عالمی سطح پرمسلمانوں میں تعلیم کی پسماندگی - پروفیسر جمیل چودھری

سابقہ کئی مضامین میں مسلمانوں کے مسائل کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ عروج سے انحطاط تک کی باتیں ہوچکی ہیں۔گزشتہ آرٹیکل میں کرۂ ارض پر عیسائی مغرب کے غلبہ کاذکر ہوا۔آ ج ہم مسلمانوں میں خواندگی کی کمی کا ذکر کریں گے۔تعلیم انسان کو شعوردیتی ہے۔آگے بڑھنے کی طرف توجہ دلاتی ہے۔ غیر مسلم ممالک نے اپنے لوگوں کو100 فیصد تک خواندہ بنا لیا ہے۔ لیکن مسلمانوں کے ہاں اب بھی بے شمار لوگ ناخواندہ ہیں۔ 2016ء میں ہی ایک معروف ادارے نے مسلمانوں کے تعلیمی کوائف پر ایک رپورٹ شائع کی ہے۔ ہم انہی کے حوالے سے گفتگو کریں گے۔

گزشتہ 3 نسلوں سے سکول جانے والے نوجوانوں کی تعداد میں25فیصد اضافہ ہواہے۔بچوں میں خواندگی کی شرح بڑھ رہی ہے۔لڑکے اور لڑکیوں کی تعلیم میں پایاجانے والا گیپ کم ہوا ہے۔ لیکن ابھی تک10 میں سے 4 مسلم نوجوان کسی قسم کی تعلیم حاصل نہیںکرسکے۔21۔وی صدی کے حوالے سے یہ بات بڑی تشویش ناک ہے۔مسلم معاشرہ میں بچیوں کو سکول بھیجنے کارجحان ابھی بھی بہت کم ہے۔حالانکہ دونوں صنفوں کی تعلیم انتہائی ضروری ہے۔اوپر درج کردہ 10میں سے4بچے اگرسکول نہیں جارہے تو اس میں43فیصد بچیاں اور30فیصد بچے شامل ہیں۔ایک بھیانک صورت حال اس طرح بھی معلوم ہوتی ہے کہ ثانوی تعلیم کے بعد اعلیٰ تعلیم بہت ہی کم مسلم نوجوان حاصل کررہے ہیں۔گریجوایشن تک صرف10فیصد مرد اور6۔فیصد خواتین ابھی تک تعلیم حاصل کرسکی ہیں۔21۔ویں صدی کے لحاظ سے یہ صورت حال بہت ہی خراب ہے۔

کرۂ ارض پر2010ء میں مسلمانوں کی تعداد 1.6بلین اور اب1.8بلین شمار ہوتی ہے۔670۔ملین مسلمانوں میں جوتعلیم یافتہ شمارہوتے ہیں۔انکی تعلیم میں فرق رہائشی علاقے اور حالات متعین کرتے ہیں۔مجموعی طورپر مسلمانوں میں سکولنگ کاعرصہ 5تا6سال شمار ہوتا ہے۔لیکن علاقائی لہاظ سے سکولنگ کے عرصہ میں بڑافرق پایاجاتا ہے۔شمالی امریکہ میں رہائش پذیر مسلمانوں کی سکولنگ کاعرصہ اوسطاً13.6سال ہے۔یہاں کے مسلمان سب سے زیادہ تعلیم یافتہ شمارہوتے ہیں۔ان میں کینڈااور متحدہ امریکہ میں مقیم مسلمان آتے ہیں۔سکولنگ کاعرصہ سنٹرل صحرائی افریقہ میں2.6سال ہے۔جوپرائمری تعلیم سے بھی کم ہے۔اسے ہم برائے نام تعلیم ہی کہیں گے۔صحرائی افریقہ میں مسلمان65فیصد ناخواندہ شمارہوتے ہیں۔مڈل ایسٹ اور شمالی افریقہ میں بھی زیادہ عمر کے مرد اور خواتین بہت ہی کم تعلیم یافتہ ہیں۔ایشیاء پیسفک کے علاقے میں10۔میں سے صرف3۔مسلم مرد تعلیم یافتہ ہیں۔طالب علم جو سکولوں اور کالجوں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں وہ اس میں شامل نہیں ہیں۔شمالی امریکہ اور یورپ میں رہنے والی مسلم کمیونٹیز نہ صرف تعلیم یافتہ ہیں بلکہ اچھی اور معیاری تعلیم حاصل کئے ہوئے ہیں۔یہاں تعلیم یافتہ غیر مسلم قوموں کااثر مسلمانوں پر بڑا واضح نظر آتا ہے۔

اگر عالمی سطح پر دیکھا جائے تو مسلمان مرد،عورتوں سے تقریباً 2 سال تک زیادہ تعلیم حاصل کئے ہوئے ہیں۔غیر مسلموں میں مردوں اور عورتوں کے درمیان تعلیمی عرصے کا گیپ نہ ہونے کے برابر ہے۔یہ بات توہرکوئی جانتا ہے کہ یورپ اور امریکہ میں عورتوں اور مردوں کے لئے برابرمواقع کاانتظام وہاں کی حکومتوں نے عرصہ پہلے ہی کرلیاتھا۔مخلوط تعلیم کی وجہ سے بھی تعلیم کے مواقع یکساں ہیں۔عورتوں اورمردوں کی تعلیم میں سب سے زیادہ فرق شمالی افریقہ اور مڈل ایسٹ میں پایا جاتا ہے۔تعلیم بالغان کے انتظام کے ذریعے یہ فرق دورکرنا انتہائی ضروری ہے۔تاکہ مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کے شعور میں بھی اضافہ ہو۔عورتیں بھی دورجدید کے مسائل کو اچھی طرح سمجھ سکیں اور انہیں بہتر انداز میں حل کرسکیں۔

