افغان مفاہمتی عمل کے لیے بامقصد رابطوں کا دوبارہ آغاز؟ قادر خان یوسف زئی

امریکہ کے تہوار 'تھینکس گونگ' کے موقع پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ اچانک غیر اعلانیہ دورے پر افغانستان پہنچے تھے جہاں انہوں نے بگرام ایئربیس پر امریکی فوجیوں کے ساتھ وقت گزارا تھا۔افغان صدر اشرف غنی نے بھی بگرام ایئر بیس پر صدر ٹرمپ سے ملاقات کی تھی۔فوجیوں سے خطاب کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ''ہم طالبان سے ملاقات کر رہے ہیں۔ اور ہم کہتے رہے ہیں کہ جنگ بندی کی جائے۔ اور وہ جنگ بندی نہیں چاہتے تھے۔ لیکن اب وہ جنگ بندی پر تیار ہیں۔ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں دعویٰ کیا کہ حالیہ مہینوں کے دوران امریکہ کی شدید کارروائیوں کے بعد طالبان معاہدے پر تیار ہوگئے ہیں۔تاہم افغان طالبان نے امریکی صدر کے دعوے کو سختی سے مسترد کیا۔صدر ٹرمپ کے دورہ افغانستان کے دوران اُن کے ہمراہ قائم مقام چیف آف اسٹاف، پریس سیکرٹری اور قومی سلامتی کے مشیر بھی تھے۔ ڈونلڈ ٹرمپ صدر بارک اوبامہ کے بعد افغانستان آنے والے دوسرے امریکی صدر ہیں۔ صدر ٹرمپ اپنے دور اقتدار میں پہلی بار افغانستان کے غیر اعلانیہ دورے پر آئے۔

2014کے بعد امریکی صدر کا دورہ افغانستان خصوصی اہمیت کا حامل اس لئے قرار پایا، کیونکہ صدر ٹرمپ نے افغان طالبان سے دوبارہ مذاکرات شروع ہونے کا اعلان کیا۔امریکی صدر ستمبر2019میں ایک برس تک اعصاب شکن دوحہ مذاکرات کے حتمی مرحلے پر دستبردار ہوگئے تھے اور مذاکرات کو مُردہ قرار دے دیا تھا۔ نیز امریکی صدر نے افغانستان پر قبضے کے لئے بھیانک حملے کی بھی دھمکی دی تھی کہ اگر امریکا چاہے تو وہ ایک کروڑ انسانوں کو ہلاک کرکے افغانستان پر قبضہ کرسکتا ہے۔

کیمپ ڈیوڈ میں افغان طالبان کی تصدیق کے بغیر غنی انتظامیہ سے مذاکرات کرانے کا خواب امریکی صدر و اسٹیبلشمنٹ ناقابل توقع ثابت ہوئی تھی۔ امریکی صدر و اسٹیبلشمنٹ کے درمیان اختلافات کے سبب صدر ٹرمپ نے افغان تنازع کے حل نکالنے کے لئے امریکی اسٹیبلشمنٹ کو آگے کردیا کہ وہ 19برسوں میں کامیاب نہیں ہوسکے تو اب کامیابی حاصل کرکے دیکھادیں۔ لیکن امریکی اسٹیبلشمنٹ نے تمام تر کوششوں کے باوجود افغان صدارتی انتخابات میں عوامی حمایت حاصل کرنے میں ناکامی کو دیکھا۔

صدارتی امیدواروں نے پورے صدارتی انتخابی عمل پر عدم اعتماد کا اظہار کردیا۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے پہلے ڈیٹا منتقلی میں سنگین غلطیاں سامنے آئی تو بعدازاں دیٹا منتقلی کے لئے دوسرے ذرائع استعمال کرنے کے سبب نتائج میں تبدیلی کے الزامات عائد ہوئے۔ اس کے بعد بھی بالاآخر افغانستان الیکشن کمیشن نے صدارتی انتخابات کے نتائج کا اعلان غیر معینہ مدت تک معطل کردیئے۔صدارتی امیدواروں کو خدشات ہیں کہ ماضی کی طرح ایک مرتبہ پھر امریکی منشا کے مطابق کابل انتظامیہ کا ڈھانچہ بنایا جائے گا۔

