سروں کی فصل- عبدالقادر حسن

ویسے اگر دیکھا جائے تو ہم لوگ کرپشن نہیں بھی کرتے مگر اسے ہوتا دیکھ کر خاموش ضرور رہتے ہیں اور یہ بھی ایک جرم ہے کیونکہ کسی بدعنوان معاشرے میں اس کے خلاف جہاد کیے بغیر زندہ رہنا بذات خود ایک جرم ہے، اسی لیے تو ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ اگر برائی دیکھو تو اسے زبردستی ہاتھ سے روکو، ہاتھ سے نہ روک سکو تو اسے زبان سے برا بھلا کہہ کر روکو اور یہ بھی نہ کر سکو تو اسے دل سے برا جانو اور یہ صرف دل سے برا جاننا تمہارے ایمان کی کمزور ترین نشانی ہے۔

ہم میں سے جو ایسے کمزور ترین ایمان والے ہیں ان کو اس کی سزا ملے تو اس میں کیا حرج ہے۔ ایک مسلمان معاشرے میں کرپشن کی انتہا ہم سب کے کمزور ترین ایمان کی کھلی نشانی ہے۔ اگر کوئی یہ فتویٰ دے دے کہ پاکستان کا معاشرہ اس وجہ سے ایک غیر اسلامی معاشرہ ہے تو اس سے اختلاف بہت مشکل ہو گا۔

پاکستانی تو کیا پوری دنیا جانتی ہے کہ پاکستان بدعنوان اور کرپٹ ملکوں میں سر فہرست ہے، یوں تو کرپشن پوری دنیا میں ہے لیکن جہاں یہ مرض حد سے بڑھ جائے وہاں اس کا ایک فوری علاج زبردست آپریشن ہے اور دوسرا ان اسباب کو ختم کرنا ہے جو کرپشن کا سبب بنتے ہیں کیونکہ وسیع کرپشن کے ساتھ کوئی معاشرہ زندہ نہیں رہ سکتا۔ ایٹمی پاکستان بڑی حد تک بیرونی جارحیت سے محفوظ ہو گیا ہے اور اس کے دشمنوں کا لہجہ بدل گیا ہے لیکن جس ملک کے اندر پاکستان جتنی کرپشن موجود ہو اس کا زندہ سلامت رہنا اگر محال نہیں تو بے حد مشکل ضرور ہے۔ جب تک ہم اس اندرونی دشمن سے نجات نہیں پاتے اور اسے زیر نہیں کرتے تب تک بیرونی جارحیت سے سلامتی بے سود ہو سکتی ہے۔

اس گھر کے دشمن کے خلاف موجودہ حکومت نے جو کوششیں شروع کر رکھی ہیں ان کی تعریف نہ کرنا زیادتی ہو گی۔ حکومت کی بدعنوان عناصر کے خلاف کوششیں بار آور ثابت ہو رہی ہیں۔ ایک طرف ہمارے لیڈر اور اونچے لوگ بے نقاب ہو رہے ہیں تو دوسری طرف ان بڑے لوگوں کی صفائیاں دینے کے لیے ان کے ہرکارے سر گرم ہیں۔ چیخ و پکار اس عمل کی صداقت پر ثبوت کی مہر لگا رہی ہے کہ سچائی عوام کے سامنے آنے سے ہمارے یہ معززین بے نقاب ہو رہے ہیں۔ اس ملک کو لوٹنے میں کوئی بھی پیچھے نہیں رہا جس کے اثرات بدحال معیشت کی صورت میں عوام بھگت رہے ہیں۔

میں جب بدعنوان لوگوں کے بے نقاب ہونے کی خبریں دیکھتا پڑھتا ہوں تو اس کے باوجود کہ عمران خان ایک آئیڈیل حکمران نہیں لیکن یہ جو کچھ ہو رہا ہے اس کا کریڈٹ ان کی حکومت کو ہی جاتا ہے، اگر وہ اس روش پر چلتے رہے تو ہو سکتا ہے کہ احتساب کا سلسلہ ہمہ گیر ہو جائے اور جو لوگ اب تک بچے ہوئے ہیں وہ بھی سامنے آ جائیں اور پھر چلتے چلتے اصلی حکمرانوں کی باری بھی آ جائے۔ اگر نیت صاف ہے اور صاف ہی سمجھنی چاہیے اور احتساب کے ادارے پر نکتہ چینی کر کے اس کو متنارعہ بنانے کی کوششوں کی مذمت کی جانی چاہیے کہ ایک مدت کے بعد بدعنوان لوگوں کی بے نقابی کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔

اگر ہم کسی پارٹی اور کسی لیڈر کے نہیں بلکہ اس ملک کے وفادار ہیں تو ملکی سلامتی کے کسی عمل کو کمزور نہ کیا جائے۔ حکمرانوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے، ان سے ناپائیدار کوئی اور چیز نہیں لیکن یہ ملک ہمارا گھر ہے، ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس کے در و دیوار کو سلامت رکھنے کی ذمے داری ہماری اپنی ہے کیونکہ ہماری نجات اسی میں ہے۔

معصوم اور مایوس پاکستانی قوم کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ جو لوگ اس کا مال کھا گئے ہیں ان سے وصول کیا جائے۔ اگر قوم کی یہ آرزو پوری نہ کی گئی تو پھر یہ کشتی کے ان مسافروں کی قوم ہو گی جس کے پاس نہ چپو ہے اور نہ تیرنا آتا ہے، بس موجوں کے سپرد ہو گئی ہے۔ پاکستانی قوم ایک نیک دل اور معصوم قوم ہے، اس میں برداشت کی بے پناہ قوت ہے، اس نے ہمیشہ اپنے رہنماؤں پر اعتماد کیا ہے اور ان کو بھاری مینڈیٹ دیئے ہیں۔ تعریف اور تحسین میں کبھی کنجوسی نہیں کی، مال بھی حاضر کیا ہے اور جان بھی دی ہے لیکن اس کو جواب میں دھوکہ ہی ملا ہے۔ اس کی تاریخ حکمرانوں کے دھوکوں اور فریبوں سے بھری پڑی ہے۔ اس کے ثبوت کے لیے کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہے۔

پاکستانیوں کے دلوں میں اگر کسی طبقہ کے خلاف انتہا کی نفرت اور حقارت کے جذبات موجزن ہیں تو وہ کرپٹ سیاستدانوں کا طبقہ ہے جن کے لیے قوم کسی غیر سیاسی حکمران کی نہیں، کسی جلاد کی راہ دیکھ رہی ہے۔ حجاج بن یوسف کے وہ مشہور الفاظ یاد آتے ہیں کہ ’’میں دیکھ رہا ہوں سروں کی فصل پک چکی ہے اور اس کے کاٹنے کا وقت آ گیا ہے‘‘۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com