کیا سگریٹ پینے والے افراد خون کا عطیہ دے سکتے ہیں؟

خون کا عطیہ دینا کسی کی زندگی بچانے میں مدد دے سکتا ہے۔تاہم ایسے افراد جو نکوٹین یا یوں کہہ لیں کہ سگریٹ نوشی کرتے ہیں، وہ اکثر سوچتے ہیں کہ وہ خون کا عطیہ دے سکتے ہیں یا نہیں۔ہسپتالوں اور طبی مراکز میں عطیہ شدہ خون کو مختلف امراض کے علاج کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

عطیہ شدہ خون سنگین زخموں، آپریشن، خون کی کمی، کینسر اور دیگر امراض کے شکار افراد کو مدد فراہم کرسکتا ہے۔تو اگر آپ کو یہ سوال پریشان کرتا ہے تو جان لیں کہ سگریٹ پینے والے افراد خون عطیہ کرسکتے ہیں یا نہیں۔اگر کوئی فرد سگریٹ یا ای سگریٹ استعمال کرتا ہے تو اسے خون کے عطیے کے لیے نااہل نہیں قرار دیا جاتا۔

تاہم سگریٹ میں موجود تمباکو نقصان دہ کیمیکلز سے بھرپور ہوتا ہے جو کسی فرد کے خون کو متاثر کرسکتے ہیں۔امریکن لنگ ایسوسی ایشن کا دعویٰ ہے کہ ایک سگریٹ کو جلانے سے 7 ہزار سے زائد کیمیکلز بشمول کاربن مونوآکسائیڈ، امونیا اور آرسینک وغیرہ بنتے ہیں اور ان میں سے بیشتر کیمیکلز زہریلے ہوتے ہیں اور 69 کو کینسر کا باعث بھی سمجھ جاتا ہے۔

نکوٹین کے علاوہ ای سگریٹ میں دیگر نقصان دہ مواد بھی ہوسکتے ہیں۔

ای سگریٹ پینے کے عادی افراد میں خون کس حد متاثر ہوتا ہے، اس حوالے سے فی الحال زیادہ معلومات دستیاب نہیں اور یہ ذہن میں رہے کہ ای سگریٹ اور عام سگریٹ دونوں سے بلڈ پریشر میں اضافہ ہوتا ہے۔امریکن ریڈ کراس کے مطابق ایسے افراد خون کا عطیہ دے سکتے ہیں جن کا بلڈ پریشر 91/50 ایم ایم ایچ جی اور 80/100 ایم ایم ایچ جی ہو۔

2018 کی ایک تحقیق میں محققین نے تمباکو نوشی اور اس عادت سے دور رہنے والے افراد کے خون کے نمونوں کا موازنہ کیا اور بتایا کہ سگریٹ پینے سے عطیہ شدہ خون کا مجموعی معیار متاثر نہیں ہوتا۔

تاہم محققین نے بتایاکہ تمباکو نوشی کے عادی افراد کی جانب سے دیا جانے والے خون کے سرخ خلیات میں carboxyhemoglobin کی سطح زیادہ ہوتی ہے اور سی او ایچ بی اس وقت خون کے سرخ خلیات میں کاربن مونوآکسائیڈن کے نتیجے میں بنتا ہے جس سے آکسیجن کی سطح میں کمی کا عندیہ ملتا ہے۔

نتائج کو مدنظر رکھتے ہوئے محققین نے خون کا عطیہ دینے سے 12 گھنٹے پہلے سے عطیہ دینے تک تمباکو نوشی سے گریز کا مشورہ دیا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com