خیبر اور مدائن صالح کا سفر (حصہ اول) - معظم معین

سودی عرب میں مقیم ہوئے کئی برس ہونے کو آئے تھے مگر دو چار شہروں کے علاوہ کچھ نہ دیکھ پائے تھے۔ کہاں وہ وقت تھا کہ ہر گرمیوں اور سردیوں میں دوستوں کے ہمراہ آوارہ گردی کے پلان بنائے جاتے تھے اور کہاں اب کہ مہینوں شہر سے باہر نکلنے کا قصد نہ ہو پاتا تھا اور گرمیاں سردیاں گرم کپڑے نکال لو اور گرم کپڑے اندر رکھ لو کی گردان کرتے گزر جاتی ہیں۔
مدینہ منورہ کی زیارت کے دوران غزوہ احد اور احزاب کے مواقع تو اکثر افراد نے دیکھ رکھے ہوتے ہیں مگر غزوہ خیبر کے مقام تک کم لوگ ہی پہنچتے ہیں۔ غزوہ خیبر وہ عظیم غزوہ تھا جس میں یہودیوں کے ساتھ معرکہ تھا اور یہودی خیبر کے قلعوں میں پناہ گزین تھے جنہیں مسلمانوں کو فتح کرنا تھا۔ یہ ایک بڑی جنگ تھی۔
یہودی اپنے گھروں میں تھے قلعوں میں محفوظ پورے ساز و سامان سے لیس جبکہ مسلمان اپنے علاقے یعنی مدینہ منورہ سے قریب قریب دو سو کلو میٹر دور آئے تھے۔
یہ پہاڑی علاقہ ہے، سنگلاخ پہاڑ اور دشوار گزار راستے۔ ہمیں اسی علاقے کا سفر درپیش تھا۔۔۔ درپیش کیا تھا خود ہی ہم نے اپنے آپ کو درپیش کر لیا تھا۔
اس بار مدینہ منورہ کی حاضری کا موقع ملا تو سوچا کہ کچھ جوانی کے دنوں کی یاد بھی تازہ ہونی چاہیے جب ہر قریب و دور کے سفر کے لیے ہم ہمہ وقت تیار ہوا کرتے تھے۔ بہت سے سفر ہم نے محض چند گھنٹوں کے نوٹس پر بھی پلان کیے تھے۔
اسی طرح خیبر کا سفر بھی تھا۔
ایک دن قبل سوچا کہ کیوں نہ کل مدائن صالح کا مقام دیکھ لیا جائے۔ پھر خیال آیا کہ کیوں نہ اس کے ساتھ ہی خیبر کا مقام بھی دیکھ لیا جائے۔ خیبر مدینہ سے دو سو کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، سعودی عرب کی سڑکوں کے سامنے یہ فاصلہ کوئی اتنا بڑا چیلنج نہیں رکھتا۔
مگر ہمیں اس سے بڑا چیلنج درپیش تھا!
مدائن صالح کا چیلنج۔۔۔!
مدائن صالح مدینہ سے پونے چار سو کلو میٹر کے فاصلے پر وہ مقام ہے جو شاید اس دنیا کی سب سے پرانی بستی کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ چھے ہزار سال پرانی بستی ہے۔ جہاں اللہ کے نبی حضرت صالح علیہ السلام مبعوث ہوئے تھے۔ اور اللہ کی نافرمانی کی پاداش میں اس قوم پر عذاب الہی نازل ہوا تھا۔
تھوڑا گوگل کھنگالا تو معلوم پڑا کہ دونوں مقامات ایک ہی راستے میں پڑتے ہیں۔ مدینہ سے نکلیں تو دو سو کلومیٹر پر خیبر کا شہر اور اس سے آگے مزید دو سو کلومیٹر پر مدائن صالح کا مقام۔ یعنی چار سو جانے اور چار سو واپس آنے کا سفر۔
ایک ہی دن میں آنا جانا اور وہ بھی آناً فاناً۔۔۔۔۔
تو ہم نے فیصلہ کر لیا کہ صبح سویرے خیبر اور مدائن صالح کے لیے روانہ ہوا جائے۔ گاڑی کا چائے پانی یعنی تیل پانی چیک کیا ، گھر والوں کو سختی سے ہدایت کی کہ جو بھی کام ہو وہ بروقت بتایا جائے تاکہ تکمیل میں مشکل نہ ہو۔ پھر بلا تاخیر سب کام مکمل کیے اورمکمل کروائے اور رات جلد سونے کا حکم جاری کیا کہ صبح نماز فجر کے فورا بعد ہمیں عازم سفر ہونا تھا۔۔۔۔
