خیبر اور مدائن صالح کا سفر (حصہ دوم) - معظم معین

جونہی ہم اس گھاٹی پر چڑھ کر تھوڑا آگے بڑھے تو ہم نے اپنے آپ کو ایک وسیع احاطے میں پایا جس کے چاروں اطراف مکانات بنے ہوئے تھے۔ اس احاطے کے سامنے بائیں جانب ایک راستہ جا رہا تھا جس میں سے گاڑی کے گزرنے جتنی جگہ تھی اور گاڑیوں کے گزرنے کے نشانات بھی زمین پر دیکھے جا سکتے تھے۔ ہم بلا تکلف اس راستے پر ہو لیے۔ ذرا سا آگے گئے تو ہمارے سامنے اور ارد گرد کھنڈرات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ آغاز کے مکانات تو شائد بعد کی تعمیرات تھیں مگر تھوڑا آگے جا کر خستہ حال کھنڈرات کا وسیع سلسلہ پھیلا ہوا تھا جنہیں واقعتاً آثار قدیمہ لکھا اور پکارا جا سکتا تھا۔ پتھروں اور مٹی سے تعمیر شدہ مکانات و دکانات یا جو کچھ بھی وہ تھیں ان کا ایک طویل سلسلہ تھا۔ دونوں طرف ایک جیسی تعمیرات کے کھنڈر تھے اور ان کے درمیان ایک گاڑی کے گزرنے کی جگہ تھی جس پر گاڑیوں کے پہیوں کے نشانات بتاتے تھے کہ اس راہ پر لوگوں کی آمدورفت ہے۔ بڑے بڑے پتھروں سے ان مکانات کو تعمیر کیا گیا تھا۔ ان میں دروازے کھڑکیاں اور روشن دان بھی تھی۔ کسی کسی مکان کی چھت موجود تھی مگر اکثر کی گری پڑی تھی۔ایک جگہ جا کر راستہ اتنا تنگ ہو گیا کہ گاڑی نہیں گزر سکتی تھی لہذا ہم وہاں پہنچ کر گاڑی سے اتر گئے۔ تنگ راستے سے گزر کر آگے پہنچے ، آگے کھجور کے باغات تھے جن کے درمیان قلعہ کو راستہ جاتا تھا۔ حکومت کی طرف سے ایک بورڈ لگایا گیا تھا جس پر شاید اسی قسم کی تنبیہ درج تھی کہ یہ علاقہ آثار قدیمہ میں سے ہے اور یہ کہ یہاں کوئی ایسی ویسی حرکت نہیں ہونی چاہیے وگرنہ نتائج خراب بھی ہو سکتے ہیں ۔۔۔!
تاریخی طور پر خیبر میں چھے سات قلعے بتائے جاتے ہیں جن میں یہودی رہائش پذیر تھے اور یہیں سے وہ مسلمانوں کے خلاف سازشوں کے جال بنتے تھے۔ غزوہ احد کے بعد 4 ہجری میں جب مدینہ سے یہودیوں کو نبی کریمﷺ نے جلا وطن کیا تھا تو ان میں سے کچھ یہاں آ کر آباد ہو گئے تھے اور کچھ شام کی طرف چلے گئے تھے۔ جب خیبر والوں کی سازشیں حد سے بڑھ گئیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سبق سکھانے کا فیصلہ کر لیا۔
یہی وہ موقع تھا کہ جب مسلمانوں کے لشکر کی آمد پر یہودی قلعہ بند ہو گئے اور محاصرے کو کئی روز گزر گئے مگر قلعہ فتح نہیں ہو رہا تھا تو ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کل علم ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں دیا جائے گا جس سے اللہ اور اس کا رسول محبت رکھتے ہیں اور وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے اس کے ہاتھ پر یہ قلعہ فتح ہو گا۔ اس رات ہر صحابی رسول کے دل کی خواہش تھی کہ کل علم مجھے نصیب ہو۔ مگر اگلے روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ علی کہاں ہیں؟ لوگوں نے جواب دیا کہ ان کی آنکھوں میں تکلیف ہے فرمایا کہ انہیں بلایا جائے پھر آپ نے ان کی آنکھوں میں اپنا لعاب دہن لگایا جس سے ان کی آنکھیں فورا ٹھیک ہو گئیں۔ پھر آپ نے علم انہیں سونپا۔ حضرت علی نے حملہ کیا جس سے قلع فتح ہوا، اسی وجہ سے آپ کو فاتح خیبر کہا جاتا ہے۔ یہاں ان کا بڑا شہسوار مرحب تھا جسے وہ ہزار آدمیوں کے برابر سمجھتے تھے وہ حضرت علی کے ہاتھوں قتل ہوا۔
خیبر کی زمین بہت زرخیز تھی جس کے باعث یہاں کے یہودی بہت مال دار اور خوشحال تھے ۔ اس غزوہ سے مسلمانوں کو بہت مال و دولت ہاتھ لگا جس سے ان کی تنگی اور افلاس دور ہوا۔
