بصیرت سے بصارت تک - ثناء آغا

چل بلھیا، چل اوتھے چلیے

جتھے سارے اَنّے.

نہ کوئی ساڈی ذات پچھانڑے

نہ کوئی سانوں منّے

شاید ہی اس جہاں میں اب کوئی کوچا ایسا رہا ہوگا جہاں آنکھیں رکھنے والے دیکھتے بھی ہونگے۔دیکھنے والے محسوس بھی کرتے ہوں گے اور محسوس کرکے غلط اور صحیح کے درمیان میزان بھی بنتے ہوں گے۔ہمارا معاشرہ پتا نہیں کس رخ چل پڑا ہے۔ دل دہلادینے والے اور روح کو جھنجھوڑ دینے والے واقعات اس معاشرے میں معمول بن گئے ہیں۔نہ زمین پھٹی اور نہ ہی آسمان خون کے آنسو رویا۔ کل زینب تھی تو آج جنت اس قوم کی بیٹی اور پتہ نہیں کتنی ہی ایسی معصوم بچیاں جن کی آواز نکلنے سے پہلے ہی دبا دی جاتی ہے۔یہ ایک تسلیمہ حقیقت ہے کہ ہم مسلمان قوم ہیں۔اسی لئے ایسے گناہ کر کے ہم چھپا دیتے ہیں قتل کر دیتے ہیں کیونکہ قتل کرنے کے بعد سب چھپ جائے گا۔

جبکہ انسان بھول جاتا ہے کہ اس نے اس گناہ کا گواہ اللہ تعالیٰ کو کرلیا ہے۔انسان انسان سے تو ڈرتا ہے مگر اللہ رب العزت کی ذات اوراس کی گرفت کو بھول جاتا ہے۔ آئے روز اس طرح کے دلخراش واقعات عام ہوتے جا رہا ہے۔یہ امت مسلمہ اور اس کے حکمرانوں کے منہ پر ایک ایساطمانچہ ہے کہ ہم باامرمجبوری اس معاشرے میں اپنے معصوم بچوں کو جنسی تعلیمات د ے ر ہے ہیں۔ہونا تو امت مسلمہ میں یہ چاہیے تھا کہ اس گناہ کی ایسی سزا ہو کہ ہر کوئی اس بے رحمی سے پہلے ہزاربار سوچے۔لگتا تو کچھ یوں ہے کہ اس معاشرے میں اللہ تعالی کا ڈر ختم ہوگیا ہے۔جس معاشرے میں دوسری شادی اور بیوہ سے نکاح کرنا لوگوں کی باتوں کے ڈرسے خاطر شجرممنوعہ بن گیا ہو ۔اس معاشرے میں آبروریزی اور اس طرح کے گناہ عام ہو جاتے ہیں۔انسان انسانوں کی باتوں سے ڈر کر دینی احکامات کو درگزر کر دیتا ہے۔لوگ کیا کہیں گے۔

آسان کام ہے کسی معصوم بچی کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانا۔اس سفاک معاشرے میں مرد اپنی ہوس کا نشانہ بنانے سے پہلے نہ معصوم کی معصومیت دیکھتا ہے اور نہ ہی رنگ و نسل۔ کچھ واقعات نظر سے ایسے گزرے کہ روح کانپ اٹھی۔اگر دیکھا جائے تو ہر گھر میں زینب اور ہر گھر میں جنت موجود ہے کیا اس ملک کے قانون ساز اداروں کے نام نہاد تاجداروں کے گھروں میں جنت اور زینب موجود نہیں یا وہ انتظار کر رہے ہیں اس وقت کا کہ خدانخواستہ جب ظلم کی ایک ایسی ہی چنگاری ان کے گھروں کو آگ لگا دے۔ پھر شاید کوئی ایسا قانون بنایا جائے گا۔ کیا ہمارا حکمران طبقہ خودکو اپنے ضمیر اورعوام کی عدالت میں جوابدہ نہیں سمجھتا۔اس عارضی دنیا میں نا سہی انہیں آخرت میں تو جواب دینا ہوگا ۔ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ ہم اپنے بیٹوں کی تربیت کر یں۔انہیں گناہ اور ثواب کے بارے میں بتائیں، حلال اور حرام کی تمیز دیں۔

ہم ہمیشہ بیٹیوں کو کئی جائزسرگرمیوں سے روکتے اورانہیں ہروقت سمجھاتے رہتے ہیں۔بس بیٹیوں کی ہی تربیت پر زور دیتے رہتے ہیں اور لڑکوں کو آزادبلکہ بے لگام چھوڑ دیتے ہیں۔مردوں کے معاشرے میںہرسطح پر عورتوں کو دبا دیاجاتا ہے ۔پچھلے دنوں سندھ میں ایک لڑکی کو اس دور میں مبینہ طورپرسنگسار کیا گیا۔انسانیت کا ایک بہت بڑا تماشا لگا،کیا سنگ باری کرنیوالے سب فرشتے تھے۔اذیت کی تاب نہ لاکر حواکی وہ بیٹی تو مر گئی مگر اس کی میت کے ساتھ ہی انسانیت کا جنازہ بھی اٹھ گیا۔عورتوں اور بچیوں کو نشانہ بناکر یہ مرد انسانیت کے معیار سے بھی گر جاتے ہیں۔کیا یہ ہیں وہ مرد جنہیں عورتوں پر فوقیت حاصل ہے جبکہ انہیں جنم دینے والی ماں بھی توایک عورت ہے۔