صبح فجر کی اذانوں سے قبل بیدار ہوئے۔
مدینہ منورہ کی روح پرور فضا میں چاروں طرف اذانوں کی مقدس آوازیں گونج رہی تھیں جب ہم سوتے جاگتے گرتے پڑتے بچوں کو گھسیٹتے ہوئے ہوٹل سے نکل رہے تھے۔ مہم جو والد کی اولاد کو بھی ایسا ہونا ہی پڑتا ہے۔
آج ایک طویل سفر درپیش تھا۔
ہوٹل سے نکل کر بھاگم بھاگ مسجد نبوی پہنچے۔ نماز فجر ادا کی۔ نماز کے فورا بعد خیبر کے لیے روانہ ہوئے۔
جب سورج مشرق سے سر اُبھار رہا تھا تو ہماری گاڑی مدینہ منورہ سے خیبر جانے والی شاہراہ پر دوڑتی چلی جارہی تھی اور گاڑی کے اندر خاموشی کا راج تھا کیونکہ بچہ پارٹی حسب معمول گاڑی کے ابتدائی جھونکوں کے بعد ہی نیند کی وادیوں میں کھو چکی تھی۔ اس سفر میں بھی ہمیشہ کی طرح ہمارا گائیڈ گوگل میپ تھا۔ مسجد نبوی کی زیر زمین پارکنگ سے نکلے تو گوگل میپ نے خیبر کا فاصلہ ایک سو اسی کلو میٹر بتانا شروع کیا۔ مدینہ شہر کی سڑکوں سے نکل کر خیبر کی شاہراہ پر عازم سفر ہوئے۔ وہ ایک دو لین والی دو رویہ سڑک تھی۔ سڑک کی حالت نہایت بہتر بلکہ بہترین تھی یعنی صاف ستھری تھی۔ ٹریفک کی حالت اس سے بھی بہتر تھی یعنی ٹریفک نہ ہونے کے برابر تھی۔۔۔ کبھی کبھار کوئی گاڑی نظر آ جاتی۔ مزید حوصلہ افزا بات یہ تھی کہ سڑک پر سپیڈ کیمرے بھی نہ ہونے کے برابر تھے۔ جو اکا دکا تھے وہ دور سے دکھائی پڑتے تھے۔ یعنی راوی چین ہی چین لکھ رہا تھا۔
یہ ریگستانی اور پہاڑی علاقہ تھا جہاں گہرے رنگ کے سنگلاخ پہاڑ چپ چاپ کھڑے تھے۔ پہاڑیوں کی چٹانوں پر صبح کے سورج کی کرنیں ٹکرا کر ایک سہانا منظر پیش کرتی تھیں اور چار سو تازگی کا احساس ہو رہا تھا ۔ کچھ کچھ فاصلے پر پیٹرول سٹیشن بھی آ جا رہے تھے، جنہیں مقامی زبان میں "استراحہ" کہا جاتا ہے۔یہ ویسے ہی اسٹیشن ہوتے ہیں جیسے ہماری موٹر وے پر "قیام و طعام" کے نام سے پائے جاتے ہیں۔ ہم صبح سویرے نماز سے بھی قبل ہوٹل سے نکل پڑے تھے۔۔۔ بغیر ناشتہ اور بغیر چائے کے۔۔۔ منہ اندھیرے سب گھر والوں کو زبردستی اٹھا لانے کے باعث جب میں مسلسل طعنے سن سن کر تنگ آ گیا تو بالآخر ایک ایسے ہی "استراحہ" پر گاڑی روکی۔ وہ ایک عرب مطعم تھا جس میں داخل ہوا، اندر دو تین عرب حضرات فرشی نشست پر براجمان ناشتے اور قہوے سے لطف انداز ہونے میں مصروف تھے جنھوں نے ایک اچٹتی سی نظر مجھ پر ڈالی۔ میں کاؤنٹر پر پہنچا اور ہوٹل کے نوجوان سے چائے طلب کی۔ سفر میں جب کچھ میسر نہ ہو تو ٹی بیگ سے بنی چائے بھی مزہ دیتی ہے۔۔۔ ویسے پردیس کے سفر میں بندہ جس چیز کی سب سے زیادہ کمی محسوس کرتا ہے وہ اپنے ٹرک ہوٹلوں کی دودھ پتی ہوتی ہے۔بعض اوقات پاکستانی ہوٹلوں پر کڑک چائے بھی مل جاتی ہے مگر اپنے ٹرک ہوٹلوں کی دودھ پتی جس میں دیسی زبان میں ہوٹل والا ملائی مار کے دودھ پتی بناتا ہے اس کا کوئی جوڑ نہیں۔۔۔ بہرحال گرم بھاپ اڑاتی چائے کے ساتھ سنیکس کا ناشتہ میرے لیے فیس سیونگ کا کام تو دے گیا اور ہم پھر سے عازم سفر ہوئے۔
