معیشت کے کردار -- پرویز بزدار

موجودہ دور میں جس طرح سرمایہ دار اشخاص کی بجائے تجارتی ادارے (کارپوریٹس) بن گئے، اسی طرح معیشت کے اصل کردار بھی اب فرد نہیں بلکہ ادارے ہیں۔ یہ ادارے ایک خاص قسم کی ہم آہنگ ذہنیت رکھنے والے افراد کا مجموعہ ہوتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام سے متعارف ہونے کے بعد یہ اندازہ لگانا بہت آسان ہے کہ کارپوریٹس (کمپنیاں) کسی بھی معیشت کے اہم کرداروں میں سے ایک ہیں۔ یہ کمپنیاں معیشت کےلیے کس حد تک اہم ہیں، اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا لیں کہ پوری دنیا کی دس فیصد چیزیں صرف دو سو بڑی کمپنیاں بناتی ہیں۔

اس طرح کی بڑی کمپنیوں کے فیصلے پوری دنیا کی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں ، اس لیے یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ ایسے اداروں کے مالکان کون ہیں اور ان اداروں میں فیصلے کیسے کیے جاتے ہیں۔ کسی بھی کمپنی کے مالک اس کے شئیر ہولڈرز (شیئر رکھنے والے) ہی ہوتے ہیں، اس لیے اصل فیصلہ کرنے والے لوگ بھی یہی ہوتے ہیں۔ عام طور پر یہ غلط فہمی رہتی ہے کہ شاید کمپنیوں کے سی ای او (چیف ایگزیکٹو آفیسر) اپنی مرضی کا فیصلہ کرتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ سی ای او کے انتخاب بھی شئیر ہولڈرز کرتے ہیں، اور پھر منتخب سی ای او صرف اس وقت تک ہی فیصلے کرتا ہے جب تک کمپنی مالکان ان فیصلوں سے خوش ہوتے ہیں۔

سی ای او اور ایسی دوسری انتظامی عہدوں سے متعلق لوگوں کو کیسے منتخب کیا جاتا ہے اس کےلیے شئیرز کی اقسام سمجھنی ہونگی۔ کسی بھی کمپنی کے عام طور پر دو طرح کے شئیر ہولڈرز ہوتے ہیں پریفرڈ (ترجیحی) شئیر ہولڈرز اور آڈنری (عام) شئیر ہولڈرز۔ پریفرڈ شئیر ہولڈرز کا انتظامیہ کے انتخاب میں کسی قسم کا کردار نہیں ہوتا اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے حصے کا منافع کمپنی میں انویسٹ ہونے کی بجائے ان کو دیا جاتا ہے۔ عام شئیر ہولڈرز ووٹنگ کے ذریعے انتظامیہ منتخب کرتے ہیں اور ووٹنگ کا یہ حق انہیں اپنا منافع دوبارہ کمپنی میں انویسٹ کرنے کی وجہ سے ملتا ہے۔

انتطامیہ کے انتخاب میں ایک شئیر ہولڈر کا ایک ووٹ کی بجائے ایک شئیر کا ایک ووٹ ہوتا ہے۔ اس طرح اگر کسی ایک فرد کے پاس دس فی صد شئیرز ہیں تو اس کے دس ووٹ گنے جائیں گے۔ عام طور پر بڑی کمپنیوں کے شئیرز کا بہت کم حصہ کسی ایک فرد کے پاس ہوتا ہے اس لیے جس کے پاس بھی بیس فی صد سے زیادہ شئیر ہوں تو اس شئیر ہولڈر کو کنٹرولنگ (کنٹرول کرنے والا) شئیر ہولڈر کہا جاتا ہے کیونکہ اسی کے ووٹ سے انتظامیہ کا انتخاب ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر فیس بک کے بانی زکربرگ فیس بک کے چوبیس فی صد شئیرز کا مالک ہے۔ ایسی کمپنی جس میں کوئی بھی کنٹرولنگ شئیر ہولڈر نہ ہو اس کمپنی میں انتظامیہ کے لوگ (سی ای او اور مینیجر وغیرہ) زیادہ طاقتور ہوتے ہیں۔