افغانستان کے صدر اشرف غنی انتخابات کے غیر معینہ مدت تک نتائج کے اعلان نہ ہونے کے سبب مسند اقتدار پر ہیں، جس سے افغانستان میں سیاسی نظام پنپ نہیں رہا اور خفلشار بدستور قائم ہے۔ افغان طالبان کی جانب سے افغا ن سیکورٹی فورسز کے حملوں سے قطع نظر افغانستان میں کمزور ترین سیاسی نظام ہے۔ جس سے امریکی اسٹیبلشمنٹ بخوبی آگاہ ہے۔ صدارتی انتخابات میں امریکا کی توقعات پوری نہیں ہوئی۔ افغان طالبان اپنے موقف پر قائم رہے،یہاں تک کہ اس وقفے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے اپنے اہم رہنماؤں کو رہا کروالیا۔

قیدیوں کے اس تبادلے سے اس بات کی امید پیدا ہو گئی تھی کہ امریکا، ایک بار پھر افغان طالبان سے مذاکرات کے لئے راہ ہموار کررہا ہے۔ اور بالاآخر 28نومبرکو امریکی صدر کے دورہ افغانستان میں مُردہ مذاکرات کو دوبارہ زندہ کرنے کے لئے اعلان کرنا پڑا۔ افغان طالبان نے بامقصد مذاکرات کے لئے کبھی انکار نہیں کیا تھا لہذا افغان طالبان کا بڑا واضح و نمایاں موقف سامنے آگیا کہ افغان طالبان مذاکرات کا سلسلہ وہیں سے دوبارہ جوڑ رہے ہیں جہاں سے امریکی صدر نے توڑا تھا۔

افغان طالبان کی جانب سے سرد مہری کے بجائے مذاکرات کے سلسلے کو دوبارہ جاری کرنے سے توقع ہے کہ امریکا، دوحہ مذاکرات میں طے پانے والے معاہدے پر دستخط کے لئے تیار ہوجائے گا۔ گوکہ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ افغان طالبان پہلے جنگ بندی کریں، جس پر پہلے ہی افغان طالبان کا بیان آچکا ہے کہ امریکا کے دوحہ مسودے پر دستخط کرنے کے بعد جنگ بندی اور بین الافغان امن مذاکرات کا دوسرا دور کا آغاز کردیا جائے گا۔ دوحہ معاہدہ صرف امریکی صدر کی توثیق کا منتظر ہے۔ جس کے بعد افغانستان میں سیاسی نظام کی بحالی سمیت اہم امور پر افغان عوام کے اسٹیک ہولڈرز سے با مقصد آغاز بھی ہونے کی توقع ہے اور جنگ بندی کے بغیر افغان طالبان تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ عوام کو بھی اعتماد میں نہیں لے سکتے کہ اب امریکا کے ساتھ معاہدے پر دستخط کے بعد کوئی جواز نہیں بنتا کہ جنگ بندی نہ کی جائے۔

افغانستان میں اس وقت ایک طرح سے عبوری حکومت قائم ہے جس کا کوئی مستقبل نظر نہیں آرہا، اگر امریکی صدر اپنے انتخابی وعدے کو پورا کرنا چاہتے ہیں تو انہیں دوحہ مذاکرات کے بعد طے پانے والے مسودے پر دستخط کرنے کی تیاری شروع کردینی چاہیے۔ افغانستان کے انتخابات واضح طور ملکی تاریخ کے کم ترین ٹرن آؤٹ پر مشتمل ہیں اس لئے ان انتخابات کو افغان عوام کی مکمل نمائندگی قرار نہیں دیا جاسکتا۔مسودے پر دستخط کے بعد افغانستان میں سیاسی نظام کے حوالے سے اتفاق رائے کے بعد افغان عوام کی منشا کے مطابق حکومت کا انتظام و انصرام عمل میں لانے کے بعد عوامی رائے عامہ کے لئے تمام افغان عوام اپنااظہار کا حق استعمال کرسکیں گے۔ چونکہ صدارتی انتخابات میں 60فیصد کے کم و بیش علاقوں میں انتخابی عمل مکمل ہی نہیں ہوا بلکہ بیشتر علاقوں میں انعقاد ہی نہیں ہوسکا اس لئے افغا ن امور کے ماہرین کا بھی یہی خیال ہے کہ موجودہ صدارتی انتخابات کی آئینی حیثیت مشکوک ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں سعودی عرب کہاں کھڑا ہے؟

