فارن فنڈنگ کیس کی ریس - محمد طیب زاہر

ملک کا تجارتی خسارہ اگرچہ کم ہو رہا ہے ۔اسٹاک ایکسچینج اور بین القوامی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے پاکستان کی معیشت میں مثبت اشارعیے کی نشاندہی کی ہے لیکن اس کے اثرات ابھی عام عوام پر آنا باقی ہیں ۔مہنگائی کے بہتے ہوئے سیلاب نے پاکستان کے غریب اور پسے ہوئے طبقے کو اپنے نشانے پر رکھ کر بہانہ شروع کردیا ہے ۔

موجودہ صورتحال میں متوسط طبقے کی زندگی اجیرن بن کر رہ گئی ہے ۔وزیر اعظم عمران خان کو مہنگائی ،بے روزگاری جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے جن سے ان کو ہر صورت نبرد آزما ہونا ہوگا اور یہ ان کی حکومت اور ان کی ساکھ کے لئے بے حد ضروری ہے ۔اپوزیشن جو کہ احتساب کے شکنجے میں بری طرح سے گری ہوئی تھی اُس کے پاس حکومت کی کمزوریوں کو اُچھالنے کا واضح جواز نہیں تھا ۔ اُس کے پاس محض ایک ہی راستہ بچا تھا کہ وہ کسی طرح حکومت کی خامیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اس پر قاری ضربیں لگائیں جس سے انتظامیہ کی طاقت کے توازن میں بگاڑ پیدا ہوجائے ۔

یہی وجہ تھی کہ اپوزیشن نے عمران حکومت کے پہلے ہی دن سے ان کی نا اہلی کا راگ الاپنا شروع کردیا۔اپوزیشن نےمہنگائی بے روزگاری صنعتی پہیے کے جام ہونے سمیت عوامی معاملات کو ہائی لائٹ کرکے حکومت کے خلاف طبلِ جنگ بجائے رکھا۔جہاں جہاں حکومت کے (سمجھدار) وزیروں اور مشیروں نے لوز بالز کرائے وہاں وہاں اہوزیشن نے حکومت کو عوام کی نظروں میں گندا ثابت کرنے کی پوری سہی کی۔جیسا کہ مشیر خزانہ کا نیا افسانہ ملاحظہ ہو کہ ٹماٹر 17 روپے کلو مل رہے ہیں جبکہ ٹماٹر کی قیمت کا بلڈ پریشر 300 سے 400 روپے تک جا پہنچا اور ٹماٹر مزید لال سے لال تر ہوتا چلا گیا لیکن موصوف حفیظ شیخ کی خام خیالی نے ٹماٹر 17 روپے فی کلو ہی فروخت کرنا شروع کردئیے ۔صرف اسی بات پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ فردوس آپا نے تو حد ہی پار کرڈالی اور مٹر 5 روپے فی کلو فرخت ہونے کی بڑی خوشخبری دے سنائی۔

ایسا گمان ہونے لگا کہ حفیظ شیخ اور فردوس عاشق اعوان سابق وزیر اعظم کے 5 روپے فی کلو آلو والے بیان کا ریکارڈ توڑنا چاہتے ہیں سو وہ اس میں کامیاب ہوگئے۔شاید وزیر اعظم کے کھلاڑی ان کے اس مشورے پر مکمل عمل کر رہے ہیں کہ منفی رویوں سے بچنا ہے تو اخبار پڑھنا اور ٹی وی دیکھنا چھوڑ دیں۔عرض ہے کہ اگر ذرائع ابلاغ کا استعمال کرلیتے تو آج یہ حزیمت نہ اُٹھانا پڑتی کے عوامی نمائندوں کو اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کا بھی پورے طریقے سے ادراک نہیں۔وزیر اعظم کو ڈالر کا ریٹ ٹیلی فون پر بتانے سے پتہ چلا یہ سب باتیں اپنا مذاق بنانے کے لئے کافی ہے اور اپنی نا اہلیاں بتانے کیلئے بھی یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن نے اس پر پورا پورا کھیلا لیکن باوجود اس کے احتساب کا ایناکوڈا ان کے گلے کی طوق بنا رہا ۔

یہ بھی پڑھیں:   حکومت کیا شام کا اخبار ہوتی ہے- آصف محمود

پھر ایکسٹینشن والا معاملہ ٹینشن بنتا چلا گیا تو اپوزیشن نے اس میں بھی راہ نکالنے کی کوشش کی کہ کسی طرح حکومت کا بستر گول ہوجائے لیکن ان کی یہ خواہش بھی پایا تکمیل تک نہ پہنچ سکی اور اور اس آرزو نے بھی دم توڑ دیا ۔اس سے قبل علیمہ خان کی سلائی مشینوں کا معاملہ بھی زیرِ گردش آیا لیکن اُس میں بھی اپوزیشن نے محض ہوا میں ہی تیر چلائے اور اگر حکومت کے مخالفین کے پاس اس کیس میں کوئی بریک تھرو تھا تو انہوں نے اس کو کیوں utilize نہیں کیا؟ہوسکتا ہے اپوزیشن کو اس میں کوئی دم خم نظر نہیں آیا ہو اور محض واویلا کرکے حکومت پر دباؤ ڈالنے کی ایک کوشش کی گئی ہو۔

اور یا فارن فنڈنگ کیس میں عمران خان سمیت پوری کابینہ کو گھر جانے کا خواب اس پر زیادہ بھاری ہو۔اپوزیشن کو ایک دم سے یہ احساس ہوا کہ فارن فنڈنگ کیس بھی کوئی کیس ہے جو پی ٹی آئی کے خلاف چل رہا ہے اور یہ کیس 5 سال سے الیکشن کمیشن میں زیر سماعت ہے۔ جیسے ہی اپوزیشن کو مہنگائی ۔بے روزگاری سمیت دیگر معاملات میں کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی تو اب اس کے ہاتھ حکومت کا طوطا آگیا اگر اس طوطے کی گردن مروڑ دی جاتی ہے تو پوری حکومت کا صفایا ہوسکتا ہے ۔

اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ فارن فنڈنگ کیس کی وجہ سے مردہ اپوزیشن میں توڑی جان آگئی اور اس پر سونے پر سہاگہ یہ ہے کہ اب آرمی چیف کے ایکسٹینشن کے حوالے سے قانون پاس کرنے کیلئے بھی حکومت کو ترمیم کرنا ناگزیرہے اور یہ ترمیم اپوزیشن کی مرضی کے بغیر نہیں ہوسکتی۔اسی بات کے پیشِ نظر احسن اقبال نے بھی کہہ دیا کہ عمران خان ہم سے اُلجھ رہے ہیں حالانکہ انہیں اس کا علم ہونا چاہئے کہ قانون میں ترمیم کے لئے ان کو اپوزیشن کی مدد درکار ہے۔ گو کہ اپوزیشن فوری طور پر فارن فنڈنگ میں نہ سہی مگر اس قانون کی ترمیم کی آڑ میں اپنی کچھ باتیں حکومت سے منوا سکتی ہے۔ آج احسن اقبال بڑھ چڑھ کر بات کرتے ہیں ۔

وہ عمران خان پر الزام لگاتے ہوئے کہتے ہیں کہ فارن فنڈنگ کیس میں پی ٹی آئی اور حکومت الیکشن کمیشن پر اثر انداز ہو رہی ہے گو کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب آپ کی حکومت تھی تو تب ادارے آپ کے کنٹرول میں تھے اگر عمران خان اداروں پر اثر انداز ہو رہے ہیں تو پھر آپ کو بھی اُس وقت اداروں پر مکمل کنٹرول حاصل تھا اُس وقت فیصلہ کروا دیتے الیکشن کمیشن سے جو اب آپ مطالبہ کرر ہے ہیں۔اُس وقت آپ نے الیکشن کمیشن سے فارن فنڈنگ کیس کا مطالبہ کیوں نہ کیا جب عمران خان آپ پر دھاندلی کے الزامات لگاتے نہیں تھکتے تھے اُس وقت آپ نے فارن فنڈنگ کیس کا ذکر کیوں نہیں کیا جب عمران خان کنٹینر پر آپ کے گلے کی ہڈی بن گئے تھے ۔

یہ بھی پڑھیں:   آؤٹ آف کنٹرول - محمد طیب زاہر

اُس وقت تو عمران خان نہ اقتدار میں تھے نہ وہ الیکشن کمیشن پر اثرانداز ہوسکنے کی پوزیشن میں تھے ۔یہ آپ کا بھائی چارہ تو نہیں تھا کہ آپ اُس وقت خاموش رہے ؟ ہوسکتا ہے آپ کو یہ ڈر ہو کہ اس پر بات کرنے سے آپ کو لینے کے دینے نہ پڑ جائے اب چونکہ آپ کو یہی ایک اُمید نظر آئی تو ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی ساتھ لے ڈوبیں گے پر عمل پیرا ہوگئے۔اپوزشین کا رویہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ وہ احتساب کے شکنجے سے راہِ فرار اپنانے کیلئے اس کو اپنی آخری ڈھال بنانا چاہتی ہے کیونکہ اگر فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ پاکستان تحریک انصاف کے خلاف آتا ہے تو نہ صرف پی ٹی آئی بلکہ وزیر اعظم سمیت پوری کابینہ گھر جاسکتی ہے اس کے بعد نہ رہے گی حکومت اور نہ رہے گا کوئی کیس ۔

فارن فنڈنگ پر بات ہو رہی ہے تو قارئین کی معلومات کے لئے یہ بتا دیتے ہیں کہ بنیادی طور پر پی ٹی آئی پر اس کیس سے متعلق الزامات کیا ہیں ۔ پاکستان تحریک انصاف کے باغی رکن اکبر ایس بابر نے 2014 میں مذکورہ کیس دائر کیا تھا، جس میں ان کی جانب سے یہ الزام عائد کیا گیا کہ غیر قانونی غیر ملکی فنڈز میں تقریباً 30 لاکھ ڈالر دو آف شور کمپنیوں کے ذریعے اکٹھے کیے گئے اور یہ رقم غیر قانونی طریقے ہنڈی کے ذریعے مشرق وسطیٰ سے پی ٹی آئی ملازمین کے اکاؤنٹس میں بھیجی گئی۔ان کا یہ بھی الزام تھا کہ جو فنڈز بیرونِ ملک موجود اکاؤنٹس حاصل کرتے تھے، اسے الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئی سالانہ آڈٹ رپورٹ میں پوشیدہ رکھا گیا۔

تاہم پی ٹی آئی کے رکن فرخ حبیب کہتے ہیں کہ اس کیس میں تحریک انصاف سرخرو ہوگی اور اپوزیشن کا یہ آخری پتہ بھی ہوا دینے لگ جائے گا اور ان کو منہ کی کھانا پڑے گی ۔اس سے متضاد الیکشن کمیشن نے پیپلز پارٹی اور پی ایم ایل این کو بھی اپنی اپنی پارٹی کی فنڈنگ کا حساب دینے کا حکم دیا ہے فرخ حبیب یہ بھی کہتے ہیں کہ ن لیگ کے اپنے اکاؤنٹس سے پیسے نواز شریف کے اکاؤنٹس میں ٹرانسفر ہوئے اگر ایسا ہے تو پی ایم ایل این کو لینے کے دینے پڑسکتے ہیں ۔