دم تو ان عورتوں میں ہے - ام عمار

محترم "وسعت اللہ خان صاحب" آپ کا نام پاکستان کے معروف صحافیوں میں ہوتا ہے اور کافی اچھی گفتگو کرتے ہیں ،اور آپ کے تجزیے اور تحاریر کافی جان دار ہوتی ہیں آپ کی تحریریں اکثر پڑھتی ہوں ۔ آپ کا کالم "ان عورتوں میں بڑا دم ہے 26 نومبر کو ایکسپریس نیوز کی ویب سائیٹ پر دیکھا تو بڑے جوش سے پڑھنا شروع کیا کیوں کہ بحیثیت عورت ہماری تعریف میں لکھا گیا تھا ۔

مگر جیسے جیسے پڑھتے گئے ایک عجیب سا احساس ہوا کہ اس میں تعریفیں تو کی گئی تھیں خواتین کی مگر آپ نے صرف ان خواتین کی مثالیں دی گئیں تھی جو بائیں بازو کی سمجھی جاتی ہیں۔ یعنی آپ نے لبرل اور سیکولر اور اسلام بیزار قسم کی خواتین ہی کی جدوجہد کو بطور مثال پیش کیا۔ جناب میرے خیال میں جب عورت کی بہادری اور جدوجہد کی بات کی جائے تو اس میں ہماری اسلامی تاریخ کی خواتین کی جدوجہد مثالوں سے بھری ہوئی ہے یہاں تک کہ اسلام کی پہلی شہید بھی خاتون تھیں جنہوں نے کفر کے سامنے سر نہیں جھکایا اور اپنی جان دینا قبول کی۔

اور موجود دور میں اخوان المسلمین کی خواتین جو بہادری کی داستانیں رقم کررہی ہیں قید و بند کی اذیت جس پامردی سے جھیل رہیں ہیں۔ اسی طرح کشمیر میں آسیہ اندرابی کی استقامت کی مثال اور باقی کشمیری مائیں بہنیں بہادری کی درخشندہ مثالیں ہیں۔

آپ ان مصری نژاد فرانسیسی خاتون مروہ الشر بینی کا ذکر ہی کردیتے کہ انہوں نے اپنے حجاب کی حفاظت کے لیے اپنی جان تک دے دی اور آج پوری دنیا میں حجاب کا استعارہ بن گئیں ہیں ۔ بس آپ کا کالم یکطرفہ محسوس ہوا اس لیے یہ ضروری سمجھا کہ اس طرف آپ کی توجہ دلائی جائے