جس وقت ہم خیبر کے ان کھنڈرات میں داخل ہوئے وہاں ہمارے علاوہ کوئی انسان موجود نہ تھا۔ ہم ہی خیبر کے کھنڈرات میں گھوم رہے تھے اور تصور ہی تصور میں حضرت علی اور دیگر صحابہ رسول کو اس قلعے کی فتح کی جدوجہد میں مصروف عمل دیکھ رہے تھے۔ خیبر قلعے کی شکستہ حال عمارت ہمارے بلندی پر موجود تھی۔ کس قدر مشکل ہو گا اس مضبوط قلعے کو تسخیر کرنا۔ بتایا جاتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لشکر کے پاس شائد منجنیق بھی تھی جسے استعمال کرنے کا ارادہ کیا تو یہودیوں نے ہتھیار ڈال دیے۔ انسان اپنے رہنے سہنے اور حفاظت کے کیسے کیسے انتظام کرتا ہے ایک زمانہ تھا جب قلعے اور برج تعمیر کیے جاتے تھے تیر تلوار بنائے جاتے تھے آج سیٹیلائٹ کیمروں اور میزائلوں کا انتظام کیا جاتا ہے مگر انسان تب بھی غیر محفوظ تھا اور آج بھی ساری دنیا میں سب سے زیادہ رقم جو صرف کی جاتی ہے تو وہ دفاع اور تحفظ کی خاطر کی جاتی ہے۔ آج بھی امریکہ جیسے ملک کا صرف دفاعی بجٹ پاکستانیوں کی کل کمائی (GDP) سے دو گنا ہے۔ بظاہر ہ طاقتور اپنے آپ کو محفوظ تر سمجھتا ہے فرعون بنی اسرائیل کے نومولود بچے کروا دیا کرتا تھا تاکہ دفاع مضبوط ہو سکے مگر اللہ تعالی نے اس کے اپنے محل میں اس بچے کو اس کی آنکھوں کے سامنے پروان چڑھایا جس کے ہاتھوں اس کا زوال عمل میں آیا۔
کبھی یہ بارونق آبادی رہی ہو گی اور خوشی غمی کے موقع پر لوگ جمع ہوتے ہوں گے مگر اب ان کھنڈرات کے ارد گرد کوئی آبادی نہ تھی نہ کوئی انسان نظر آ رہا تھا۔ صرف کتوں کے بھونکے کی آوازیں کبھی کبھار سنائی دے جاتی تھیں یا خاموش فضا میں ہوا کی سرسراہٹ سنائی دیتی تھی۔
قلعے کو عربی میں حصن کہا جاتا ہے۔ خیبر کے سب قلعوں کے مختلف نام ہیں۔ ہم جس قلعے پر گئے وہ غالبا حصن مرحب کہلاتا تھا۔ یعنی ان کے سب سے بہادر شہسوار مرحب کا قلعہ۔ یہ حصن کافی اونچائی پر واقع تھا۔ یقیناً اس قلعے کو ہی مرکزی اہمیت حاصل ہو گی۔ یہ قلعہ مختلف ادوار میں مرمت وغیرہ کے مراحل سے گزرتا رہا ہو گا مگر کہتے ہیں کہ ابھی بھی یہ اپنی اصل بنیادوں پر موجود ہے۔ البتہ یہ کسی صورت ماننے میں نہیں آتا کہ یہ قلعہ اسی دور کا جوں کا توں چلا آ رہا ہو اور شاید نہ ہی کسی کو اس کا دعوی ہے۔
مولانا مودودی اور ان کے ساتھی 1959 میں جب خیبر آئے تھے تو سفرنامہ ارض القرآن میں عاصم الحداد لکھتے ہیں کہ امیر خیبر کا دارالامارہ اسی حصن مرحب میں تھا۔
وہ لکھتے ہیں:
"ہم کھجور کے مختلف باغوں کے درمیان تنگ و خم دار گلیوں سے گزرتے ہوئے امیر خیبر کے ہاں آئے، جن کا دارالامارہ حصن مرحب میں ہے، ممکن ہے کہ اس کی عمارت مرمت و تجدید کے مرحلوں سے کزرتی رہی ہو، لیکن یہ اب تک قریب ان ہی بنیادوں پر موجود ہے، جن پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں موجود تھا۔ حصن مرحب سے مراد مشہور یہودی سردار مرحب کا وہ قلعہ ہے جسے حضرت علی نے فتح کیا تھا، یہ قلعہ بہت ہی بلند پہاڑی پر واقع ہے اور اس پہاڑی کے دامن میں وہ جگہ مسجد کی شکل میں موجود ہے ، جہاں حضرت علی نے مرحب کو قتل کیا تھا۔"
ہم نے وہ مسجد دیکھی جو اس وقت مقفل تھی۔ پھر ہم نے قلعے کے اوپر چڑھنا شروع کیا۔راستہ پتھریلا تھا۔۔۔ بلکہ راستہ تو نہیں تھا بس اونچے نیچے بھربھرے پتھر سے تھے جن پر سنبھل سنبھل کر قدم رکھنا تھا جسے پھونک پھونک کر قدم رکھنا بھی کہہ سکتے ہیں۔ سیاہ پتھروں اور سنگریزوں پر مشتمل اس "راستے" کے بائیں جانب حکومت کی طرف سے قلعہ سر کرنے والے افراد کی حفاظت کے لیے پیلے رنگ کا جنگلہ لگایا گیا تھا بصورت دیگر نیچے گرنے کا خدشہ موجود تھا۔