اس صورت کو سیپریشن آف اونر شپ اینڈ کنٹرول (ملکیت اور کنٹرول کی جدائی) کہتے ہیں۔ یہ حالت کسی کمپنی کےلیے اس لیے اچھی نہیں ہوتی کیونکہ انتظامیہ کے مقاصد مالکان سے مختلف ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک سی ای او کو جانچنے کا پیمانہ یہ ہوتا ہے کہ اس نے کتنی چیزیں بیچی ہیں اس لیے انتطامیہ کی دلچسپی فروخت بڑھانے میں ہوتی ہے جبکہ مالکان منافع بڑھانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ انتطامیہ اور مالکان کے درمیان دلچسپیوں کے اس فرق کو ختم کرنے کےلیے مختلف طریقے رائج ہیں۔ سر فہرست طریقوں میں سے ایک طریقہ انتظامیہ کو تنخواہیں دینے کی بجائے ان کو کمپنی کے شئیرز میں حصہ دیا جانا ہے۔ اس طرح ان کی تنخواہیں بھی کمپنی کے منافع پر منحصر ہوتی ہیں اور وہ بھی کمپنی میں مالکانہ دلچسپی لیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   نظام اورعوام - چوہدری محمدالطاف شاہد

کارپوریٹ کے علاوہ کوآپریٹو (تعاونی) یونینز بھی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔اس طرح کی یونینز میں عام طور پر ہر فرد کا اپنا آزاد کاروبار ہوتا ہے مگر مارکیٹ میں چیزیں مل کر بیچتے ہیں۔ مثال کے طور پر سارے گوالے مل کر دودھ بیچنا شروع کر دیں۔ اس طرح کے کاروبار میں ہر ایک کے پاس بھنسیں اپنی ہونگی اور کسی شئیر کا تصور نہیں ہوگا مگر پھر بھی قمیتوں کا تعین جیسے امور کےلیے کسی فیصلہ ساز انتطامیہ کا ہونا ضروری ہے۔ اس طرح کی یوننیز میں بھی انتظامیہ کا انتخاب ووٹنگ کے ذریعے ہوتا ہے مگر کارپوریٹ ووٹنگ کے برعکس ایک بھینس ایک ووٹ کی بجائے بھینسوں کی تعداد سے قطع نظر یونین میں شامل ہر فرد کا ایک ووٹ ہوتا ہے۔

کسی بھی ملک میں سرکار ایک انتہائی اہم معاشی کردار ہے، عموماً ملک میں بننے والی دس سے تیس فی صد چیزیں حکومتیں خود بناتی ہیں۔ ترقی یافتہ ملکوں میں یہ شرح اس سے بھی زیادہ ہے اور وہاں سرکار بڑی کمپنیوں کے فیصلوں پر اثرانداز ہونے کےلیے ان کے شئیرز بھی خریدتی ہے۔ بذات خود حکومتوں کا فیصلہ لینے کا طریقہ کمپنیوں سے بھی زیادہ پیچیدہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سرکار دوسری کمپنیوں کی طرح صرف اکثریتی رائے پر فیصلے نہیں کر سکتی کیونکہ حکومتی فیصلوں پر یونینز، ووٹرز اور یہاں تک کہ بڑی کمپنیاں بھی اثر انداز ہوتی ہیں۔ بعض اوقات تو مخلوط حکومتوں میں کسی اتفاق رائے تک پہنچنے کےلیے بھی حکومتوں کو شدید سمجھوتے کرنے پڑتے ہیں۔ اور جب حکومتی سطح پر اتفاق رائے ہو بھی جائے تو پھر سب فیصلے عمل درامد کےلیے بیوروکریسی سے گزرتے ہیں۔ بیوروکریسی دراصل پھر ایک کارپوریٹ ہے اور اس میں فیصلوں کا طریقہ بھی کسی بھی اور کارپوریٹ کی طرح پیچیدہ ہے۔

ان مقامی کرداروں کے علاوہ معیشت پر اثر انداز ہونے والے کچھ بین الاقوامی کارپوریٹس بھی ہیں۔ بد قسمتی سے غریب ملک ہونے کی وجہ سے ہم مقامی کرداروں سے زیادہ ان بین الاقوامی کرداروں سے واقف ہیں۔ ان کرداروں میں سر فہرست عالمی بنک (ورڈ بنک) اور آئی ایم ایف (بین الاقوامی مالیاتی فنڈ) وغیرہ ہیں۔ یہ کردار اس لیے اہم ہیں کہ ان کے پاس پیسہ ہے۔ ان اداروں میں امیر ممالک جیسے امریکہ وغیرہ کے سب سے زیادہ شئیرز ہوتے ہیں اس لیے ان کے ذریعے سے امیر ممالک اپنی پالیسیاں غریب ملکوں پر مسلط کرتے ہیں۔ زمینی حقائق کا جائزہ لیے بغیر قرض لینے والے غریب ممالک پر وہ معاشی طریقے تھوپے جاتے ہیں جو امیر ممالک کے خیال میں اچھے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   بے روزگاری کی وجوہات - پرویز بزدار

