احمد شاہ ابدالی افغانستان کے ہیرو یا انڈیا کے وِلن

انڈیا میں اس ہفتے ریلیز ہونے والی فلم پانی پت ایک ایسی جنگ پر بنائی گئی ہے جسے تاریخ کی بڑی جنگوں میں شمار کیا جاتا ہے۔یہ جنگ آج سے تقریباً 260 برس قبل لڑی گئی تھی۔ فلم کی ریلیز سے پہلے لوگوں میں تجسس بھی ہے لیکن ایک طبقہ فکر مند بھی ہے۔

تاریخ میں لکھا ہے کہ ’پانی پت‘ کی تیسری جنگ مراٹھا حکمرانوں اور افغان فوج کے درمیان ہوئی تھی۔14 نومبر 1761 کو ہونے والی اس جنگ میں افغان فوج کی کمان احمد شاہ ابدالی درانی کے ہاتھوں میں تھی۔

مورخین کی بھی اس جنگ میں کافی دلچسپی رہی ہے۔ اس فلم میں بر صغیر اور سینٹرل ایشیا کی تاریخ کے ایک فیصلہ کن موڑ کو دکھایا گیا ہے۔ اس جنگ کا اثر انڈیا اور افغانستان کے ساتھ ساتھ کئی اور ممالک پر بھی ہوا۔ افغانستان کے لوگ اس فلم کی وجہ سے پریشان ہیں۔ انھیں لگتا ہے کہ ایک بار پھر ان کے ملک کے ہیرو احمد شاہ ابدالی کو ولن بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ احمد شاہ ابدالی کو افغانستان میں بابائے قوم کی حیثیت حاصل ہے۔

سوال یہ ہے کہ آخر احمد شاہ ابدالی درانی تھے کون اور افغانستان میں انھیں کس نظر سے دیکھا جاتا ہے۔


’سب سے عظیم افغان‘

1747 میں 25 برس کے فوجی کمانڈر اِن چیف اور قبائلی سردار احمد خان ابدالی کو اتفاقِ رائے سے افغانستان کا شاہ منتخب کیا گیا۔ انھیں قندھار میں افغان جرگے میں منتخب کیا گیا تھا۔ احمد خان ابدالی اپنی شائستگی اور کرشماتی شخصیت کے لیے بہت مقبول ہوا کرتے تھے۔ اس کے بعد سے احمد شاہ ابدالی اور ان کا قبیلہ درانی کے نام سے مشہور ہوا۔

ابدالی پشتونوں اور افغان لوگوں کا اہم قبیلہ ہے اور احمد شاہ اسی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ انھوں نے اپنے دورِ حکومت میں امید سے زیادہ حاصل کیا۔ کسی کو امید نہیں تھی کہ وہ اتنے کامیاب ہوں گے۔ احمد شاہ ابدالی نے تمام افغان قبیلوں کے آپس کے جھگڑے ختم کروائے اور ایک افغان ملک کی بنیاد رکھی۔


احمد شاہ ابدالی نے تمام جنگیں جیت کر ایک بڑی سلطنت قائم کی اور مورخین اسے درانی سامراج کہتے ہیں جس کا دائرہ مغربی ایران سے لے کر ہندوستان کے شہر سرہند تک تھا۔ ان کی بادشاہت شمال میں سینٹرل ایشیا کے امو دریا سے لے کر جنوب میں بحرِ ہند کے ساحل تک پھیلی ہوئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:   کورونا وائرس: مجبوراً لوگ درختوں میں قرنطینہ کے دن گزارنے لگے

احمد شاہ ابدالی نے اپنے ملک کے لوگوں کو ایک نئی پہچان اور آزاد ملک دیا جسے آج ہم افغانستان کے نام سے جانتے ہیں۔ بھلے ہی پرانے افغانستان کی پرانی چمک دمک اب دھول میں مل چکی ہے لیکن اس کی سرحد کم و بیش ویسی ہی ہے۔


پشتو زبان کے مشہور شاعر عبدالباری جہانی کہتے ہیں کہ ’احمد شاہ بابا سب سے عظیم افغان تھے‘۔

عبدالباری جہانی افغان حکومت میں وزیر اطلاعات اور ثقافت رہ چکے ہیں اور انھوں نے ہی افغانستان کا موجودہ قومی ترانہ بھی لکھا ہے۔باری کہتے ہیں کہ افغانستان کی پانچ ہزار سال لمبی تاریخ میں ’ہمیں احمد شاہ بابا جیسا طاقتور، مشہور اور مقبول حکمران نہیں ملتا‘۔