اگر امریکی صدر، افغان طالبان سے معاہدے میں مزید تاخیر کریں گے تو اس سے افغانستان میں داخلی انتشار میں مزید اضافہ ہوگا۔ امریکی تاریخ کی طویل ترین جنگ کا اختتام بالاآخر مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ مذاکرات کے بغیر کوئی جنگ ختم نہیں ہوتی۔ فریقین کے درمیان دو دہائیوں سے بدترین جنگ جاری ہے، لیکن اس کا اختتام مذاکراتی عمل نے ہی کرنا تھا، لیکن مثبت مذاکرات کو عین وقت پر ختم کرنے سے فریقین میں عدم اعتماد کی فضا میں اضافہ ہوا۔ جس کی بحالی کے لئے بیک ڈور چینل کے ذریعے رابطہ کار و سہولت کاروں نے اہم کردار ادا کیا اور سرد مہری کے خاتمے کی کوششیں رنگ لائی اور امریکہ کے تہوار 'تھینکس گونگ' کے موقع پر امریکی فوجیوں کے دلاسے و حوصلے بڑھانے کے لئے امریکی صدر نے جنگ کے خاتمے کے لئے اپنے موقف سے یو ٹرن لے لیا۔

لبنانی نژاد امریکی خاتون رولا غنی جو اشرف غنی کی اہلیہ غیر مسلم خاتون (عیسائی) ہیں، وہ ان دنوں کے دوران امریکہ میں ہیں،15 نومبر کو امریکہ کے پیس انسٹی ٹیوٹ (یو ایس آئی پی) کے زیر اہتمام ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی صورتحال کے بارے میں جس طرح کی خبریں پھیلائی جارہی ہیں وہ سچ نہیں ہے، ان کے بقول ایسی خبروں کی اشاعت سے افغانستان میں غیرملکی فوجیوں کی قربانی رائیگاں جانے کا خدشہ ہے۔انہوں نے کہا ''طالبان افغانستان کے آدھے حصے پر ہرگز حاکم نہیں ہیں، وہ صرف 12 اضلاع پر کنٹرول رکھتے ہیں جبکہ افغانستان کے تمام 364 اضلاع ہیں۔”کابل انتظامیہ کے سربراہ اشرف غنی نے بھی گذشتہ روز کابل میں خواتین کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ طالبان کو معلوم ہونا چاہئے کہ ایک کمزور حکومت کے ساتھ ان کی جنگ نہیں ہے، وہ کبھی بھی طالبان کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالیں گے“۔

رولا غنی کی امریکا میں سیاسی لابنگ اورکابل انتظامیہ کے سربراہ اشرف غنی کے بیانات امن کے لئے سازگار ماحول کے لئے مناسب نہیں سمجھے جارہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ فریقین کو اس مرحلے پر صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ امریکا اور افغان طالبان کے درمیان جنگ کا خاتمہ اس وقت افغانستان کی عوام کی اشد ضرورت ہے۔ طویل ترین جنگ کے بعد کئی عشرے انفرا اسٹرکچر کی بحالی پر لگیں گے۔ جس کے لئے افغانستا ن کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے لئے طویل مدت درکار ہوگی۔ امریکا نے افغانستان پر حملے کے بعد پورے ملک کا انفرا سٹرکچر تباہ کردیا ہے۔ امریکا کی منظور نظر کابل حکومت، افغانستان میں ترقیاتی کاموں سمیت عوام کی بدحالی و بے روزگاری سمیت معاشی مسائل حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

افغانستا ن میں عوامی حالت زار کے حوالے سے اے ایل سی ایس نامی یہ جائزہ رپورٹ جاری ہوئی ہے ، جس کے مطابق ملک کی آدھی سے زیادہ آبادی قومی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے جس 2011 اور 2012 کے بعد سے فلاح و بہبود کے کاموں میں شدید تنزلی کی نشاندہی ہوتی ہے۔اے ایل سی ایس نامی یہ جائزہ رپورٹ سن 2014 میں بین الاقوامی فورسز کی جانب سے ملک کی سیکیورٹی کی ذمہ داریوں کی افغان نیشنل آرمی کو منتقلی کے بعد افغان عوام کی فلاح و بہبود کا پہلا تخمینہ پیش کرتی ہے۔گزشتہ پانچ سال کے دوران افغانستان میں غربت میں ہونے والا نمایاں اضافہ غیر متوقع نہیں ہے۔

