سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی نصیحتیں- محمد ریاض علیمی

حضر ت سیدنا شیخ عبدالقادر جیلا علیہ الرحمہ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ آپ یکتائے زمانہ ولی کامل تھے۔ آپ ولیوں کے امام تھے۔ آپ محض صاحب کرامت بزرگ نہیں تھے بلکہ اپنے زمانے کے متقی پرہیز گارعالم باعمل اور صوفی باصفا تھے۔ ظاہری و باطنی علوم کے ماہر تھے۔ مخلوق خدا آپ کی مجالس میں بیٹھ کر اپنی روحانی غذا حاصل کرتی تھی۔ آپ کے وعظ مخلوق خدا کے قلوب کو جلا بخشتے تھے۔ آپ کے چند ارشادات اور نصیحتیں مندرجہ ذیل ہیں۔

غرور کی مذمت:

آپ نے فرمایا: ’’کسی عمل پر مغرور مت ہو کیونکہ اعمال کا اعتبار خاتمے پر ہے۔ اللہ تعالیٰ سے یہ درخواست کرو کہ وہ تمہارا خاتمہ بخیر فرمائے اور اس عمل پر تمہاری روح قبض فرمائے جو اس کو سب سے زیادہ پیارا ہو‘‘۔

سچ کی تلقین:

آپ علیہ الرحمہ ہمیشہ سچ کی تلقین فرماتے تھے۔ آپ نہ صرف تلقین فرماتے تھے بلکہ خود بھی اسی پر عمل پیرا ہوتے تھے۔ یہاں تک کہ آپ علیہ الرحمہ نے بچپن میں اپنے عمل سے بھی سچ بولنے کی ایک بہت بڑی مثال قائم کی تھی جس کی بدولت ڈاکوؤں کا ایک بہت بڑا گروہ تائب ہوکر نیک راستے پر گامزن ہوگیا تھا۔ سچ کے متعلق آپ نے فرمایا: ’’تم پر افسوس ہے کہ لوگوں کو سچ بولنے کا حکم دیتے ہو اور خود جھوٹ بولتے ہو۔ ان کو توحید کا سبق دیتے ہو اور خود مشرک بنے ہوئے ہو، اس کو اخلاص کی تلقین کرتے ہو اور خود ریاکار منافق بنے ہوئے ہو، ان کو گناہوں سے بچنے کا حکم دیتے ہو اور خود ان کے مرتکب ہوتے ہو ، تمہاری آنکھوں سے شرم اٹھ گئی ہے، اگر تمہارے پاس ایمان ہوتا تو تمہیں ضرور شرم آتی‘‘۔

رحمتِ الٰہی سے مایوس مت ہو:

آپ علیہ الرحمہ نے مسلمانوں کو پُر امید رہنے کی تلقین فرمائی ۔ ارشاد فرمایا: ’’صاحبو! اللہ کی رحمت سے مایوس مت ہو کہ وہ قریب ہے۔ نااُمید مت ہو کیونکہ صانع تو اللہ تعالیٰ ہے۔ اور کیا عجب ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے بعد کوئی صورت پیدا فرمادے۔ بلا و آزمائش سے مت بھاگو کہ وہ بلا جو صبر کے ساتھ ہو، ہر قسم کی بھلائی کی بنیاد ہے۔ نبوت ، رسالت، ولایت، معرفت اور محبت سب کی بنیاد بلا رہی ہے۔ پس جب تم نے بلا پر صبر نہیں کیا تو تمہارے لیے بنیاد نہ رہی۔ اور بنیاد کے بغیر تعمیر میں کوئی پائیداری نہیں‘‘۔

نفسانی خواہشات سے بچو:

آپ علیہ الرحمہ نے فرمایا: ’’نفس کو خواہشات اور لذتوں سے باز رکھو اور اس کو پاکیزہ کھانا کھلاؤ جو نجس نہ ہو، پاکیزہ تو حلال ہے اور حرام نجس ہے۔ اس کو حلال غذا دو تاکہ وہ تکبر نہ کرے، نہ اِترائے اور نہ بے ادب بنے‘‘۔مزید فرمایا:’’ نفس اور خواہش کا ساتھ مت دو، نہ اور دنیا اور آخر کے پیچھے پڑو، اور نہ ماسوی اللہ کے پیچھے پڑو۔ پس تم ایسا خزانہ پاؤگے جو کبھی فنا نہیں ہوگا۔ اور حق تعالیٰ کی طرف سے تمہارے پاس وہ ہدایت آئے گی جس کے بعد گمراہی نہیں ہوگی‘‘۔

غریبوں کی مدد:

