نیا آئینی بحران ، قومی مکالمے کی ضرورت ؟ ۔ قادر خان یوسف زئی

حکمران اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان آئینی معاملات پر محاذ آرائی کو صحت مند رجحان قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ویسے بھی موجودہ حکومت و اپوزیشن کے درمیان قومی معاملات پر اتفاق رائے کا شدید فقدان پایا جارہا ہے۔ تحریک انصاف کی اتحادی حکومت کو 15ماہ ہوچکے ہیں، تاہم قانون سازی کے لئے اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ حزب اقتدار کی سنجیدہ کوششیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔حزب اختلاف کو سب سے تنقید کا نشانہ بنانے والے وفاقی وزیر فواد چوہدری کی جانب سے گزشتہ دنوں بڑا نپا تلا اور سنجیدہ بیان سامنے آیا۔

وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا کہ”پاکستان کے سیاسی نظام میں اس وقت ارتعاش ہے اور یوں لگ رہا ہے کہ ادارے ایک دوسرے کے اختیار کے درپے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ملک کے تینوں اداروں کے سربراہان مل بیٹھیں کیونکہ وزیراعظم، آرمی چیف اور چیف جسٹس چاہتے ہیں کہ ادارے مضبوط ہوں۔فواد چوہدری نے کہا کہ قومی مکالمہ وقت کی ضرورت ہے اور اس مکالمے میں آنے والے چیف جسٹس گلزار کو بھی شامل کیا جائے۔ اہم بات یہ ہے کہ ہم آپس میں ڈائیلاگ کریں“۔وفاقی وزیر نے ریاست کے چار ستونوں میں تین ستون کا ذکر کرتے ہوئے ذرائع ابلاغ کے حوالے سے چوتھے ستون کو نظر انداز کردیا۔

ریاست کے چار ستونوں میں میڈیا، ایک ایسا ستون ہے جوباقی ماندہ اداروں کی کارکردگی سمیت عوام میں آگہی و شعور دینے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ چوتھے ستون کے ہاتھ پیر باندھنے سے منفی نتائج ہی نکلتے ہیں۔ ضرورت تو اس امر کی ہے کہ میڈیا کے کردار، حدود اور غیر جانبداری کی پالیسی واضح کی جائے۔ میڈیا ہاوسز کے درمیان مسابقتی مقابلہ اپنی جگہ، لیکن قومی مفادات عامہ پر چاروں ستونوں کا ایک صفحے پر آنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

آرمی ایکٹ میں ترمیم و قانون سازی کے علاوہ چیف الیکشن کمشنر کی تقرری پر تادم تحریر ڈیڈ لاک ہے اور معاملہ ایک بار پھر سپریم کورٹ چلا گیا ہے۔ متحدہ اپوزیشن نے دائر آئینی درخواست میں چیف الیکشن کمشنر کی تقرری پر آئینی سقم کی نشان دہی کی ہے۔اس امر سے قطع نظر کہ عدالت عظمیٰ اب چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے آئینی حل کے حوالے سے کیا لائحہ عمل اختیار کرتے ہوئے فیصلہ دے گی، یہاں پارلیمان پر ایک سوالیہ نشان کھڑا ہوچکاہے کہ قانون ساز آئینی ادارہ اگر اپنے معاملات حل نہ کرسکے اور آئینی بحرانوں کو عدالتوں میں لے کر جاتے رہے تو عوام یہ ضرور سوچنے پر مجبور ہونگی کہ آخر ایسی پارلیمان کا کیا فائدہ؟۔

دوسری جانب پارلیمانی کمیٹی برائے تعیناتی ججز نے اسلام آباد اور صوبائی ہائیکورٹس میں عدالتی عہدوں پر امیدواروں کی درخواستیں وصول کر نے کے لیے اپنے قواعد میں ترمیم بھی کی ہے۔ نامزد جج صاحبان کو پارلیمانی کمیٹی کو انٹرویو کے لئے بھی بلایا جاسکتا ہے۔ اس پس منظر میں غور کیا جائے کہ اگر یہی صورتحال بعد میں بھی رہی تو دیگرپارلیمانی کمیٹیاں ایسے ججز کے سامنے اپنے معاملات لے کر جانا شروع ہوجائیں جنہیں انہوں نے خود نامزد کیا ہو، تو تصور کیا جاسکتا ہے کہ صورتحال کس قدر مضحکہ خیز نظر آتی ہے۔ ایک جانب پارلیمان کو مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا جاتا ہے، تو دوسری طرف پارلیمنٹ کو سپریم ادارہ بنانے کا بھی عندیہ دیتے ہیں۔بدقسمتی سے پارلیمان میں موجود سیاسی جماعتوں کے درمیان ایسی کوئی ہم آہنگی نہیں، جسے مثالی قرار دیا جاسکے۔ آرمی ایکٹ کے حوالے سے ہی پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا بیان سامنے آچکا ہے کہ پہلے وزیر اعظم تبدیل ہوگا، پھر ترمیم ہوگی۔ تو دوسری جانب وفاقی وزرا کا کہنا ہے کہ انہیں کسی دوسری سیاسی جماعت کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