معمولی سی کوہ پیمائی کے بعد ہم یہودیوں کے اس سابقہ قلعے کی ٹاپ پر پہنچ گئے تھے۔ بلاشبہ جنگی حکمت عملی کے لحاظ سے یہ مقام اس پورے علاقے میں بہترین تھا کیونکہ یہ وہاں کا بلند ترین مقام تھا جہاں سے ارد گرد کے علاقے پر آرام سے نظر رکھی جا سکتی تھی۔ چھت پر ایک وسیع صحن تھا جو اس وقت بڑے اور چھوٹے کالے پتھروں سے اٹا پڑا تھا۔ اس کے علاوہ متعدد کمرے تھے جو سپاہیوں کے رہنے اور سازو سامان رکھنے کے کام آتے ہوں گے۔ قلعے کی چھت پر اب بھی مورچے اور بنکر سے بنے دیکھے جا سکتے تھے جن میں سوراخ بھی موجود تھے جہاں سے تیر انداز اپنی پوزیشنیں سنبھالتے ہوں گے۔ وہ حقیقتاً ایک ناقابل تسخیر قلعہ تھا۔ مگر اس سب کے باوجود یہ بصیرت نبوی تھی کہ جب اللہ کے رسول ﷺ مسلمانوں کا لشکر لے کر خیبر پہنچے تو یہودیوں کو کان و کان خبر نہ ہوئی تھی اور وہ صبح کے وقت معمول کے مطابق اپنے پھاوڑے اور کدالیں لے کر اپنے کاموں کو نکل رہے تھے جب انھوں نے دیکھا کہ مسلمانوں کا لشکر سر پر پہنچ چکا ہے جس سے وہ حواس باختہ ہو گئے اور چیختے چلاتے بھاگ کر قلعہ بند ہو گئے تھے۔ رسول خداﷺ نے مدینہ سے خیبر پہنچنے کے لیے عام راستے سے ہٹ کر شام سے آنے والا راستہ اختیار کیا تھا جو ایک کامیاب جنگی حکمت عملی رہی۔ کچھ دیر ہم وہاں رہے اور چشم تصور سے غزوہ خیبر کا اندازہ کرتے رہے جب چودہ سو مسلمانوں کا مقابلہ دس ہزار یہودی جنگجوؤں سے تھا جو قلعہ بند بھی تھے اور ہر طرح کے کیل کانٹے سے لیس بھی۔ ایک ماہ کے لگ بھگ محاصرے کے بعد یہ قلعہ فتح ہوا تھا اور یہودیوں نے خراج کی ادائیگی کے عوض اطاعت قبول کر لی تھی جس کے بعد انہیں وہاں رہنے کی اجازت دے دی گئی۔ اکبر شاہ نجیب آبادی نے لکھا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی خلافت کے زمانے تک یہودی یہاں آباد رہے تھے۔
ہم نے قلعے کی چھت پر سے ارد گرد کا نظارہ کیا ،چاروں طرف کھجوروں کے باغات پھیلے ہوئے تھے ،ہریالی ہی ہریالی تھی، کافی زرخیز علاقہ تھا۔ قلعے کی چھت سے کھجوروں کے درختوں کے درمیان کھنڈرات کا پورا سلسلہ بھی نظر آتا تھا جو یقیناً یہودیوں کی بستیاں رہی ہوں گی۔ چھوٹے چھوٹے ان چوکور کمروں کی چھتیں نجانے کب کی اڑ چکی تھیں اور اب گری پڑی دیواریں ہی موجود تھیں جو عبرت کا نشان بنی پڑی تھیں۔ انہی قلعوں اور گڑھیوں میں حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ تعالی عنہا کا بھی مسکن رہا ہو گا جو یہودیوں کے سردار حیی بن اخطب کی صاحبزادی تھیں اور فتح خیبر کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آئیں اور ام المومنین کہلائیں۔
کچھ دیر اس قلعے کی چھت پر گزار کر ہم واپس اترے۔ہماری اگلی منزل مدائن صالح تھی۔ خیبر سے دو سو کلومیٹر دور۔۔۔
خیبر کو ہم نے الوداع کہا اور خیبر سے العلاء جانے والے روٹ نمبر 375 پر عازم سفر ہو گئے۔
مدائن صالح ہم سے اڑھائی سو کلومیٹر دور تھا۔۔۔(جاری ہے)

Comments

سید معظم معین

سید معظم معین

معظم معین پیشے کے اعتبار سے مہندس کیمیائی ہیں۔ سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ مشینوں سے باتیں کرتے کرتے انسانوں سے باتیں کرنے کی طرف آئے مگر انسانوں کو بھی مشینوں کی طرح ہی پایا، وفا مگر مشینوں میں کچھ زیادہ ہی نکلی۔ دلیل کے مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.