یہاں اختلاف مرد کا عورت پر فوقیت کا نہیں ہے،یہاں صرف اور صرف تربیت میں کمی پر اختلاف ہے جو انسان کو حیوان بنا دیتی ہے۔دین اسلام کے منبر پر چڑھ کر اسلامی اصولوں کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔معصوم کی بے بسی اور مجبورکی مجبوری کا سودا کیا جاتا ہے۔افسوس تو صرف اس بات کا ہے کہ انسان انسانیت سے اس حد تک گر گیا کے معصوم جانوں کا ان کی عزتوں کا بیوپاری بن گیاہے۔دل پھٹ جاتا ہے یہ بات سن کر کہ اپنے ہی خون کے رشتے ایسے شیطانی عمل کی کڑی بنتے ہیں۔ شاید ہم زمانے کے اس آخری دور میں ہیں جس کا ذکر قرآن مجید فرقان حمید میں ہوا ہے۔ہم ہیں معاشرے کو غلط اور صحیح راہ پر چلانے والے ہیں۔

کچھ کہیں بھی غلط دیکھو تو ضرور بولو آواز اٹھاؤ صرف اس لئے نہیں کہ مظلوم کو اس کا حق ملے بلکہ اس لیے کہ کل اس صورتحال کا سامنا کہیں آپ یاآپ کے پیاروں کو نہ کرنا پڑجائے۔مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہم پر یہ فرض ہے اور قرض بھی کہ باطل کے سامنے جہاد کے لیے کھڑے ہو جائیں، ظالم کے سامنے ہاتھ اٹھایا جائے اور اگر ہاتھ اٹھانے کی حیثیت نہیں ہے تو آواز اٹھائی جائے اور اگر آواز اٹھانے کی بھی حیثیت نہیں ہے تو دل سے غلط کو غلط جانیں۔سعودی عرب جیسے ملک میں جنسی تعلیم بچوں کو نہیں دی جاتی مگر وہاں کے قوانین ایسے ہیں کہ کوئی بھی ایسے ظلم کاتصور بھی نہیں کرسکتا۔

کم از کم ہمارے ملک میں ایسا شیطان عمل نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ہم مسلمان ہیں اور ہماری تعلیمات میں ان سب گناہوں کو گناہ کبیرہ قراردیا گیا ہے۔جس کی کوئی معافی یاتلافی نہیں۔جب ان معصوم بچے جنت کی روح جنت میں جائے گی تویقینااپنے معبودبرحق سے سوال کرے گی اورپھراللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس کے روبرو ہمیں من حیث القوم شرمندگی کاسامناکرناپڑے گا۔اپنے رب کو کیا بتائے گی یہ بات سوچ کر روح کانپ جاتی ہے جس کلی کو یہ پتا ہی نہیں تھا کہ اس نے کب کھلنا ہے،فرشتوں کے سوال پر کیا بتائیں گی۔اور ایسی پتہ نہیں کتنے آ نگن کے پھول انسانی ہوس کا نشانہ بن جاتے ہیں۔

مجھے، میرے معاشرے'میرے حکمرانوں، میری عدلیہ!ہم سب کو جواب دینا ہے ہم سب کو انصاف کا ایک ایسا در بنانا ہے جہاں ہر انسان بے خوف و خطر اپنے حقوق کیلئے آواز بلند کر سکے۔کسی زینب کے باپ کی آواز نہ بند کی جائے۔کسی بیٹی کوسنگسار کرنے کے بعد بھی اس کی عزت نہ اچھالی جائے ۔کسی بچی کی عزت اور زندگی سے کھیلنے کے بعد بھی اس کے غمزدہ ماں باپ اوربہنوں بھائیوں کو جیتے جی نہ مارا جائے۔

ایک ایسامقام، ایسامعاشرہ جہاں لوگ اپنی عزت اور وقار کو محفوظ سمجھیں نہ کہ لوگ انصاف مانگنے کے لیے وہاں جانے سے ڈریں۔ہمارے معاشرے میں بہت سے ایسے ظلم ہیں جو چھپادیے جاتے ہیں ،وہ میڈیایاسوشل میڈیامیں رپورٹ نہیں ہوتے کیونکہ لوگ انصاف دینے والے حضرات کوبتانے سے گھبراتے ہیں ۔ ان کے غیر اخلاقی سوالوں سے انسان خود مجرم بن کر رہ جاتا ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */