عالمی اردو کانفرنس میں بلوچ اردو شعرا کی نمائندگی -گہرام اسلم بلوچ

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام 5 سے 8 دسمبر بارھویں عالمی اردو کانفرنس منعقد کی جا رہی ہے۔ اس بار عالمی اردو کانفرنس میں پاکستان کے تمام بڑی بڑی بولی جانی والی زبانوں کی نمائندگی کو یقینی بنانے اور قومی یکجہتی کو مد نظر رکھ کر آرٹس کونسل آف پاکستان (کراچی) کے انتظامیہ اور خاص طور پر صدر جناب احمد شاہ صاحب نے بھرپور کوشش کی۔ آرٹس کونسل آف پاکستان اور اس کی اس مثبت سوچ کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ اس مثبت سوچ کو ادبی سرکلوں میں خوب سراہا جا رہا ہے۔

کانفرنس میں شرکت بلوچ شعرا کے لیے بھی بہت بڑا اعزاز ہے۔ دبستان ارود کے بلوچ شعرا نے اردو کو ترک کیا۔ ان کو پھر سے اکٹھا کرنا ہی اصل کام ہے۔ پاکستان کے تمام صوبوں اور بسنے والی اقوام کے شعرا اور فنکاروں کو نمائندگی دینا اہم ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ماضی کے رویوں پہ نظرثانی کی گئی، جن کی وجہ سے اردو میں شاعری کرنے والے بلوچ شعرا کو سلسلہ ترک کرنا پڑا۔

اس بار عالمی اردو کانفرنس کی اپنی نوعیت کی خاص بات یہ تھی کہ پہلی بار بلوچستان کے دبستان اردو کے بلوچ شعرا کو موقع دیا گیا۔ افضل مراد بلوچستان سے تعلق رکھنے والے بلوچی، براہوی اور اردو کے بڑے شاعر اور 28 کتابوں کے مصنف ہیں۔ اے آر داد صاحب جامعہ بلوچستان میں شعبہ بلوچی میں درس وتدیس سے وابستہ ہیں، نقاد ہیں اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔ اردو اور عالمی فکشن کی کئی کتب کے تراجم کرچکے ہیں۔ ڈاکٹر غفور شاد صاحب ریسرچ اسکالر ہیں اور جامعہ تربت میں شعبہ بلوچی کے اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ وحید نور بلوچ خود شاعر ہیں اور انسانی حقوق کا کارکن ہونے کے ساتھ شعبہ وکالت سے وابستہ ہیں۔ پروگرام کی نظامت کے فرائض نوجوان شاعر عمران ثاقب نے انجام دیے۔

مذاکرے میں بتایا گیا کہ بلوچوں کے یہاں فارسی اور اردو گوئی کی اچھی روایت موجود تھی۔ خوش بختی کی بات یہ ہے کہ بلوچستان میں اردو دبستان کے حوالے سے پہلے شاعر بھی بلوچ ہیں۔ پشتون علاقے میں بھی بڑی اچھی روایت ہے پہلا مجلہ اُن کے ہاں تعلق ہے۔ لورالائی میں شاعری اور مشاعرے کی روایت برقرار ہے۔

ملا محمد حسن بنگلزئی فارسی اور اردو کے معروف شاعر ہیں۔ 1855ء کے زمانے میں، خاص طور پر کوئٹہ کے ناقدین، انھیں ولی دکنی کا ہم عصر کہتے ہیں۔ ملا محمد حسن نے اپنی زندگی میں اپنا دیوان مرتب کیا تھا، مگر انعام الحق قاسمی صاحب نے مجلس ترقی ادب کی طرف سے اسے شائع کیا۔ زبان و بیان کے حوالے سے وہ استعارے کے شاعر ہیں۔


منظر تیرے قدم کا ہے سخن در بوستاں

گل ہے بلبل ہے چمن ہے سفر ہے گلزار ہے

او شیریں تیرے دو لب کے برابر شکر نہیں

مہقہ تیرے مساوی یہ شمس و قمر نہیں


اردو میں شاعری کرنے پہ کوئی پابندی نہیں تھی جو ہم سمجھتے تھے۔ جس زبان میں ہم اپنے خیالات کی بہتر ترسیل ممکن ہو، فکر و نظریے کا جس سے اظہار ہو سکتا ہو، اسی میں شاعری کی جا سکتی ہے۔ دو سو سال سے بلوچستان کے شعرا اس روایت کو برقرار رکھے آ رہے ہیں۔ ملا محمد حسن، یوسف عزیز مگسی، گل خان نصیر اور عطا شاد تک، اردو شاعری میں جدت، وطن دوستی اور اپنی مٹی سے پیار کا اظہار ملتا ہے۔

