آشنا اپنی حقیقت سے ہو - کرن وسیم

مغرب کی ابتر خاندانی و معاشرتی صورتحال اور اخلاقی زوال کا کھلی آنکھوں مشاہدہ کرنے کے باوجود آج کی مسلم خواتین آذادی اور صنفی برتری کے نام پر لبرل طبقہ اور کمرشلزم کے پجاریوں کے ھاتھ کا کھلونا بنی ہوئ ہیں. مغربی افکار سے مرعوب دانشور اور صحافی جدیدیت کے نام پر حقوق اور آذادی کے حصول کاجو راستہ خواتین کو دکھارہے ہیں وہ قدرت کے قائم کردہ صنفی توازن کو بگاڑنے کا باعث بن رہا ہے.دنیا بھر سے خواتین کی ایسی مثالیں سامنے لائ جارہی ہیں جس میں اپنی بنیاد سے بغاوت اور سرکشی کا عنصر نمایاں ہے۔

سیکولر اور سوشلسٹ ذہنیت کی حامل خواتین کا حجاب کے احکام کی مخالفت,دینی و ثقافتی اقدار سے انحراف,خاندانی اور علاقائ حدود سے ٹکراؤ اور ذمہ داریوں سے فرار کا رویہ رکھنے والی خواتین کو بہادر اور جرات مند دکھانا اور کمیونزم کے حامی گنتی کے چند افراد کو میڈیا کی بھرپور کوریج ملنا دین اور ملک دشمن عناصر کے مذموم مقاصد کو پوری طرح واضح کررہا ہے.ساٹھ اور ستر کی دہائ میں اکثریت کی مسترد اور دفن شدہ سرخ تحریک کو بلاجواز بڑھاوا دیا جارہا ہے .مگر اسلام پسندوں کے بڑے اجتماعات اور مسلم خواتین کی دین کے نفاذ کیلیئے انتہائ درجے کی جدوجہد بھی میڈیا اور صحافیوں کی نظروں سے اوجھل ہی رہتے ہیں۔

اسی تناظر میں ایک سینیئر صحافی وسعت اللہ خان صاحب کا ایک کالم نظر سے گذرا جسکا عنوان " ان عورتوں میں بہت دم ہے " پڑھا تو اس حوالے سے فکرمندی مزید بڑھ گئ کہ جس قسم کی خواتین کو ہمت اور جرات مندی کا استعارہ بتایا جارہا ہے وہ سب تو وہی سیکولرزم اور کمیونزم کا نعرہ بلند کرنیوالی عورتیں ہیں جنکی اولین ترجیح تو صنفی معاملات اورترجیحات کو یکسر تبدیل کرنا ہے۔

بلاشبہ خواتین کا کردار ہر دور میں معاشرے کی تعمیر اور نسلوں کی آبیاری میں اہم رہا ہے.مگر کمیونزم اور سوشلزم سے متاثر لبرل ذہن اپنی تحاریر اور گفتگو میں جو راہ عمل اور رول ماڈل پیش کررہے ہیں وہ کوئ مثبت پہلو نہیں رکھتا۔مسلم خواتین کیلیئے جرات اور جدوجہد کی بہترین مثال تو اسوہ صحابیات سے ہی ملتی ہے.جن کے اخلاق و کردار بلندی اور استقامت کا بہترین نمونہ ہیں.. جنہوں نے معاشی مشکلات اور سخت جنگی حالات میں بھی دین کی قائم کردہ حدود کو پامال نہ کیا.اخلاقی تعلیمات سے تجاوز نہ کیا.غزوات میں شامل ہوکر دشمن پر تلواریں بھی چلائیں. شہادت کے نزرانے بھی پیش کیئے , ہجرتیں بھی کیں.ظالم وجابر کے آگے کلمہ حق بھی بلند کیا۔

موجودہ دور کے مسلم معاشرے خواتین سے ایسے ہی کردار کے متقاضی ہیں جو بہادری اور خود اعتمادی کے نام پر اپنے حفاظتی حصار کو ہی نہ توڑ ڈالیں.بلکہ باوقار طریقے سے تعمیر و ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں. اس دور میں بلند ہمتی کی بہترین مثال فلسطین ,کشمیر اور مصر میں اخوان المسلمین کی باحوصلہ خواتین ہیں جوقربانی اور مزاحمت کی طویل تاریخ رکھتی ہیں۔
۱۹۸۹ سے کشمیری خواتین کی باقاعدہ تنظیم سازی شروع ہوئ مگر ان کی قربانیوں کا سلسلہ تو ۳ جون ۱۹۴۷ سے ہی جاری و ساری ہے.طویل مدت سے جذبہ حریت سے سرشار یہ خواتین اس تحریک کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

