خیبر اور مدائن صالح کا سفر (آخری حصہ) - معظم معین

خیبر سے مدائن صالح

مدائن صالح کا علاقہ سعودی عرب کے شہر العلاء کے قریب واقع ہے۔۔۔ یہ مدینہ منورہ سے تین سو تیس کلو میٹر شمال مغرب کی طرف ہے۔ مدائن صالح العلاء سے مزید پچاس کلومیٹر آگے واقع ہیں۔ خیبر سے مدائن صالح کا فاصلہ اڑھائی سو کلو میٹر ہے۔
ہم خیبر سے نکلے اور روٹ نمبر 375 پر پڑے۔ ہماری گاڑی سڑک پر دوڑتی چلی جاتی تھی اور ارد گرد خشک پہاڑوں کو پیچھے چھوڑتی جاتی تھی۔ موسم سرد تھا مگر جوں جوں ہم العلاء کے قریب ہو رہے تھے آہستہ آہستہ اس میں گرمائش آ رہی تھی۔ سارا راستہ ویران اور غیر آباد تھا۔ بس ایک چمکتی سڑک تھی جس کے آخری سرے پر نظر آتے پانی کے ہیولے پر نظریں جمائے ہم چلے جا رہے تھے جو ہر چمکتے راستے کے اختتام پر نظر تو آتا ہے مگر ہاتھ کبھی نہیں آتا۔ ہمارے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہونے والا تھا۔۔۔!
مولانا مودودی اور ان کے ساتھی مدائن صالح کی جانب سے خیبر آئے تھے جبکہ ہم اس کی بالکل مخالف سمت یعنی مدینہ منورہ کی طرف سے خیبر پہنچے تھے۔ وہ جب 1959 کے دسمبر میں اس علاقے سے گزرے تھے تو یہاں سڑک کا نام و نشان نہیں تھا، عاصم الحداد لکھتے ہیں کہ انہیں یہ ڈیڑھ سو کلومیٹر فاصلہ طے کرنے میں پورا ایک دن لگا تھا اور راستے میں کئی بار وہ بھٹکے، کئی بار ان کی جیپ ریت میں دھنس گئی جسے نکالنے میں بعض اوقات انھیں ایک ایک گھنٹہ بھی لگا تھا اور ایک جگہ رات بھی گزارنا پڑی جو صحرا میں آگ جلا کر گزاری ۔
مگر اب تو یہ ایک شاندار سڑک ہے جہاں آپ آرام سے گاڑی کا کروز لگا کر بیٹھ سکتے ہیں۔ خیبر سے العلاء جانے والی یہ سڑک دو طرفہ ہے یعنی آمنے سامنے سے ٹریفک ایک ہی سڑک پر آتی جاتی ہے۔ سڑک کی حالت البتہ شاندار ہے اور اسی طرح ٹریفک بھی نہ ہونے کے برابر۔ تقریبا ڈیڑھ سو کلومیٹر کے اس راستے میں ہمیں گنتی کی چار پانچ کاروں سے سابقہ پڑا ، البتہ ٹرک نسبتاً زیادہ تعداد میں نظر آئے۔ یہ راستہ بھی خشک اور پتھریلے پہاڑوں اور ریگستانی میدانوں پر مشتمل تھا البتہ خود رو سبزہ بھی جابجا دکھائی دے رہا تھا۔ پورا راستہ کوئی پٹرول اسٹیشن یا استراحہ (قیام و طعام) نہیں ملتا نہ ہی آبادی موجود ہے۔ تاہم گاہے گاہے اونٹ چرتے دکھائی پڑتے ہیں۔ کہیں کہیں گدھے بھی ملے۔ اکثر اوقات مٹر گشت کرتے اونٹ سڑک پر بھی آ دھمکتے ہیں جہاں انہیں ادب و احترام کے ساتھ راستہ دینا پڑتا ہے۔ سعودی عرب میں شاہراہوں کے آس پاس اونٹوں کا پایا جانا ایک معمول کی بات ہے جس طرح ہمارے ہاں آوارہ گائیں اور گدھے سڑکوں پر مٹر گشت کرتے عموماً دیکھے جاتے ہیں۔ بڑی شاہراہوں پر تو دونوں اطراف حفاظتی باڑ لگائی جاتی ہے مگر اس سڑک کے اطراف حفاظتی باڑ نہیں لگائی گئی البتہ ایسے مقامات پر سڑک کنارے بورڈ نصب کیے گئے ہیں جن کی ذریعے مسافروں کو مطلع کیا گیا ہے کہ اس علاقے میں اونٹ سڑک پار کرنے آ سکتے ہیں لہذا اپنا اور ان کا خیال خود رکھیں۔ سعودی عرب میں ایسے آوارہ اونٹوں سے گاڑیوں کے تصادم کی شرح کافی زیادہ ہے اور اکثر یہ تصادم جان لیوا ہوتا ہے کیونکہ گاڑی جب اونٹ سے ٹکراتی ہے تو اس کی لمبی لمبی ٹانگوں سے ٹکرانے کے بعد اونٹ الٹ کر گاڑی کے چھت پر گر سکتا ہے جس کے بوجھ سے گاڑی دب جاتی ہے۔ مسافروں کی حفاظت کی خاطر اونٹوں کو سڑکوں سے دور رکھنے پر سعودی حکومت کا کروڑوں میں خرچہ ہوتا ہے۔
