حسان اور رشتے - ڈاکٹر طاہرہ بشیر سلہریا

خالہ کی شادی کی ویڈیو دیکھتے دیکھتے اچانک حسان بول پڑے، ماما یہ لالہ کو جو پیسے دے رہی ہیں، وہ آپ کی پھپھو ہیں۔ اور میں جو ہر شادی کی ویڈیو پر ٹشو پیپر کا ڈبہ ساتھ لے کر بیٹھتی ہوں، روہانسی آواز میں بولی کہ یہ سب جو سلامی دینے والی خواتین میری پھپھو ہیں۔حسان سوچ کر کہنے لگے، آپ کی کتنی پھپھو ہیں۔

میں نے ہاتھ سے چار انگلیاں اس کے سامنے کیں۔ حسان نے سر دھنتے کہا، پھر تو آپ کو بہت پیسے ملے ہوں گے۔اور اچانک روہانسا ہو کر کہنے لگا، مگر میں کیا کروں گا، میری تو ایک ہی پھپھو ہیں۔ اور میں نم آنکھوں کے باوجود زور زور سے قہقہے لگانے لگی۔ بیچارہ حسان۔

حسان کا یہ درد کم نہ ہوا تھا کہ کچھ دنوں بعد کہنے لگا، ماما یہ پھپھا کون ہوتے ہیں۔ میں نے سمجھاتے ہوئے کہا ،آپ کی پھپھو کے خاوند۔ حسان کنفیوز تھا کیونکہ پھپھو کو تو عینی پھپھو کہتے ہیں، مگر اماں ابا کے ساتھ ساتھ خود بھی پھوپھا جی کو وقار بھائی ہی کہتے ہیں۔ کچھ مغز ماری کے بعد اس نے سر نفی میں ہلایا، یہ پھپھو کے میاں کو بھائی کوئی لاجک نہیں ہے۔ آخر سٹپٹا کر کہنے لگے۔ چلیں بتائیں میں کس کا پھپھا ہوں۔ اب سر پٹخنے کی باری میری تھی۔

میں نے آہستہ آہستہ رشتہ بنانا شروع کیا، دیکھو حسان! آپ کی بیوی کے بھائی کے بچے آپ کو پھپھا کہیں گے۔ حسان کچھ سمجھ اور نہ سمجھ کے بیچ تھے کہ رمان بول پڑے۔۔۔۔ماما جی، ہو سکتا ہے، حسان کی بیوی کا کوئی بھائی ہی نہ ہو۔

حسان کے دماغ کا پہلے ہی دہی بن رہا تھا، رمان کے مفروضے پر تلملا اٹھے۔ کہنے لگے۔۔۔۔ماما جی، میری بیوی خوب صورت ہو نہ ہو، اس کا بھائی ضرور ہونا چاہیے۔ پھپھا جی کہلوانے کے لیے ہر قربانی کے لیے تیار ۔۔۔۔ پھپھا حسان جی۔