عطاء شاد اور گل خان نصیر کے ہاں جبر کے خلاف اور روشن خیالی پہ مکالمہ ہے۔ شاد نے ایک نسل کو متاثر کیا ہے۔ وہ جانے کتنی مدت سے میرے شہر کے بچوں کو نیند بھی نہیں آئی، کہہ کر حالات کی عکاسی کرتے ہیں۔


کوہساروں کی عطا رسم نہیں خاموشی

رات سو جائے تو بہتا ہوا چشمہ بولے

میرا وطن کا ایک کٹورا پانی سوسال وفا ہے

آو ہم بھی پیاس بُجھائیں زندگیوں کا سودا کر لیں


بلوچستان کی فارسی سے قربت کی وجہ سے غنائیت قومی ورثہ ہے۔ غنائیت کا حوالہ یوں بھی کہ ہمارے ہاں قبائلی نظام میں بعض لوگ بہت اہم ہوا کرتے تھے۔ ایک طرف سردار بیٹھتا تھا اور دوسری طرف ملا جو دانشور ہوتے تھے، مشاورت کرتے تھے۔ مثلا شادی، خوشی غمی، قبائلی فسادات میں کلاسیکل شاعری کے ذریعے حظ اٹھایا جاتا ہے۔

بلوچ شعرا اور فنکاروں نے نہ صرف اردو میں خاموشی سے شاعری کی، بلکہ عطا شاد سمیت کئی شاعروں نے اردو زبان کو استعارے دیے ہیں۔ مگر ستم ظریفی یہ کہ بلوچ شعرا جو اردو زبان میں شعر کہتے تھے، اپنے ساتھ اچھا رویہ نہ برتے جانے کی وجہ سے اپنی زبان کی طرف واپس آ گئے۔ حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان میں صلاحیت، اور ادب کے میدان میں تحقیق اور تخلیق کی کوئی کمی نہیں ہے، ان کی مایوسی دور ہو تو وہ آج بھی کارہائے نمایاں انجام دے سکتے ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ بلوچ شعرا و ادبا کو موقع فراہم کیا جائے۔ عطا شاد اردو کے بہت بڑے شاعر تھے لیکن انھیں مسلسل کہا گیا کہ کوئٹہ کے شاعر ہیں۔ یوں انھیں محدود کر دیا گیا۔ بلوچستان میں ٹیلنٹ موجود ہے، اسے فورم کی فراہمی درکار ہے۔

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی نے بلوچستان کے شعرا کو ایک موقع دیا، ان کا سیشن ایک یادگار رہا۔ منتظمین و مندوبین نے محسوس نہیں ہونے دیا کہ آپ کوئٹہ کے شعرا ہیں بلکہ یہ پیغام ملا کہ ہم اردو کے بڑے شعرا کے پروگرام میں شریک ہیں۔ بلوچ شعرا نے اس موقع کو غنیمت جانا اور اپنا لوہا منوایا۔ اگر ان کو اسی طرح پلیٹ فارم میسر رہت تو وہ اردو شاعری میں اپنی انفرادیت منوائیں گے۔

سیشن کے اختتام میں پاکستان کے مایہ ناز سینئر صحافی حامد میر اور ہیومن رائٹس کمیشن آپ پاکستان کے حارث خلیق نے اپنے تاثرات میں کہا کہ ہم بلوچوں سے اس لیے محبت کرتے ہیں کہ وہ روشن خیال اور ترقی پسند ادب کے ساتھ اپنے مٹی کو بھی یاد کرتے ہیں۔ میر صاحب نے اپنے پروگرام '' کیا اردو ادب اور صحافت زوال کا شکار ہے؟'' میں عمران ثاقب کی ایک غزل کو تین مرتبہ دہرایا اور کہا کہ ہم جو یہاں بات کر رہے ہیں، یہ باتیں باہر دوسروں تک پہنچانے کے لیے اس طرح کی شاعری کی ضرورت ہے۔