خیر ہم خیبر سے العلاء جا رہے تھے جہاں حضرت صالح علیہ السلام کی قوم کی بستی دیکھ کر عبرت کا سبق حاصل کرنا مقصود تھا۔
مدائن صالح کا اصل نام الحجر ہے اور اسی نام سے اب بھی وہاں بستی موجود ہے۔ قرآن میں بھی اس علاقے کا یہی نام آیا ہے۔ بلکہ قرآن میں پوری سورۃ اس نام کی ہے جس میں اللہ تعالی نے فرمایا : کذب اصحاب الحجر المرسلین (سورۃ الحجر آیۃ 80) کہ حجر کے لوگوں نے بھی رسولوں کو جھٹلایا۔
ٹیکنالوجی کے اعتبار سے وہ قوم بڑی ترقی یافتہ تھی۔ وہ پہاڑوں کو تراش کر ان میں اپنے لئے گھر تعمیر کر لیتے تھے۔ آج بھی وہ گھر موجود ہیں اور چھے ہزار سال گزر جانے کے بعد بھی اس قوم کی عبرت کا نشان بنے ہوئے ہیں۔وہ نہ صرف پہاڑوں کو تراشتے تھے بلکہ ان پر دیدہ زیب نقش و نگار بھی بناتے تھے اور آج بھی ان کے بنائے نقاشی کے نمونے اسی طرح موجود دیکھنے والوں کے لئے وجہ عبرت ہیں۔
اس علاقے میں جائیں تو ہیبت طاری ہوتی ہے۔ بڑے بڑے پہاڑ اور وسیع ریگستان ۔۔۔ دیو ہیکل سنگلاخ پہاڑ جنات کی طرح سر اٹھائے کھڑے ہیں اور قطار اندر قطار کئی کئی پہاڑ یکساں ہیئت رکھنے کے باعث مزید پر ہیبت نظر آتے ہیں۔۔۔۔یہ وہ پہاڑ ہیں جنھوں نے قوم ثمود پر آئے عذاب کی وہ چیخ سنی ہے جس نے ان کے کلیجے پھاڑ ڈالے تھے۔۔۔ وہ ایک وسیع و عریض علاقہ ہے خشک پہاڑ، ان کے درمیان ریگستان اور اس میں سرخ رنگ کی ریت۔۔۔ وہ سب ایک انوکھا منظر پیش کرتے ہیں۔
حضرت صالح علیہ السلام کی اس قوم کا نام "ثمود" تھا جو آج سے چھے ہزار برس قبل اس علاقے میں آباد تھی۔ اس قوم نے حضرت صالح علیہ السلام سے معجزے کا مطالبہ کیا اور اس قوم کے مطالبے پر اللہ تعالی نے پہلی بار کسی نبی کو کوئی معجزہ دیا۔ اور وہ معجزہ اس قوم کی اپنی فرمائش کے مطابق وقوع پذیر ہوا کہ پہاڑ کے اندر سے زندہ اور جیتی جاگتی حاملہ اونٹنی برآمد کر کے دکھائی جائے۔ ظاہر ہے اللہ تعالی کے لیے یہ کون سا بڑا کام تھا ۔۔۔ یہ کام ہو گیا۔۔۔ پہاڑ سے اونٹنی برآمد ہو گئی وہ حاملہ بھی تھی اس نے بچہ بھی جنا۔ پھر وہی اونٹنی اور بچہ اس قوم کے لیے آزمائش بن گیا۔ حکم ہوا کہ ایک دن کنویں سے سارا علاقہ پانی لے گا اور دوسرا دن صرف اونٹنی اور اس کے بچے کے لیے وقف ہو گا اور صرف وہ پانی پئیں گے۔ چند دن تو اس قوم نے برداشت کیا مگر بالاخر وہ قوم اس آزمائش میں پورا نہ اتر سکی اور انھوں نے منصوبہ بنا کر اس اونٹنی کی کونچیں کاٹ کر مار ڈالا۔
ہمارے ساتھ خدا کا کرنا یہ ہوا کہ جب ہم مدائن صالح میں اس جگہ پہنچے جہاں قوم ثمود کی تعمیرات موجود ہیں تو وہ علاقہ مرمت کے باعث سیاحوں کے لیے بند کیا گیا تھا۔ اور سرخ رنگ کا بورڈ لال لال لہرا رہا تھا جس پر درج تھا closed for development یقینا اسی میں اللہ تعالی کی طرف سے بہتری تھی۔