اگرمسلمانوں کاعالمی سطح پر جائزہ لیاجائے 30۔فیصد مرد روائتی تعلیم حاصل نہیں کرسکے۔جبکہ خواتین کی ناخواندگی کی مجموعی سطح43۔فیصد ہے۔اعلیٰ تعلیم میں بھی یہ فرق پایاجاتا ہے۔مسلمان مرد10۔فیصد اعلیٰ تعلیم حاصل کئے ہوئے ہیں۔جبکہ عورتیں اعلیٰ تعلیم کے شعبہ میںصرف6۔فیصد تک ہیں۔یہ مسلمانوں کی مجموعی صورت حال ہے۔اعلیٰ تعلیم سے مراد ثانوی تعلیم کے بعد کی صورت حال ہے۔چند دہائیوں سے مسلمان بچوں کو تعلیم دلانے کارواج کافی زور پکٹر رہا ہے۔پرانی نسلوں کے بالمقابل موجودہ نسلیں 3سال کی اوسط سے زیادہ تعلیم حاصل کررہی ہیں۔مسلمان بچوںمیںDrop-Outکی شرح بہت زیادہ ہے۔جوں جوں تعلیم کے اعلیٰ درجوں کی طرف جاتے ہیں مسلم بچوں کی تعداد بہت کم ہوتی جاتی ہے۔

یہ صورت حال ہم پاکستان میں بھی دیکھتے ہیں۔میٹرک کی سطح سے پہلے ہی بہت سے بچے سکول چھوڑ دیتے ہیں۔حالانکہ میٹرک تک تعلیم دورجدید میں انتہائی بنیادی شمار ہوتی ہے۔تمام مسلم ممالک کو اس اہم مسٔلہ کی طرف توجہ دینا ضروری ہے۔اپنے اپنے سالانہ میزانیوں میں تعلیم کے لئے زیادہ وسائل مختص کرناانہتائی ضروری ہے۔خواندگی بڑھانے کے لئے بجٹ کا 20فیصد حصہ مختص کرنالازمی ہے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ بچوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ تعلیم بالغاں کی طرف بھی توجہ دی جائے۔شمالی افریقہ اور مڈل ایسٹ میں لڑکوں کے ساتھ ساتھ لڑکیوں کے تعلیمی اداروں کا وسیع نیٹ ورک بنایاجائے تاکہ ان علاقوں میں پایاجانے والاتعلیمیGendre gapختم ہو۔ یہ گیپ پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں بھی موجود ہے۔ یہاں بھی پرانی روایات یہی ہیں کہ لڑکیوں کو سکول بھیجنا ضروری نہیں ہے۔

21ویں صدی انٹرنیٹ کی صدی بنتی جارہی ہے۔حتیٰ کہ بن چکی ہے۔ Digitalدور شروع ہوگیا ہے۔ آرٹیفیشنل انٹیلیجنس استعمال ہونا شروع ہوگئی ہے۔ سائنس دان بتارہے ہیں کہ مستقبل میں اس مخصوص ٹیکنالوجی کے استعمال سے انسان بہت بدل جائے گا۔اب دور ٹیکنالوجی کی بجائے نینوٹیکنالوجی کادورہے۔ستاروں پر کمند یں ڈالنے کی باتیں توہمارے شاعرنے کی تھیں۔لیکن غیر مسلم قومیں توکمندیں ڈال چکے ہیں۔بے شمار بڑے بڑے سیارے اب انسان کی پہنچ میں آچکے ہیں۔یہ سارا منظرنامہ مسلمانوں کو یہ احساس دلارہا ہے کہ وہ تعلیم بلکہ سائنس کی تعلیم میں تیزی سے آگے بڑھیں۔تمام شعبہ جات سے رقومات بچاکر تعلیم کے شعبہ کی طر ف لگائیں۔بچوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ بالغوں کوتعلیم دینا بھی بڑا ضروری ہے۔Digital دورمیں تعلیم کے بغیر زندگی مشکل ہوجائے گی۔ سائنس کی تعلیم مسلمانوں کو نہ صرف جدید طرز کے تعلیمی اداروں میں دینا ضروری ہےبلکہ دینی تعلیمی اداروں میں اس کا انتظام ہونا بھی ضروری ہے۔ انگریزی جیسی بین الاقوامی زبان سیکھنا اس لئے ضروری ہوگیا ہے کہ انٹرنیٹ پرموجود80۔فیصد معلومات صرف انگریزی زبان میں ہیں۔حکمرانوں اورسوسائٹی کے ذمہ دار حضرات کو اس طرف توجہ دیناانتہائی ضروری ہوگیا ہے۔پاکستان میں2۔کروڑ بچوں کے سکولوں سے باہر ہونے کاصرف ذکرہوتا ہے انہیں واپس سکولوں میں بھیجنے کاکبھی کوئی پروگرام نہیں سناگیا۔تمام مسلمانوں کو اس شعبہ میں کچھ بڑاکرنے کی اشد ضرورت ہے۔

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • مسلمانوں کے ترقی کا راز تعلیم میں ہی مضمر ہے ،تعلیمی میدان میں پیچھے رہ جانے کی ہی وجہ سے مسلمان آج پیچھے جا رہا رہے،مسلمانوں کے گھرانے میں بجٹ کا سب سے زیادہ حصہ کھانے میں خرچ ہوتا ہے ،کھانے میں زیادہ خرچ جو ہوتا ہے اس سے کچھ کم کرکے کفایت شعاری کا ثبوت دے کر اپنے بچوں کو تعلیم میں آگے بڑھانا چاہیے ۔عبدالباری
    qindeelonline.com