کامیابی کا سبق - کفیل اسلم

مجھے سر نے کہا ''بیٹا زندگی میں وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو اپنے بل بوتے پہ آگے بڑھیں ورنہ جو صرف آسرے پہ زندگی بسر کرتے رہیں وہ پیچھے رہ جاتے ہیں۔ وہ دوسروں کے ہاتھ میں اپنا ریموٹ دے دیتے ہیں وہ جیسے چاہیں جب چاہیں تمہیں استعمال کرسکتے ہیں۔ یہ کہہ کر سر اٹھے اور کہنے لگے''کفیل میاں چلو میں تمہیں ایک مشہور قصہ سناؤں تم نے یقیناً کہیں سنا یا پڑھ رکھا ہوگا۔ اسے سن کر تمہیں اندازہ ہوجائیگا آسرا کیسے انسان ختم کردیتا ہے'' سر میرے سامنے آئے اور گویا ہوئے۔

ایران کا ایک بادشاہ سردیوں کی شام جب اپنے محل میں داخل ھو رھا تھا تو ایک بوڑھے دربان کو دیکھا جو محل کے صدر دروازے پر پُرانی اور باریک وردی میں پہرہ دے رھا تھا۔ بادشاہ نے اُس کے قریب اپنی سواری کو رکوایا اور اُس ضعیف دربان سے پوچھنے لگا۔ "سردی نہیں لگ رھی؟" دربان نے جواب دیا: "بہت لگتی ھے حضور۔ مگر کیا کروں، گرم وردی ھے نہیں میرے پاس، اِس لئے برداشت کرنا پڑتا ھے۔""میں ابھی محل کے اندر جا کر اپنا ھی کوئی گرم جوڑا بھیجتا ھوں تمہیں۔" دربان نے خوش ھو کر بادشاہ کو فرشی سلام کہے اور بہت تشکّر کا اظہار کیا،لیکن بادشاہ جیسے ھی گرم محل میں داخل ھوا، دربان کے ساتھ کیا ھوا وعدہ بھول گیا۔صبح دروازے پر اُس بوڑے دربان کی اکڑی ھوئی لاش ملی اور قریب ھی مٹّی پر اُس کی یخ بستہ انگلیوں سے لکھی گئی یہ تحریر بھی۔ "بادشاہ سلامت،میں کئی سالوں سے سردیوں میں اِسی نازک وردی میں دربانی کر رھا تھامگر کل رات آپ کے گرم لباس کے وعدے نے میری جان نکال دی۔"آسرے انسان کو کھوکھلا کر دیتے ہیں اسی طرح امیدیں کمزور کر دیتی ہیں اپنی طاقت کے بل بوتے جینا شروع کرو۔سہاروں کی بساکھیاں پھینک کر اپنی طاقت آزماؤامید صرف ایک خدا پہ اور بھروسہ صرف اپنی صلاحیتوں پہ رکھنا ۔ کبھی ناکام نہیں ہوگے۔وہ یہ کہہ کر اٹھے اور چل دئیے۔ میرے لئے ایک سبق چھوڑ گئے۔

Comments

Avatar

کفیل اسلم

کفیل اسلم شعبہ ِ تدریس سے وابستہ ہیں۔ معاشیات میں کراچی یونیورسٹی سے ماسٹرز کر چکے ہیں۔ بنیادی تعلق آزاد کشمیر سے ہے اور ہر کشمیری کی طرح پاکستان سے ٹوٹ کر محبت کرتے ہیں۔ شاعری اور کامیابی لوگوں کی زندگیوں کا مطالعہ کرنا پسندیدہ موضوعات ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.