غربت میں نمایاں اضافہ معاشی ترقی کے جمود اور آبادی کے بڑھتے ہوئے دباؤ اور سیکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورت حال کے مشترکہ اثرات کا نتیجہ ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عشروں سے جاری تنازعات اور عدم استحکام نے افغان معاشرے کے لیے پیچیدگیاں پیدا کر دی ہیں جس کی معیشت پہلے سے ہی زبوں حالی کا شکار ہے“۔رپورٹ کے مطابق افغانستان سے بین الاقوامی فوجی دستوں کی واپسی 2012 میں شروع ہوئی جس کی وجہ اس امداد میں بھی کمی آئی جس کا تعلق سیکیورٹی اور شہری آبادی سے تھا۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ غیر ملکی فوجی انخلا سے معاشی سرگرمیوں کی سطح میں نمایاں کمی واقع ہوئی اور مقامی سطح پر چیزوں کی مانگ بھی کم ہوئی۔ 2012 کے بعد سے سیکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورت حال نے صارف اور سرمایہ کار دونوں کے اعتماد میں متزلزل کیا جس سے معاشی دھچکہ مزید نمایاں ہوا۔رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اقتصادی ترقی کی شرح جو 2011 اور 2012 میں 9 اعشاریہ 4 فی صد تھی 2013 اور 2016 کے عرصے میں 2 اعشاریہ 1 فی صد تک گر گئی۔حالیہ برسوں میں افغانستان کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہوا جس سے غریبی کی شرح کو مزید بڑھ گئی ہے۔

افغانستان میں امن بحالی کے حوالے سعودی عرب اور ایران اہم کردار ہیں۔ سعودی عرب میں افغانستان کے سفیر سید جلال کریم نے افغان حکومت اور اور طالبان کے مابین براہ راست مذاکرات پر اصرارکرتے رہے ہیں کہ امن مفاہمتی عمل کا حتمی معاہدہ مکہ معظمہ میں ہونا چاہیے۔ افغان سفیر قطر کی میزبانی پر تحفظات کا اظہار تو کرتے ہیں لیکن اس بات کو نظر انداز کردیتے ہیں کہ قطر میں سیاسی دفتر، امریکا کی خواہش پر ہی کھولا گیا تھا، امریکا نے سیاسی حل کے لئے قطر کی میزبانی کو ہمیشہ سراہا ہے۔ اس وقت سعودی عرب اور قطر کے درمیان تعلقات کی نوعیت کشیدہ بھی نہیں تھی۔ تاہم ایران کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   اشاروں سے کہانی مکمل کریں - ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

سعودی عرب جدیدیت پسندی کی جانب بڑھ رہا ہے اور سعودی انتظامیہ نے ماضی کے موقف کے برعکس امریکا کے بیانیہ کی حمایت کرتے ہوئے افغان طالبان کو جنگ بندی سمیت کئی معاملات میں ڈکٹیشن دی تھی، یہاں تک کہ علما ء کا ایک بڑا اجتماع بھی منعقد کرایا گیا جس میں افغان طالبان پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ افغانستان میں امریکا کے خلاف جنگ سے ختم کرکے کابل حکومت کے ساتھ مذاکرات کریں، لیکن افغان طالبان نے سعودی حکومت کی ہدایات و اقدامات پر ناراضی کا ظہار کیا اور ایران کے ساتھ اپنے تعلقات بڑھانے شروع کردیئے۔جس سے سعودی عرب کی ناراضی میں اضافہ ہوا۔ امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے دوحہ مذاکرات مُردہ قرار دیئے جانے کے بعد افغان طالبان کا وفد دو مرتبہ ایران کا باقاعدہ دورہ کرچکا ہے۔

افغان حکومت کا موقف رہا ہے کہ حکومت اور افغان طالبان کے مابین براہ راست مذاکرات ہوں۔ریاض میں افغان سفیر نے کہا کہ افغان حکومت مصالحتی عمل میں سعودی عرب کا کلیدی کردار ادا کرنا چاہتی ہے۔ افغانستان کے صدر صدر اشرف غنی کی ہدایت پر بات چیت کو حتمی شکل دینے اور مکہ میں حکومت اور طالبان کے مابین مفاہمت کے آخری معاہدے پر دستخط کرنا چاہئیں۔لیکن اس کے لئے افغان طالبان کے اپنے تحفظات بھی ہیں جنہیں دور کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان اس حوالے سے سہولت کاری کا کردار ادا کررہا ہے اور اس ضمن میں ایران اور سعودی عرب کے ساتھ رابطوں میں ہے۔

نیزافغان مفاہمتی عمل میں روس اور بالخصوص چین کے ساتھ بہتر تعلقات کے سبب پاکستان اہمیت کا حامل ہے۔ امریکی صدر نے گذشتہ دنوں ایک مرتبہ پھر بھارت کو افغانستان میں اپنا کردار بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا، لیکن اہم امر یہ ہے کہ امریکا، پاکستان سے افغان مفاہمتی عمل پر کردار ادا کرنے لئے بہت زیادہ توقعات بھی رکھتا ہے، دوحہ مفاہمتی عمل کے مُردہ ہونے کے بعد نیٹو سمیت کئی امریکی اعلیٰ حکام سمیت امریکی صدر کے خصوصی معاون زلمے خلیل زاد پاکستان کے دورے کرچکے ہیں، پاکستان نے اپنے موقف کا اعادہ کیا ہے کہ افغانستان کی جنگ کا حل مذاکرات ہے، بامقصد حل کے بغیر افغان مفاہمتی عمل کامیاب نہیں ہوسکتا، اسی طر ح پاکستان نے افغان عوام کے مینڈیٹ کو بھی تسلیم کیا ہے کہ افغان عوام کا بنیادی حق ہے وہ کس قسم کا نظام چاہتے ہیں، پاکستان اس حوالے سے غیر جانب دار ہے۔