ان اداروں میں فیصلے کسی بھی عام کمپنی کی طرح لیے جاتے ہیں ۔ امیر ممالک کا ان فیصلوں پر اثر و رسوخ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ عالمی بنک کے سترہ فی صد شئیرز امریکہ کے پاس ہیں جبکہ دوسرے نمبر پر جاپان کے پاس آٹھ، چین کے پاس پانچ اور، جرمنی، برطانیہ اور فرانس کے پاس چار چار فیصد شئیرز ہیں۔ اس طرح امریکہ عالمی بنک میں ایک قسم کا کنٹرولنگ شئیر ہولڈر ہے۔ آئی ایم ایف اور عالمی بنک کے علاوہ ایک اہم ادارہ ڈبلیو ٹی او (عالمی تجارتی ادارہ) ہے۔ یہ ادارہ بین الاقوامی تجارتی قانون سازی اور سرحدوں کے پار غیر قانونی تجارت کو روکنے کےلیے اہم ادارہ ہے۔ اس ادارے میں ایک ڈالر ایک ووٹ کی بجائے ایک ملک ایک ووٹ کا نظام ہے؛ اس لیے اصولی طور پر غریب اور امیر ممالک دونوں فیصلوں پر برابر اثر انداز ہوسکتے ہیں مگر حقیقت میں یہاں بھی صرف امیر ممالک کی ایما پر فیصلے کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ غیر اہم عالمی کرداریں جیسے اقوام متحدہ اور یو این ڈی پی وغیرہ ہیں۔ یہ ادارے غیر اہم اس لیے ہیں کہ ان کے پاس پیسہ نہیں صرف آئیڈیاز (خیالات) ہوتے ہیں۔

ان کرداروں کے علاوہ معیشت کا ایک اور کردار میں اور آپ (افراد) بھی ہیں۔ مگر ہم بھی یو این ڈی پی کی طرح غیر اہم کردار ہیں اور اس کی وجہ بھی وہی ہے کہ ہمارے پاس بھی پیسے نہیں ہوتے۔ جہاں تک ہمارے فیصلوں کا تعلق ہے تو اس میں اصولی طور پر ہمیں مکمل آزاد ہونا چاہیے مگر حقیقت اور "اصولی طور" میں بہت فرق ہے۔ ہمارے حالات بدلتے ہیں اور ہم فیصلے حالات دیکھ کر لیتے ہیں، اس طرح ہم فیصلہ لینے میں آزاد نہیں بلکہ حالات کے تابع ہیں۔ اور پھر ہمارے حالات تبدیل کرنے میں قدرت کے علاوہ حکومت اور بڑی کمپنیوں کا بھی ہاتھ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ہمیں ہمارے مذہبی اور سیاسی راہنما کسی ملک یا کمپنی کی بائیکاٹ جیسی چیزیں کہہ کر بھی ہمارے فیصلوں پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ وہ بڑے کرادر جن کے پاس پیسہ ہے ہمیں اشتہارات دکھا کر ہمارے فیصلے تبدیل کرتے ہیں۔ بعض اوقات تو اشتہارات کے ذریعے ہم ایسی چیزیں خریدنے کا بھی فیصلہ کرتے ہیں جن کے بارے میں ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوتا کہ یہ بھی ہماری ضرورت ہے۔

یقیناً یہ سب کرداروں کا احاطہ نہیں ہے مگر مجھے امید ہے کہ اس تعارف کے بعد ہم کسی ایسے کردار کے اثرورسوخ کا بھی تجزیہ کر سکیں گے جس کا ذکر یہاں نہیں ہوا۔ اگلے مضمون میں انشااللہ میں ملکی بجٹ میں استعمال ہونے والی کچھ انتہائی اہم اصطلاحات جیسے جی ڈی پی وغیرہ کے بارے میں لکھوں گا۔

پرویز کریم کائسٹ جنوبی کوریا میں پی ایچ ڈی کے طالب علم ہیں۔ موبائل اور کمپیوٹر کے پروسیسرز بنانے میں آرٹی فیشل انٹیلیجنس (مصنوعی ذہانت) کو استعمال کرنے کے طریقوں پر تحقیق کر رہے ہیں