غریبوں کی مدد کے متعلق فرمایا: ’’اگر کسی چیز کے دینے کی طاقت ہو، خواہ کم ہویا زیادہ،اپنے مال سے جو کچھ ہوسکے فقیروں کی غم خواری کرو۔ سائل کو واپس نہ کرو‘‘۔ یعنی سائل کو واپس نہیں لوٹاؤ ، تم سے جو کچھ ہوسکے، اسے دے دو۔ اسی طرح آپ نے علماء کو بھی نصیحت فرمائی: ’’اے عالم! اگر تودنیا اور آخرت کی بھلائی چاہتا ہے تو اپنے علم پر عمل کر اور لوگوں کو پڑھا، اور اے تونگر! اگر تو دنیا اور آخرت کی بھلائی چاہتا ہے تو اپنے کچھ مال سے فقیروں کی غم خواری کر‘‘۔

غیر ضروری افعال سے بچو:

آپ علیہ الرحمہ نے غیر ضروری کاموں سے بچنے کی تلقین کی۔ فرمایا: ’’اے مسکین! ایسے معاملات میں گفتگو کرنا چھوڑدوجو تمہیں نفع نہ دے، مذہب کے بارے میں تعصب مت کرو، اور ایسے کام میں مشغول ہوجاؤ جو تمہیں دنیا و آخرت میں فائدہ پہنچائے۔ اپنے قلب کو دنیا کے تفکرات سے خالی کرو کہ تم عنقریب اس سے رخصت ہوجاؤ گے۔ دنیا کی خوش عیشی کے طالب مت بنو کہ یہ تمہارے ہاتھ نہیں آئے گی‘‘۔

سستی اور کاہلی کی ممانعت:

آپ نے سستی اور کاہلی سے بچنے اور اپنے اعمال کو عمدہ بنانے کی تلقین فرمائی۔ آپ نے اپنے ایک خطبہ میں ارشادفرمایا: ’’صاحب زادے! کاہل مت بنو کیونکہ کاہل ہمیشہ محروم رہتا ہے اور پشیمانی کی رسی اس کی گردن میں ہوتی ہے۔ اپنے اعمال کو عمدہ بناؤ کہ حق تعالیٰ تمہیں دنیا و آخرت کی سخاوت فرمائے گا‘‘۔

روزے کی حقیقت:

آپ علیہ الرحمہ نے روزے کے متعلق فرمایا کہ صرف بھوک اور پیاس سے بچنے کا نام روزہ نہیں ہے۔ اس کا اصل مقصد تقویٰ حاصل کرنا ہے۔ آپ نے فرمایا: ’’صاحبو! روزہ دار بن کر دن بھر بھوکا پیاسا رہنا اور رات کو حرام پر افطار کرنا تمہیں کیا کارآمد ہو؟ دن کو تم روزے رکھتے ہو اور رات کو معصیتیں کرتے ہو۔ اے حرام خورو! تم دن میں اپنے نفسوں کو پانی پینے سے روکتے ہو اور جب افطار کا وقت آتا ہے تو مسلمانوں کے خون سے افطار کرتے ہو۔ (یعنی مسلمانوں پر ظلم کرکے حاصل کیے جانے والے مال سے افطاری کرتے ہو)۔ ۔۔۔۔ روزہ رکھ کر جب تم افطاری کرو تو تم اپنی افطاری میں سے کچھ فقراء کو بھی دیا کرو۔ تنہا مت کھایا کرو کیونکہ جو شخص تنہا کھاتا ہے اور دوسرے کو نہیں کھلاتا تو اس پر اندیشہ ہے کہ وہ محتاج اور بھیک منگا نہ بن جائے‘‘۔

غیبت سے بچو:

آپ علیہ الرحمہ نے مسلمانوں کو غیبت سے بچنے کی نصیحت کی۔ فرمایا: ’’خاصان خدا کی غیبت اور بد گوئی کا ذائقہ مت چکھو کہ وہ سم قاتل ہے۔ اپنے آپ کو بچاؤ۔ ان کے ساتھ کسی قسم کی برائی سے پیش نہ آؤ کیونکہ ان کا ایک بڑی قدرت والاا ٓقا ہے جس کو ان پر غیرت آتی ہے‘‘۔

آپ علیہ الرحمہ کی تعلیمات ، ارشادات اور نصائح آج بھی مسلمانوں کے لیے قابلِ عمل ہیں۔ ضرور ت اس امر کی ہے کہ آپ کے ارشادات لوگوں تک پہنچائے جائیں ۔ بدقسمتی سے سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی علیہ الرحمہ کے معتقدین ان کی کرامات سے تو واقف ہیں ، لیکن ان کی تعلیمات سے بالکل بھی واقف نہیں ہیں۔ ان کے نام لیوا دنیا میں بکثرت موجود ہیںلیکن ان کی تعلیمات کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے والے خال خال ہی ہیں۔ اس پُر فتن دور میں درج بالا تعلیمات پر عمل کرکے فتنوں سے بچا جاسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین۔