فیصلہ کن واقعہ

احمد شاہ ابدالی کے بادشاہ بننے سے پہلے اور بعد میں بھی کئی فیصلہ کن جنگیں ہوئی تھیں۔ لیکن جنوری 1761 میں دلی کے پاس پانی پت کے میدان میں لڑی گئی جنگ ایک سپہ سالار اور بادشاہ کے طور پر احمد شاہ ابدالی کی زندگی کی سب سے بڑی جنگ تھی۔


یہ وہ دور تھا جب ایک جانب مراٹھا اور دوسری جانب ابدالی دونوں ہی اپنی حکومت کا دائرہ بڑھانے کی کوشش میں لگے ہوئے تھے اور زیادہ سے زیادہ علاقوں کو اپنی سلطنت میں شامل کرنے کی کوشش میں تھے۔ مراٹھا حکومت لگاتار جنگیں جیت کر اپنی سلطنت کا دائرہ بڑھائے جا رہی تھی اور ابدالی کو اپنی سلطنت کے لیے خطرہ محسوس ہو رہا تھا۔

شمالی انڈیا کے جو صوبے اس وقت ابدالی سلطنت کا حصہ تھے وہ افغان حکومت کے لیے بہت اہم تھے اس لیے عام افغان شہریوں کا خیال ہے کہ پانی پت کی تیسری لڑائی افغانستان کے اپنے دفاع کے لیے ضروری تھی۔

ابدالی کے لیے اس جنگ کا مقصد اپنی حکومت کو ایک بہت بڑے خطرے سے دور رکھنا تھا۔ حالانکہ جنگ میں افغان فوج کی فیصلہ کن جیت ہوئی لیکن اس جنگ میں دونوں ہی جانب ہزاروں لوگ ہلاک ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں:   کورونا وائرس: بھارت میں مریضوں کی جانچ پڑتال کرنے والے طبی عملے ہی کی پٹائی ہوگئی

تاریخ سے انصاف
افغانستان کے ایک طبقے کا خیال ہے کہ پانی پت فلم میں احمد شاہ ابدالی کو منفی انداز میں پیش کرنے کا اثر انڈیا اور افغانستان کے دوستانہ تعلقات پر پڑ سکتا ہے اور اس کی وجہ سے دونوں ملکوں کے عوام کے دل خراب ہوں گے۔

پاکستان نے تو اپنے ایک بیلسٹک میزائل کا نام ہی احمد شاہ ابدالی کے نام پر رکھا ہوا ہے۔

اس فلم کا ٹریلر دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ اس میں تین بنیادی غلطیاں کی گئی ہیں۔ اس فلم میں احمد شاہ ابدالی کا کردار ساٹھ برس کے سنجے دت ادا کر رہے ہیں جبکہ 1761 میں احمد شاہ ابدالی کی عمر 38 سال تھی اور اس میں افغان بادشاہ کی عمر اور کردار حقیقت سے میل نہیں رکھتے۔ ٹریلر یہ کہتے دکھایا گیا کہ احمد شاہ ابدالی ایک لاکھ فوج کے ساتھ حملہ کرنے آرہا ہے۔ جبکہ مورخین اور جشم دید گواہوں کے مطابق اس لڑائی میں افغانستان کی فوج میں اسی ہزار گھڑ سوار اور توپیں تھیں۔

احمد شاہ ابدالی افغانستان سے تیس سے چالیس ہزار فوجی لے کر آئے تھے باقی ان کے علاقائی اتحادی تھے۔فلم پانی پت کی کاسٹنگ، لباس اور افغان فوج کے جھنڈے کو دیکھ کر لگتا ہے کہ فلم حقیقت سے دور ہے۔فلم میں احمد شاہ ابدالی کو جس طرح کی پگڑی پہنے دکھایا گیا ہے ایسی پگڑی پہننے کا رواج نہ تو افغانستان میں پہلے تھا اور نہ ہی آج ہے۔


بابائے افغان
اپنے 50 پچیس برس کے دورِ حکومت میں احمد شاہ ابدالی نے ملک اور اپنی قوم کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا اور انھوں نے اپنی حکومت کبھی بھی کسی لاپرواہ نوجوان کے طور پر نہیں چلائی اور انتہائی سمجھداری سے حکومت کی۔

مشہور ہندوستانی مورخ ڈنگا سنگھ نے اپنی کتاب ’احمد شاہ ابدالی درانی: جدید افغانستان کے معمار‘ میں لکھا ہے کہ ’احمد شاہ ابدالی نے اپنی پوری زندگی ملک کی بہتری کے لیے وقف کر دی تھی اور وہ آج بھی افغان لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ اتنا ہی نہیں جنوبی اور سینٹرل ایشیا کے مسلمانوں کی بڑی تعداد ان کا نام ادب سے لیتی ہے‘۔