سرخ دوستوں کو سبز سلام - مجیب الحق حقّی

میں نے میٹرک کے بعد انٹر اور گریجویشن ایشیا سرخ اور سبز کے ہیجان انگیز دور میں مکمّل کیا۔ ایک جذباتی کیفیت کالج میں ہوتی۔ مارکس اور لینن کے افکار اور مائو زے تنگ کی سرخ کتاب کے چرچے ایک طرف اور دوسری طرف ایشیا سبز ہے کے ولولہ انگیز نعروں نے ایک محاذ آرائی کی فضا قائم کی ہوئی تھی۔

اس بارے میں اسلامی جمیعت طلبا کا کردار لافانی ہے کیونکہ اس کے علاوہ کمیونسٹوں سے ٹکّر لینے والا کوئی قابل ذکر گروہ نہیں تھا ۔ اس کے مقابل نیشنل اسٹوڈنٹ فیڈریشن کے روس نواز اور چین نواز دھڑے تھے۔کمیونسٹ ایک آئیڈیل معاشرے کی تصویر کھینچتے جس میں نہ کوئی امیر اور نہ کوئی غریب بلکہ ہر چیز کی مالک ریاست اور ریاست ہی سب کے روٹی کپڑے مکان کی ضامن۔

اس سے بہتر بات کیا ہوسکتی ہے اسی لیے معاشرتی نا انصافیوں کا شاہد نوجوان جذباتیت میں بہہ کر اس بانسری کی آواز کے پیچھے چل پڑتا ہے یہ جانے بغیر کہ اس جنّت میں سب سے کڑا پہرہ اظہار رائے پر ہی ہوتا ہے اور ریاست ایک جابر ڈکٹیٹر کی طرح انسان کی شخصی آزادی کو روند دیتی ہے۔بہرحال دنیا نے دیکھا کہ اس نظریے نے ایک عالمی طاقت کی حیثیت حاصل کی اور دنیا میں اس کا چرچا ہوا۔

انہی دنوں روزنامہ جنگ میں غالباً کوئی وجاہت علی صاحب کے سیر جہاں کے عنوان سے سیرو سیّاحت کے مضامین شائع ہوتے تھے ان میں ایک مضمون میں انہوں نے لکھا تھا کہ جب میں یورپ سے روس میں داخل ہوا تو سرحد پر ایک بڑا بورڈ لگا تھا جس پر روسی زبان میں لکھا تھا کہ۔۔۔ "ہم نے خدا کو سرزمین روس سے ٹھوکریں مار کر نکال دیا ہے"۔۔۔۔ (نعوذ باللہ)۔ یہ جملہ میرے ذہن پر نقش ہوا کہ انسان نے خدا کو للکارا ہے دیکھیں انجام کیا ہوتا ہے۔

وقت گزرتا رہا اور پھر دنیا کی ایک سپر پاور جو ایٹم بموں اور بیلسٹک میزائلوں سے لیس تھی ہمارے دیکھتے دیکھتے ایک گولی چلے بغیر ایسی نابود ہوئی کہ نام کے ساتھ ہتوڑے اور درانتی والا سرخ جھنڈا بھی تحلیل ہوگیا۔ یعنی نام نشان مٹ گیا۔شاید یہ اللہ کا جواب تھا جس نے کہہ دیا ہے کہ وہ بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔آج جب نوجوانوں کو وہی جھنڈا لیے اور ویسے نعرے لگاتے دیکھا تو سارا منظر نگاہوں میں گھوم گیا۔

یہ بیچارے ایک مخلص اور درد مند دل رکھنے والے نوجوان ہیں جو ان تصوّراتی نعروں میں مسائل کا حل دیکھ رہے ہیں یا پھر کچھ شاطر ان کو استعمال کرنا چاہ رہے ہیں۔ جس نظریے کی کوئی عقلی بنیاد ہی نہ ہو اس سے وہی مرعوب ہوتے ہیں جو عقل کو ادھورا استعمال کرتے ہیں۔

ان کو کوئی بتلائے کہ وہ نعرے مت مارو جن کی کوئی اصل نہیں ورنہ تم بھی اپنے بڑھاپے میں سبز سلامتی کی چھائوں میں آنے کے لیے ہاتھ پائوں مارو گے جیسا کہ بہت سے سابق سرخے اس سرخ سلام کو ترک کرکے سبز سلام کی آفاقیت کے قائل ہوئے۔