باطل کی نزاعی چیخیں - فائزہ حقی

پڑوس کے باغ میں انگور کی بیل بہت ہی خوبصورت طریقوں سے مختلف بانسوں کے ذریعے چڑھانے کی مشقت کی گئی تھی مگر اس بیل کی چند شاخیں شاید کچھ نافرمان بھی تھیں چنانچہ وہ اس کے باغ سے نکل کر باہر روڈ پر پھیلی ہوٸ تھیں اور شام تک وہاں سے گزرنے والے چھوٹے موٹے ٹریفک کے پہیوں میں آکر مسل چکی تھیں ۔

وہاں سے روزانہ گزرتے ہوٸے باقاعدگی سے اس باغ کا جاٸزہ بھی لیا جاتا اور باغبان کو مشورے بھی ساتھ کے ساتھ پکڑادٸے جاتے لیکم ان شاخوں کا اتنا برا حشر دیکھ کر قدم خودبخود اس باغ کے اندر چل پڑے جہاں کسی باغبان کا نام ونشان بھی نظر نہ آرہا تھا ۔

خاصی ڈھونڈ تلاش کے بعد عقدہ کھلا کہ ناغبان بیمار ہے اور کافی دنوں سے چھٹی پر ہے ۔سو نتیجہ یہ نکلا کہ انگور کی بیل بےمہار بڑھی اور ستونوں کو چھوڑ کر سڑک پر آرہی ۔لہٰذا پھر ہونا وہی تھا جو ہوا۔سڑک پر سے گزرنے والا ٹریفک روندتا ہوا گزر گیا ان شاخوں کو جنہوں نے شوخی دکھاٸ اور اپنی اوقات سے باہر آگٸیں۔بہن نے ایک وڈیو ڈالی جس میں کسی پاکستانی یا انڈین یونیورسٹی کے طلبإ وطالبات اچھل اچھل کر اور ہاتھ لہرا لہرا کر سرخ ہے سرخ ہے ایشیا سرخ ہے کی گردانیں الاپ رہے تھے ۔

انکے اطراف میں سوکالڈ انکے محافظ کچھ لڑکے بھی انکی اوٹپٹانگ حرکتوں پر تالیاں بجا بجا کر انہیں سراہ رہے تھے ۔کچھ سمجھ نے کام نہ کیا۔ادھر ادھر سے پوچھا تو سب لاعلم ہی نکلے۔اس بات کی وضاحت پھر ایک دوسری تصویر نے خود ہی کردی جس میں تین لڑکیاں، ایک لڑکے کو کتے کی ہیٸت میں رسیوں سے جکڑے سڑک پر لیکر رواں دواں نظر آٸیں جنکو کہ ایک جمغفیر سراہنے کے لٸے اطراف میں موجود تھا ۔

ایک دم سے وہ تصویر دیکھتے ہی دماغ گھوم سا گیا ۔پھر دیکھا کہ باٸیکیا نے فیمیل راٸیڈرز کا بھی انتظام کرلیا ہے جو مسافروں کو ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچانے کیلٸے باٸیک کا استعمال کریں گی ۔اس پر پھر ایک موٹر ساٸیکل کا اشتہار یاد آگیا کہ میاں بیوی موٹر ساٸیکل پر بیٹھے ہوا خوری کررہے ہیں ۔بیوی اپنے میاں سے کہتی ہے کہ ”آپ جب گاڑی لےسکتے تھے تو موٹر ساٸیکل کیوں لی؟ “

جواب میں ایک بریک ۔بیوی اچھل کر شوہر سے جا ٹکراٸ۔جواب ملا ”اس لٸے“

جی !کچھ آیا سمجھ میں؟۔

اسی طرح اپنے مقدس ترین مقام کی بات کریں ۔سعودی عرب کے فرمانروا جنکا کہ نام بھی کتنا پیارا ہے ُمحمد بن سلیمان انکے حکم نامے کیمطابق اب مملکت ِاسلامیہ میں اسلام کے موٹے موٹے احکام نہیں چلیں گے بلکہ اب خواتین کو پوری آزادی ہے کہ وہ جیسے چاہے کپڑے پہنیں ۔جہاں چاہے جاٸیں آٸیں جسطرح چاہے جاٸیں آٸیں۔اور جوچاہے کریں ۔
اس کے عواقب کیلٸے راقمہ کے خیال میں انڈیا کی موجودہ صورتحال چشم کشا ہے۔

اب ذرا پھر واپس آٸیں پاکستان کی طرف کیونکہ یہ وہ خطہ ہے جس سے امیر اسلام کو ٹھنڈی ہوا کے جھونکے آٸے تھے اور یہ بات ہم نے محسوس کی یا نہ کی یہودونصاریٰ نے ضرور محسوس کرلی اور اسی کے سدباب کی کوششیں وہاں سے جاری وساری ہیں۔ابھی تھوڑا ہی مدت پہلے کراچی کے صدر میں اسی قسم کی چند خواتین وحضرات نے کچھ گھٹیا قسم کے بورڈز تھامے مظاہرہ کیا ۔جنکا ایک جملہ تو آج بھی تازہ ہے کہ ”میرا جسم میری مرضی“۔

کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ یہ سب کچھ ایک دم سے آخر کیوں ہورہا ہے سواٸے اس کے کہ ،پوری دنیا کی صورتحال کچھ بتا یہ رہی ہے کہ ”اختتام قریب ہے“ ۔اور موجودہ ساٸنس بھی یہی کچھ ثابت کررہی ہے ۔لہٰذا دور حاضر کا باطل دنیا کی بساط کو لپٹتا دیکھ کر اپنی کوششوں میں مزید چابکدست ہوگیا ہے کہ اس کا گرو اپنے رب کے آگے سرخرو ہوجاٸے کہ جس نے اپنے رب کو چیلنج کیا تھا کہ ”تو مجھے موقع دے تو میں تیرے ان بندوں کو دنیاوی جال میں اس طرح پھنساٶں گا کہ انمیں سے چند ایک کے علاوہ کوٸ تیرا شکر گزار نہ ہوگا“ ۔

ہم دیکھ رہے ہیں کہ یہ کوششیں ملکی اور غیر ملکی سطح پر بہت زوروشور سے جاری وساری ہوچکی ہیں ۔موجودہ دور میں چاروناچار حکومت بھی ان ساری خرافات سے چشم پوشی کرنے پر مجبور نظر آرہی ہے ، لیکن کیوں ؟

وجہ مستور ہے مگر اہل دانش ان ساری براٸیوں کے عروج وارتقا کو سمجھیں ، اور ان ساری سازشوں کو سمجھ کر انکا سدباب کرنے کی کوششوں میں اسی طرح جت جاٸیں جسطرح براٸ کے علمبردار براٸ کا جھنڈا لہرانے میں جتے ہوٸے ہیں۔