پاکستان کی جانب سے خطے میں امن کے لئے مثبت کوششوں کو امریکی اور غنی انتظامیہ کی جانب سے سبوتاژ کردیا جاتا ہے۔ حال ہی میں امریکا کے تحقیقاتی ادارے میں کے امریکی دفتر خارجہ کی اہلکار نے پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی راہداری کے 60 ارب ڈالرز مالیت کے کئی پراجیکٹس پر مشتمل منصوبے سی پیک کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا، جس پر پاکستان اور چین نے شدید ردعمل دیا اور امریکی اہلکار کی تنقید کو مسترد کیا۔ امریکی اہلکار اس سے قبل بھی پاکستان پر کالعدم تنظیموں کے حوالے سے بیان بازیاں کرکے امریکا اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں رخنہ پیدا کرنے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔

ایلس ویلز کے سی پیک کے حوالے سے تنقید کرنا، امریکا کی تجارتی پالیسی کا ایک ایسا تسلسل ہے جس میں چین کے عظیم منصوبے کو ناکام بنانا شامل رہا ہے۔ امریکا اس سے قبل کئی مواقع پر سی پیک روٹ، تو کبھی تجارتی سرمایہ کاری کے حوالے سے بیانات دے چکا ہے، امریکا اس بات کو بھی اچھی طرح جانتا ہے کہ سی پیک کے دوسرے فیز کے بعد افغانستان میں امن بحالی کا سب سے زیادہ فایدہ افغان عوام کو ہوگا۔ چین افغانستان میں قیام امن کے لئے کوشاں ہے۔ لیکن امریکا اور چین کے درمیان تجارتی جنگ کی کشیدگی کی وجہ سے بھی افغانستان میں افغان مفاہمتی عمل کو مکمل ہونے سے کئی رکاؤٹیں پیدا ہونے کا امکانات بڑھتے جارہے ہیں۔

غنی انتظامیہ اس وقت امریکی افواج کی موجودگی سمیت افغان طالبان سے مذاکرات میں اپنی موجودگی کو یقینی بنانا چاہتی ہے لیکن افغان طالبان اب بھی غنی انتظامیہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے حق میں نہیں ہیں، لیکن افغان طالبان اس بات کی یقین دہانی ضرور کراچکے ہیں کہ امریکا اگر دوحہ مزاکرات پر دستخط کرکے عمل درآمد شروع کردیتا ہے تو بین الافغا ن مذاکرات میں حکومتی اہلکار، اپنی ذاتی حیثیت میں شریک ہوسکتے ہیں، جیسا کہ دوحہ میں شریک ہوچکے ہیں۔اس موقع پر کہ امریکی صدر نے اپنی جانب سے دوحہ مذکرات کو مُردہ کردیا تھا اب دوبارہ زندہ ہونے کے خواہش مند ہیں تو انہیں دوحہ مذاکرات کے تسلسل کو دوبارہ شروع کرنے پر عمل کا اعلان کردینا چاہیے۔

ان کے لئے یہ اہم اس لئے بھی ہے کہ امریکی کانگریس میں ان کے خلاف مواخذے کے تحریک میں سخت فیصلہ آنے کی توقعات بھی ہیں نیز 2020میں صدارتی انتخابات میں صدر ٹرمپ کو اپنے پالیسی منشور پر پیش رفت میں ناکامی پر عوامی مقبولیت میں کمی کا بھی سامنا ہے۔ صدر ٹرمپ کے صدارتی انتخابات میں کامیابی کے امکانات بمشکل ہیں، تاہم افغان مفاہمتی عمل طے کرانے کا کریڈٹ ضرور لے سکتے ہیں اس کے لئے انہیں اپنے رویئے کو لچک دار کرنا ہوگا۔ افغان طالبان کو بھی افغانستان میں پائدار امن کے لئے عوامی مشکلات کو مد نظر رکھنا انتہائی ضروری ہے کیونکہ جنگ سے امن سب کے حق میں بہتر ہے۔