آزاد صحافت کی اوقات- ارشاد احمد عارف

منگل کی سہ پہر امریکی نشریاتی ادارے کی طرف سے ایک پروگرام میں شرکت کی دعوت ملی جس کا موضوع’’پاکستانی میڈیا پر عائد پری سنسر شپ‘‘ تھا۔ذاتی مصروفیات کی بنا پر شرکت سے معذرت کی مگر سوچ میں پڑ گیا شرکت کی صورت میں کیاعرض کرتا؟۔ایک روز قبل برطانوی کرائم ایجنسی(این سی اے) کا پریس ریلیز جاری ہوا جس میں پاکستان کے بزنس ٹائیکون ملک ریاض حسین سے عدالت کے باہر سیٹلمنٹ کے تحت 190ملین پائونڈ سٹرلنگ کی وصولی کا ذکر تھا‘ پریس ریلیز میں یہ بھی بتایا گیا کہ نمبر ایک ہائیڈ پارک کی جائیداد اور آٹھ بنک اکائونٹس منجمد کر کے یہ رقم وصول کی گئی۔ تفصیلات سامنے آئیں تو پتہ چلا کہ ون ہائیڈ پارک کی جائیداد سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے صاحبزادے حسن نواز شریف کی ملکیت تھی جو انہوں نے پانامہ پیپرز منظر عام پر آنے کے فوری بعد ملک ریاض حسین کو فروخت کر دی اور آٹھ بنک اکائونٹس کی مشکوک ٹرانزیکشن بھی اسی سلسلے کی کڑی ہیں‘ ملک ریاض حسین نے ازخود وضاحت جاری کر کے این سی اے کے پریس ریلیز کی تائید کی مگر میرے لئے حیران کن بات یہ تھی کہ پاکستان میں92نیوز چینل اور اخبار کے سوا تمام چینلز اور اخبارات نے اس خبر کو نشر اور شائع کرتے ہوئے ملک ریاض حسین کا نام گول کر دیا‘ ہندو ناریوں کی طرح جو خاوند اور منگیتر کا نام لیتے ہوئے شرماتی اور ’’اُن‘‘ کا استعارہ استعمال کرتی ہیں۔

کسی تجارتی ادارے یا کاروباری شخصیت کے بارے میں منی خبر شائع نہ ہونے اچھنبے کی بات نہیں‘ ہر میڈیا ہائوس کے اپنے تجارتی مفادات کے حوالے سے نفع و نقصان کو مدنظر رکھتا ہے‘ ہر صحافتی ادارے میں بعض مقامات اور اشخاص شجر ممنوعہ ہوتے ہیں مگر سارے ہی حریت پسند چوکڑی بھول جائیں؟حیرت انگیز بات یہ ہے کہ خبر سے ملک ریاض حسین کا نام حذف کرانے کے لئے وفاقی وزارت اطلاعات‘ صوبائی محکمہ اطلاعات کی طرف سے میڈیا ہائوسز کو کوئی ایڈوائس جاری ہوئی نہ ان غیر مرئی قوتوں نے دبائو ڈالا جنہیں ہمارے جمہوریت پسند اور آزادی تحریر و تقریر کے متوالے صبح ‘دوپہر‘ شام ملا حیاں سناتے‘آزادی صحافت کو درپیش خطرات کا ذکر کرتے ہیں۔جس دن پاکستانی میڈیا ’’ذمہ داری‘‘ کے غیر معمولی احساس سے سرشار یہ اہم خبر ایک اہم پاکستانی شخصیت کا نام لئے بغیر چلا رہا تھا ریگولر اور سوشل میڈیا پر ایک انگریزی اخبار کے دفتر کے سامنے ڈیڑھ دو درجن افراد کے احتجاجی مظاہرے کے خلاف کہرام برپا تھا اور اسے آزادی اظہار رائے کی مخالف غیر جمہوری قوتوں کی کارستانی قرار دے کر بے نقط سنائی جا رہی تھیں۔

مجھے ذاتی طور پر ملک ریاض حسین سے بغض ہے نہ میڈیا ہائوس کی احتیاط پسندی پر اعتراض اور نہ آزادی اظہار رائے کے منافی سرکاری اور غیر سرکاری اقدامات سے اتفاق۔ ایک کارکن صحافی کے طور پر میں ایسی کسی غیر جمہوری پابندی کو جائز تسلیم کر کے مقدس پیشے سے انصاف کر سکتا ہوں نہ اپنے ضمیر کو مطمئن‘ لیکن سوال محض یہ ہے کہ میڈیا صرف عمران خان کی حکومت اور غیر مرئی قوتوں کے جبر‘ دبائو اور پابندیوں کا شکار ہے؟ اگر الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر وہ سب کچھ کہنے اور لکھنے کی آزادی مل جائے جو سوشل میڈیا کے مجاہدین کو حاصل ہے تو پاکستان جمہوریت کا گہوارہ اور حریت فکر کا استعارہ بن کر عالمی برادری کی قیادت کرے گا؟ مجھے اور مادر پدر آزادی اظہار سے الرجک ہر پاکستانی شہری کو سچ کے پردے میں لپٹے اس جھوٹ سے سوفیصد اختلاف ہے۔ حکومت اور ریاستی ادارے یقینا اثر انداز ہوتے ہیںایوب خان ‘ ضیاء الحق اور پرویز مشرف کے فوجی ادوار اور ذوالفقار علی بھٹو اور نواز شریف کے جمہوری عہد میں بھی‘ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں تو عزت و آبرو کی پامالی کا رواج بھی تھا‘ مگر ہمیشہ ادارے ہی غلط نہیں ہوتے۔ اپنی شہری ‘ قانونی‘ اخلاقی اور اسلامی حدود و قیود سے تجاوز ہم بھی کرتے ہیں‘ چند ایک تو اسلامی اخلاقیات کو مانتے ہیں نہ آئینی و قانونی حدود و قیود کی پروا کرتے ہیں‘ آزادی کے ساتھ ذمہ داری کے تصور سے وہ ناآشنا ہیں اور معاشرے کی حساسیت کا انہیں ادراک نہیں‘ انگریزی اخبار نے لندن بریج میں نہتے شہریوں پر چاقو سے حملہ کرنے والے عثمان کو پاکستانی شہری بتا کر وعدہ معاف گواہ کا کردار ادا کیا‘ مجال ہے کہ کسی صحافتی تنظیم اور ادارے نے روکا‘ ٹوکا اور معذرت شائع کرنے کا مطالبہ کیا ہو‘ مقبوضہ کشمیر میں حق خود ارادیت کے حصول اور بھارتی ریاستی و فوجی دہشت گردی کا مقابلہ کرنے والے مجاہدین کو انگریزی اخبارات میں دہشت گرد لکھا جاتا ہے مگر آزادی اظہار کے مبلغوں نے کبھی بُرا منایا نہ صدائے احتجاج بلند کی ۔