جن دوستوں نے مدائن صالح کے سفرنامے کی خاطر سارا سفرنامہ آخر تک پڑھا انہیں دکھ تو ہوا ہو گا۔۔۔ ہمیں بھی ہوا تھا۔۔۔ جب شرطوں نے ہمیں مزید آگے جانے سے روک دیا۔۔۔ اور ہمیں چار سو کلومیٹر کے سفر کے بعد مدائن صالح کے کھنڈرات دیکھے بغیر الٹے پاؤں لوٹنا پڑا۔
خیر کھنڈرات دیکھنا اتنا اہم نہیں بلکہ ان کھنڈرات سے وابستہ سبق سیکھنا، عبرت حاصل کرنا اور اس کے بعد اپنے اندر کچھ بہتری پیدا کرنا اصل چیز ہے۔ گو کہ ہم اس قوم کی تعمیرات کا براہ راست مشاہدہ نہ کر سکے تاہم اس پورے علاقے کی ہیبت اور وہاں پھیلی وحشت محسوس کیے بنا بھی نہ رہ سکے۔ وہ عذاب زدہ علاقہ تھا۔
اس قوم پر عجیب و غریب عذاب نازل ہوا۔ جب ثمود یوں نے اونٹنی کو مار ڈالا تو اس کے بعد اس کا بچہ چیختا چلاتا پہاڑ میں جا کر گم ہو گیا اور پھر اس قوم کو تین دن کا وقت دیا گیا کہ تین دن جتنی عیاشی کرنی ہے کر لو تین دنوں کے بعد تم پر عذاب آ جائے گا۔ ابن کثیر نے لکھا ہے کہ اس مہلت کے بعد پہلے دن تمام ثمود یوں کے چہرے زرد پڑ گئے، دوسرے دن ان کے چہرے آگ جیسے ہو گئے اور تیسرے یعنی مہلت کے آخری دن ان سب کے چہرے سیاہ ہو گئے اس کر بعد آسمان سے ایک زبردست چنگھاڑ آئی جس نے ان کے کلیجے پھاڑ دیے۔ ساتھ ہی زبردست زلزلہ آیا اور ایک ساعت میں سب کے سب تباہ ہو گئے۔
قرآن میں ان پر نازل عذاب کے لیے مختلف الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ صاعقہ، رجفہ، طاغیہ، صیحة ۔۔۔ ایک مقام پر رَجْفَہ،ُ (زلزلے) کا ذکر ہے، دوسرے مقام پر صَیْحَۃُ (چیخ) کا۔ تیسرے مقام پر صاعقہ (کڑک) ، طاغیہ بھی اونچی آواز کو کہتے ہیں۔ کڑک ، چیخ اور اونچی آواز ایک ہی جیسی چیزیں ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں پر دوہرا عذاب آیا تھا کیونکہ انھوں نے منہ مانگے معجزے کے بعد بھی نافرمانی کی۔ اوپر سے سخت چیخ اور نیچے سے زلزلہ۔ ان دونوں عذابوں نے انہیں تہس نہس کرکے رکھ دیا اور پہاڑوں میں تراشے گئے گھر ان کو نہ بچا سکے۔ یقینا یہ اللہ کا عذاب تھا جو ان قوموں پر آتا ہے جو اللہ تعالی کے رسولوں کی تعلیمات آجانے اور اللہ کی واضح نشانیاں دیکھنے کے بعد بھی اپنی اصلاح نہیں کرتیں اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتی ہیں۔
اس قوم نے اپنا منہ مانگا معجزہ اللہ سے طلب کیا، انھوں نے پہاڑ سے اونٹنی برآمد کرنے کو کہا تھا ۔۔
انہیں وہ دکھا دیا گیا، پہاڑ سے اونٹنی برآمد کر دی گئی۔۔۔
مگر اس کے بعد بھی وہ قوم اللہ کی طرف نہیں پلٹی تو اسے تباہ کر دیا گیا۔۔۔!
اسی طرح کا ایک مطالبہ ہم نے بھی اللہ سے کیا تھا۔۔۔
ہمیں بھی منہ مانگا معجزہ عطا کیا گیا۔۔۔
جب ہم نے کلمے کے نام پر ملک مانگا تھا۔۔۔
ہمیں ملک عطا کر دیا گیا۔۔۔
کیا ہم اللہ کی طرف پلٹے ؟؟
یہ مدائن صالح کے کھنڈرات کا سوال ہے جس پر ہم سب کو سوچنا ہے!

Comments

سید معظم معین

سید معظم معین

معظم معین پیشے کے اعتبار سے مہندس کیمیائی ہیں۔ سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ مشینوں سے باتیں کرتے کرتے انسانوں سے باتیں کرنے کی طرف آئے مگر انسانوں کو بھی مشینوں کی طرح ہی پایا، وفا مگر مشینوں میں کچھ زیادہ ہی نکلی۔ دلیل کے مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.