یہ درد دل اور کچھ تلخ حقائق آپ کے سامنے رکھیں ہیں امید ہے کامیابی کے امیدوار اس سے کچھ حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com