چند روز قبل طلبہ یونینوں کی بحالی کے نام پر ایک فتنہ اٹھا۔ لال جھنڈے اٹھائے چند نوجوان لڑکوں لڑکیوں نے اچانک ملک کے مختلف شہروں میں ’’جب لال لال لہرائے گا‘‘ کاراگ الاپا اور ہمارا میڈیا ان کی پشت پر کھڑا ہو گیا۔ سنجیدہ فکر شہری حیران کہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295سی ‘ پاکستانی آئین کے اسلامی تشخص اور مردوں کے جبر و استبداد ‘ خواتین کی مظلومیت کا طلبہ یونینوں سے کیا تعلق؟ اور ان بچوں بچیوں کا بدنام زمانہ فارن فنڈڈ این جی اوز سے کیا رشتہ ناطہ جو امریکہ ‘ جرمنی ‘ ناروے ‘ کینیڈا سے فنڈ بٹور کر پاکستان کے معاشرے میں سماجی‘ صنفی اور سیاسی بگاڑ پیدا کرنے کے درپے ہیں‘ یہ اگر سوشلزم اور کمیونزم کے گڑے مردے اکھاڑنے کی تحریک ہے تو طلبہ یونینوں کی بحالی کے پردے میں کیوں ؟اور اگر اس کا مقصد توہین رسالت کے قوانین کو چھیڑنا اور مسلمانوں کے جذبہ عشق رسول ﷺ کا امتحان لینا ہے تو اس موقع پر کیوں ؟ جب ناروے کے واقعہ کے بعد پاکستان میں ویسے ہی جذبات مشتعل اور عاشقان رسول ﷺ ضرورت سے زیادہ حساس و چوکس ہیں۔ ریاست مدینہ کا مذاق اڑانا‘ قومی اخلاقیات اور اسلامی اقدار کا جنازہ نکالنا اور معاشرے کے جذبات و احساسات کو حیلوں بہانوں سے مجروح کرنا مادر پدر آزاد گروہ کا بنیادی مقصد ہے تو پھر کہاں کی صحافتی اخلاقیات اور کہاں کے اُصول ضابطے؟ مگر یہ چلے گا کب تک پرویز مشرف یا کوئی دوسرا فوجی سربراہ آئین شکنی کرے تو گردن زدنی ہے مگر مذہب بیزار طبقے کو آئین کی اسلامی شقوں اور ریاستی قوانین سے چھیڑ چھاڑ کی مکمل آزادی ہے کوئی بھی ریاستی ادارہ باز پرس درکنار اگر آئین و قانون کی طے کردہ حدود سے تجاوز نہ کرنے کی درخواست کرے تو آزادی صحافت کو خطرات لاحق مگر کسی دولت مند ‘ طاقتور اور بااثر فرد کے بارے میں یا خلاف خبر کا مکمل بلیک آئوٹ جائز بلکہ فرض اس قدرضروری کہ چینلز پر کوئی پروگرام ہوا نہ اخبارات میں کالم چھپا اور نہ کسی حریت پسند‘ دلیر اور آزادی صحافت کے علمبردار تجزیہ کار و دانشور کے منہ سے ایک لفظ پھوٹابجا کہ یہ تجارتی مفاد کے سبب ہے لیکن کس ادارے کا تجارتی مفاد ریاست اور ریاستی اداروں کے اعلیٰ مفادات سے بدتر و بالادست ہے؟ یہ مفروضہ نہیں حقیقت ہے کہ آزادی کا جو مفہوم معاشرے میں رائج کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں وہ ایک ایجنڈے کا حصہ ہیں۔

عمران خان اور فوج کو آزادی صحافت کا دشمن ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگ رہا ہے اور آزادی کے نعرے بلند ہو رہے ہیں مگر ایک خبر ایک واقعہ نے ساری آزادی صحافت اور حریت پسندی کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ میری مانے تو حکومت اور ریاست میڈیا سے پیمرا‘ وزارت اطلاعات‘ محکمہ اطلاعات اور دیگر اداروں کے ذریعے معاملہ کرنے کے بجائے کسی بزنس ٹائیکون کی خدمات حاصل کرے‘ سوفیصد افاقہ ہو گا‘ ہینگ لگے نہ پھٹکڑی اور رنگ بھی چوکھا آئے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com