آرمی چیف کی مدت ملازمت کے بعد الیکشن کمیشن اراکین اور چیئرمین کی تقرری پر آئینی بحرا ن پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ آئین میں سقم کو پارلیمانی جماعتوں کو دور کرنا چاہیے، لیکن مسئلہ یہاں یہ ہے کہ فریقین ایوانوں کے بجائے عدلیہ کی جانب دیکھتے ہیں اور پھر عدلیہ سے احکامات یا ہدایات لے کر واپس اُسی پارلیمان میں آتے ہیں، جہاں سے عدلیہ گئے تھے۔آئینی معاملات کو حل کرنا تمام سیاسی جماعتوں کی یکساں ذمہ داری ہے۔ تاہم حزب اقتدار کے لئے زیادہ ضروری ہوجاتا ہے کہ ہر صورت میں حزب اختلاف کی جماعتوں کو بھی ساتھ لے کر چلیں۔ آئینی اداروں میں قانون سازی کے لئے تمام جماعتوں کو ایک صفحے میں رکھنا ضروری ہے تاکہ اتفاق رائے سے آئینی ذمے داری پوری ہو۔

سیاسی مخالفتوں و بیان بازیوں کی وجہ سے پارلیمان کا ماحول مثالی نہیں ہے۔ حزب اقتدار ہو یا حز ب اختلاف، ہر دو کی جانب سے قومی مفادات عامہ پر بھی تلخیوں نے عالمی برداری کو اچھا پیغام نہیں دیا۔چیف الیکشن کمشنر اور اراکین کی بروقت تعیناتی نہ ہونا، حکومت کے لئے اچھا تاثر نہیں دے رہی۔ عدلیہ ومیں حزب اختلاف کا جانا، پارلیمان و حکومت کی ناکامی سمجھی جاسکتی ہے۔ اتفاق رائے کا پیدا نہ ہونا فریقین کے درمیان اعتماد کی فضا نہ ہونے کا واضح اشارہ ہے۔وفاقی وزیر شریں مزاری کا کہنا ہے کہ ان کو اب بھی امید ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کی ریٹارمنٹ کے بعد بھی کچھ دن قانونی طور پر موجود ہیں۔

اس لئے اراکین سمیت چیف الیکشن کمشنر پر اتفاق رائے ہوجائے گا۔اگر ایسا ہے ہوجائے تو اچھی بات ہوگی۔ تاہم حزب اقتدار کے وزرا ء جس قسم کی بیان بازیاں کررہے ہیں، اس سے سیاسی ماحول کو بہتر بننے کے بجائے کشیدہ ہورہے ہیں، یہ امر افسوس ناک ہے۔ حکومت کو تمام سیاسی مینڈیٹ کا احترام کرتے ہوئے مفاد عامہ کے معاملات پر مفاہمت کا رویہ اپنانے کی ضرورت ہے۔ ترش و غیر سنجیدگی صحت مندانہ سیاسی ماحول کے لئے ساز گار نہیں کہلائے جاسکتے۔مملکت متواتر آئینی بحرانوں کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ خاص کر نچلی سطح پر عوام میں مہنگائی، بے روزگاری سمیت ضروریات زندگی کے ہر معاملے میں شدید بے چینی و عدم تحفظ پایا جاتا ہے۔

عوام میں یہ تاثر ضرور پکڑتا جارہا ہے کہ عوامی نمائندے ان کے دیرینہ مسائل حل کرانے کے بجائے فروعی سیاست میں الجھی ہوئی ہے۔15 ماہ گزرنے کے باوجود عوام کی زبوں حالی پریشاں کن ہے۔ عوام کو ریلیف درکار ہے جس سے ان کے مسائل حل ہونے کی امیدیں پیدا ہوں۔ حکومت و دیگر سیاسی جماعتوں کی کارکردگی کو عوام حوصلہ افزا قرار نہیں دے رہے۔ فرد واحد کے لئے قانون سازی کئے جانے کے رجحان میں اضافے کی چہ میگوئیاں موجودہ نظام پر عدم اعتماد کو بڑھا رہی ہیں۔

ریاست کے چاروں ستونوں کو عوام کے مفاد کے لئے اجتماعی پالیسی و قانون سازی کی جانب قدم بڑھانے کی ضرورت ہے۔ عوام نے مستقل مزاجی سے موجودہ حکومت کی سخت ترین پالیسیوں کو برداشت کیا ہے اور اداروں کو بھرپور موقع فراہم کیاہے تاکہ پارلیمان اجتماعی مفادات پر یکسو ہوسکیں۔ عوامی توقعات کو دم توڑنے نہ دیں کیونکہ یہ ہم سب کے حق میں بہترنہ ہوگا۔