کشمیر کے سوداگر - عمار مظہر

ساحر لدھیانوی نے لکھا تھا کہ ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے، خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا۔ اس ایک شعر میں ساحر لدھیانوی نے ظالم اور مظلوم میں واضح فرق کرکے دکھا دیا۔ لیکن یہ کیا؟ جنت ارضی مقبوضہ جموں و کشمیر میں ظلم کی ایک اندوہناک داستان آج بھی خون مسلم سے لکھی جا رہی ہے اور ہمارے حکمران ایک تقریر اور جمعے کے روز احتجاج کرکے اپنی تمام تر ذمہ داریوں سے مبرا ہو چکے ہیں۔

صورتحال یہ ہے کہ کہ آج مقبوضہ جموں، کشمیر اور لداخ میں انسانی زندگیوں کو روتے، سسکتے، بلکتے اور ارض وطن پاکستان سے کسی ٹھنڈی ہوا کا انتظار کرتے کرتے ایک سو تئیس دن ہو چکے ہیں۔ ہمارے مبینہ کپتان نے بھارت کو لاک ڈاؤن کی سینچری کچھ اس انداز میں مکمل کرنے دی ہے کہ اندھے کو بھی میچ فکسنگ نظر آ جائے۔ لیکن ڈھٹائی کی حد یہ ہے کہ خود کو حکمران کہنے والا ٹولہ پاک وطن کی شہہ رگ پر بھارتی استبداد کے کسے ہوئے شکنجے کے باوجود اپنی خو بدلنے کو تیار نہیں ہے۔ کبھی کبھی دل میں خیال آتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح مانیکا خاندان کے ذریعے خاتون اول تک یہ پیغام پہنچا دیں کہ وہ ہی اپنے سرتاج کو یاد دلائیں کہ وہ صرف ان کے سر کے تاج نہیں بلکہ بطور وزیر اعظم اس قوم پر بھی مسلط ہیں۔ لہٰذا کچھ ہوش کے ناخن لیں اور مقبوضہ جموں و کشمیر پر سوداگری کرنے کا داغ دھو ڈالیں۔

حکمران تو چلو اندھے، گونگے اور بہرے ہو ہی چکے ہیں لیکن ابو بچاؤ تحریک کے سرکردہ خاندان یعنی آل شریف، بھٹو کے جھوٹے جانشین اور کم از کم ایک دہائی تک کشمیر کمیٹی کے چئیرمین رہنے والے مولانا فضل الرحمٰن بھی مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ اب تو یہ لگنے لگا ہے کہ شاہوں کے خاندانوں کی بخشش عالمی طاقتوں نے کشمیر کے معاملے پر خاموشی سے مشروط کر رکھی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:   بادشاہ گر - پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

حالت یہ ہو چکی ہے کہ بھارت کی قاتل فوج مقبوضہ جموں و کشمیر کے کروڑوں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیل رہی ہے اور مظلوم کشمیریوں کا سامنا ایک طرف تو سفاک دشمن سے ہے اور دوسرے جانب وہ ابھی تک پاکستان کے نااہل، ڈرامے باز اور رنگ بازی کے ماہر حکمرانوں سے امید لگائے بیٹھے ہیں۔

مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری ظلم و بربریت پر ابتدائی طور پر تو عالمی ذرائع ابلاغ نے معمولی سا شور اٹھایا لیکن پھر ہم نے دیکھا کہ جیسے ملک پر مسلط ٹولہ پاکستان میں ذرائع ابلاغ پر قدغن لگانے کا ماہر ہے ویسے ہی عالمی استعمار کو بھی عالمی ذرائع ابلاغ کو خاموش کرانا اچھی طرح آتا ہے۔

ان حالات میں اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی تو بات بھی مت کریں کیونکہ ان کو صرف اس وقت انسانی حقوق یاد آتے ہیں جب ان کا ایجنڈا کسی ملک یا قوم کو تباہ و برباد کروانا ہو۔ یہ ادارے انسانی حقوق کے بجائے عالمی استعماری حقوق کے تحفظ کے لئے بنائے گئے تھے اور آج بھی اپنے اسی مقصد کے تحت ہی کام کر رہے ہیں۔