سیاہ ہموار اور چم چم کرتی نئی نکور سڑک پر ہم اطمینان سے محو سفر تھے اور ارد گرد پہاڑی علاقہ تھا۔ بل کھاتی سڑک ہمارے سامنے تھی مگراس کی چڑھائیاں اور اترائیاں ڈرائیور کو کسی مشکل میں نہیں ڈالتی تھیں۔ پس منظر میں چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں تھیں اور کہیں کہیں خود رو سبزہ نومبر کے مہینے میں بہار دے رہا تھا۔
مولانا مودودی نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ 1959 میں، یعنی اب سے پورے ساٹھ برس قبل، اس علاقے کا سفر کیا تھا۔ اس وقت انھوں نے یہ سفر فورڈ جیپ پر کیا تھا جبکہ وہاں سڑک نام کی کوئی چیز نہیں پائی جاتی تھی۔ میں سارا راستہ اس بات پر حیران ہوتا آیا کہ سڑک کے بغیر پہاڑوں اور ریگستانوں میں کیسے یہ سفر ہوا ہو گا۔ اس سفر کی روداد ان کے شریک سفر عاصم الحداد صاحب نے سفرنامہ ارض القرآن میں تفصیل سے بیان کی ہے۔ مگر اس سے بھی بہت پہلے اللہ کے چند برگزیدہ بندوں نے بھی اس راستے پر ایک سفر کیا تھا جو اونٹوں اور گھوڑوں کے ذریعے بغیر ائیر کنڈیشنر کے سفر تھا اور جو ہماری طرح سیر سپاٹے کا سفر نہیں تھا بلکہ جان کی بازی کا سفر تھا۔ ارد گرد کے پہاڑ اور ریگستان تو وہی ہوں گے ، ایسا ہی منظر پیش کرتے ہوں گے، ہم تصور ہی تصور میں سڑک اور جدید تعمیرات کے بغیر کا منظر اجاگر کرتے اس لشکر کو دیکھ رہے تھے جو اللہ کے رسول ﷺ کی قیادت میں ایک نازک مشن کی طرف گامزن تھا۔ یہی وہ پہاڑ اور صحرا ہوں گے جن پر اللہ کےنبی ﷺ اور ان کے اصحاب کی نظر بھی پڑی ہو گی۔ آج ہم بھی ان ہی راستوں اور ان ہی پہاڑوں کے درمیان محو سفر ہیں۔
دو گھنٹوں کا یہ سفر پلک جھپکنے میں گزر گیا اور اب ہم اس "باب خیبر" سے گزر رہے تھے جو خیبر داخلے کے مقام پر شاہراہ کے اوپر بنایا گیا تھا۔ خیبر ایک چھوٹا سا صاف ستھرا اور جدید شہر تھا۔ شہر میں داخل ہو کر ہمیں احساس ہوا کہ گوگل میپ پر ہم نے خیبر شہر کی منزل ڈال رکھی ہے جبکہ ہمیں خیبر کے قلعے جانا ہے چنانچہ فورا سمت تبدیل کی اور میپ پر خیبر قلعہ کی منزل سیٹ کی۔ خیبر شہر میں داخل ہونے کے بعد اب خیبر کا قلعہ ہم سے چار پانچ کلومیٹر ہی دور تھا۔ کچھ دیر بعد بڑی شاہراہ سے ہٹ کر ہمیں بائیں ہاتھ ایک ذیلی سڑک پر اترنا پڑا جو بل کھاتی چلی جا رہی تھی۔ اسی ذیلی سڑک پر چند منٹ کی مسافت کے بعد گوگل نے خبر دی کہ یو ہیو ارائیوڈ۔۔۔ آپ اپنی منزل مقصود پر پہنچ چکے ہیں۔۔۔
مگر ہمارے ارد گرد تو کچھ نہ تھا سرسبز باغات کا ایک گھنا اور طویل سلسلہ تھا مگر قلعہ ٹائپ کی کوئی چیز موجود نہ تھی۔ ہمارے ذہن میں "قلعہ" سے لاہور کا شاہی قلعہ ہی آتا ہے جس کی چوڑی فصیل اور اونچے برج ہوتے ہیں اور بلند قامت دیو ہیکل دروازہ ہوتا ہے جس کے آگے سپاہی پہرہ دے رہے ہوتے ہیں۔ مگر یہاں تو کوئی چھوٹے دروازے والا قلعہ بھی نہ تھا۔ تو کیا ہم غلط آ گئے تھے؟ جس سڑک پر ہم اسوقت تھے اس کے دائیں طرف باغات کا سلسلہ اور بائیں طرف ٹوٹی پھوٹی عمارات کا سلسلہ تھا۔ مگر خیبر کا قلعہ کہاں تھا؟ اسی شش و پنج میں ہم کچھ آگے نکل گئے مگر وہاں بھی کچھ قلعہ نما نہ ملا۔ پھر" یو ٹرن" لے کر مڑے کیونکہ آخر کو ہم بھی "لیڈر" بننا چاہتے تھے جس کے لیے یو ٹرن لینا ضروری ہوتا ہے۔