اس جدوجہد آزادی میں خواتین کے سرگرم کردار اور زمینی حقائق کے متعلق دختران ملت کی چیئرپرسن آسیہ اندرابی کہتی ہیں کہ میں کئی بار جیل گئی انڈر گر اؤنڈ رہی حتی کہ حال ہی میں برہان وانی کی شہادت کے بعد کئ مہینے کے لیے جیل میں رکھا گیا اوراب آرٹیکل ۳۷۰ کو زبردستی ختم کرنے کے بعد سے اس وقت بھی ہاؤس اریسٹ ہوں ۔ مگر آخری دم تک کشمیر کی آزادی کے لیے جدوجہد جاری رکھوں گی۔

چیئرپرسن جموں کشمیر ماس موومنٹ فریدبہن جی کہتی ہیں کہ میرے بھائی بلال پر پاکستان سے وابستگی کا الزام لگا کر گرفتار کیا گیا بعدازاں دہلی دھماکوں کے بعد بھارتی فوجیوں نے نہ صرف مجھے گرفتار کیا بلکہ پانچ سال کے لیے تہاڑ جیل بھیج دیا اور 2001ء میں جیل سے رہا ہوئی تو بھارت کی جیلوں میں قید کشمیری قیدیوں کی قانونی مددکا بیڑہ اٹھایا۔ زمردہ حبیب تحریک خواتین کشمیر کی چیئرپرسن ہیں ۔ وہ 1992ء سے آزادی کی تحریک میں متحرک ہیں اور اسی پاداش میں 5 سال کے لیے تہاڑ جیل بھی کاٹ چکی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کی خواتین کے قربانیاں گواہ ہیں کہ کشمیری عورت کو ڈرایا یا دھمکایا نہیں جاسکتا۔

مصر میں طویل عرصے سے اخوان المسلمین کی اراکین فوجی آمروں کے ظلم وستم کا نشانہ بن رہی ہیں.مگر اتنے طویل عرصہ میں بھی مزاحمت کو دبایا نہ جاسکا۔مثال کے طور پر رابعہ العدویہ کے دھرنے کے دوران خواتین نے Women Against The Coup (WAC) نامی تحریک کا آغاز کیا۔ یہ ۲۰۱۳ء کی فوجی بغاوت کے بعد قائم ہونے والی خواتین کی مزاحمتی تحریکوں میں سب سے پہلی اور ملک بھر میں سب سے زیادہ متحرک تنظیم ہے۔یہ خواتین مظاہروں میں حصہ لیتی ہیں، مظاہرین کے خلاف حکومتی جارحیت کے حوالے سے ذرائع ابلاغ پر بات کرتی ہیں اور Human Rights Watch جیسے اداروں کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں آگاہ کرتی ہیں۔

بیرونِ ملک مقیم اس تنظیم کی ترجمان اسما شوکر خواتین کے خلاف سیسی حکومت کی جانب سے کی گئی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے قومی و بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں آواز اٹھاتی ہیں۔ ریاست کے خلاف اخوان کی خواتین کے بڑھتے ہوئے تحرک نے انہیں اُس وقت ریاستی تشدد کا نشانہ بنایا، جب ۱۹ جولائی ۲۰۱۳ء کو سکیورٹی فورسز نے حکومت مخالف مظاہرے میں شریک ۳ خواتین کو شہید کر دیا۔یہ تمام عورتیں وقت کے فرعونوں کے سامنے استقامت اپنے دین کے نفاذ کی جدوجہد میں آگے آگے ہیں.حجاب اور اپنے رب کی قائم کردہ حدود میں رہتے ہوئے طوفانوں کے رخ موڑنے کیلیئے پرعزم ہیں۔

مصر کی زینب الغزالی باطل قوتوں کےسامنے مزاحمت کی بہترین مثال ہیں.اس عظیم مبلغہ اسلام کا یہ قول سنہری حروف میں لکھے جانے کے قابل ہے.جس میں دعوت و نفاذ دین کیلیئے ہر مشکل کا سامنا کرنے کا مضبوط عزم جھلکتا ہے۔"قید خانوں کی خوفناکی,آلاتِ تشدد, کوڑوں کا پےدرپے برسنا-دعوتِ حق دینے والے بیٹوں اور بیٹیوں کے طرز عمل میں کوئ کمی نہیں کرتا بلکہ باطنی طاقت اور باطل کو دفع کرنیوالے صبر جمیل میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔

مسلمان عورت کا یہی کردار تو اصل مطلوب ہے, جہاں دین بیزاری اور اقدار سے فرار عورت کا مقصد نہ ہو.بلکہ اپنی آئندہ نسلوں کیلیئے ایک صالح اور پاکیزہ معاشرے کا حصول اور فکروعمل کی اصلاح اولین مقصد ہو۔