واپس آ کر سڑک کنارے ایک خان صاحب نظر پڑے جو شلوار قمیض میں ملبوس تھے۔۔۔ دنیا بھر میں شلوار قمیض پاکستانیوں کی عظیم نشانی ہے کیونکہ شلوار قمیض پاکستانیوں کے علاوہ کوئی نہیں پہنتا۔ بھارتی مسلمان کرتا پاجامہ زیب تن کرتے ہیں جبکہ افغانیوں کی شلوار قمیض ذرا وکھرے سٹائل کی ہوتی ہے۔۔۔ خیر میں ان شلوار قمیض والے خان صاحب کے پاس پہنچا اور ان سے اردو میں خیبر کے قلعے کا راستہ معلوم کیا۔ مگر معلوم نہیں کیوں مگر خان صاحب نے مجھے سارا راستہ تفصیل سے سمجھایا تو مگر عربی میں۔ میں اردو بولتا رہا اور وہ عربی۔ خیر میں نے کچھ سمجھ اور کچھ نہ سمجھ کر انہیں یہی تاثر دیا کہ میں سب کچھ سمجھ گیا ہوں اور ان کے بتائے اشاروں پر چل پڑا۔ آخر کو "لیڈر" جو ہوا۔
جب ہم خان صاحب کے بتائے گئے مقام پر پہنچے تو ہمارے سامنے ایک تنگ گھاٹی سی تھی جس پر سڑک نہ تھی بلکہ کچا راستہ تھا۔ ہمیں سڑک سے اتر کر جانا تھا بلکہ کہنا چاہیے کہ سڑک سے چڑھ کر جانا تھا کیونکہ وہ راستہ سڑک کی بائیں جانب بلندی کو جا رہا تھا تھا۔ اس راستے کی دونوں اطراف بوسیدہ عمارتیں تھیں جو بہرحال اتنی پرانی نہیں لگتی تھیں کہ انھیں آثار قدیمہ سمجھ لیا جائے۔
میں نے تھوڑا سا رک کر حالات کا جائزہ لیا۔۔۔ سعودی عرب میں ہر غیر معمولی حرکت سے قبل حالات کا جائزہ لینا نہایت ضروری امر ہے۔۔۔ جب ارد گرد کے حالات کو "معمول" کے مطابق پایا تو میں نے اللہ کا نام لے کر گاڑی اس گھاٹی پر چڑھا دی۔ گاڑی کا انجن گرجا اور گاڑی چڑھائی پر چڑھنے لگی۔ اب تک کول تار کی بنی ہموار سڑک تھی اور ہم پر سکون انداز میں لانگ ڈرائیو انجوائے کر رہے تھے۔ مگر اب کچا راستہ شروع ہوا اور گاڑی کے پہیوں تلے آکر مسلے جانے والے کنکروں کی آہیں بلند ہونے لگیں۔ اور اس کے ساتھ ہی گاڑی کے اندر سے سسکیوں کی آوازیں ابھرنے لگیں۔۔۔ کیونکہ بچہ پارٹی زندگی میں پہلی بار اس قسم کے ایڈوانچر سے گزر رہی تھی۔۔۔ اپنی دانست میں وہ یہی سمجھ رہے تھے کہ ان کا باپ راستہ بھٹک چکا ہے اور اب گھر جانے کی راہ تلاش کر رہا ہے۔۔۔ وہ اونچے نیچے راستے اور "خطرناک موڑ" پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی نسبت تو کوئی معنی نہیں رکھتے تھے مگر اس علاقے میں اسوقت یہی گاڑی اور اس کے ڈرائیور کی آف روڈنگ off-roading صلاحیت کا امتحان تھے۔ (جاری ہے)

Comments

سید معظم معین

سید معظم معین

معظم معین پیشے کے اعتبار سے مہندس کیمیائی ہیں۔ سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ مشینوں سے باتیں کرتے کرتے انسانوں سے باتیں کرنے کی طرف آئے مگر انسانوں کو بھی مشینوں کی طرح ہی پایا، وفا مگر مشینوں میں کچھ زیادہ ہی نکلی۔ دلیل کے مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com