قرآن کی حفاظت کا معجزہ - نیاز فاطمہ

اللہ سبحان و تعالی کے اپنے بندے پر بے شمار احسانات ہے جس میں سے سب سے بڑی نعمت ہدایت کی ہے اور اللہ سبحان و تعالی نے بنی نوع انسان کی ہدایت کے لیے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام علیہم السلام مبعوث فرماۓ اور صحائف تقریبا تین سو تک ہے مگر وہ صحائف ہم تک پہنچ نہیں سکے۔

اب صرف چار کتابیں ہیں جن کے بارے میں ہم وثوق سے کہ سکتے ہے کہ یہ اللہ سبحان و تعالی کی طرف سے ہیں زبور ،توریت ،انجیل اور قرآن کریم مگر صرف اود صرف قرآن کریم وہ سماوی کتاب ہے جس کے بارے میں یہ دعوی کیا جاسکتا ہے کہ یہ کتاب ہو بہو ویسی ہی ہے جیسے کہ یہ نازل ہوئی تھی۔

جبکہ دیگر مذہبی کتب اپنی اصلی حالت میں نہیں رہی بائبل میں تو آیتوں کو باقائدہ نکالا جاتا ہے بائبل میں تو جہاں سے آیت کی تخریج کی جاتی ہے اسی صفحے کے فٹ نوٹ پر لکھ دیتے ہیں کہ یہ آیت بائبل سے نکال دی گئ ہے اس کے علاوہ قرآن کے علاوہ دیگر کتب کے لیٹریچر میں ایسا مواد موجود ہے جو کہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ رب کائنات کا کلام نہیں ہوسکتا اس میں تحریف ہوگئ ہے اس کے علاوہ ہم اگر مختلف علاقوں کی اولڈ ٹیسمنٹ اٹھا کر دیکھے تو سب ایک دوسرے سے مختلف ہیں دوسرے کتب کے پیروکار خود تسلیم کرتے ہیں کہ ان کی کتاب محفوظ نہیں رہی۔جبکہ عیسائی خود تسلیم کرتے ہیں کہ بائبل میں پانچ ہزار ایررزہیں ۔

قرآن کریم میں خود اللہ تعالی نے قرآن کریم میں قرآن کی حفاظت کا ذمہ لیاہے ِٗٗانَا اَنزَلنا ِلذکر وَاِنا لَہُ لَحَافِظُون ،، پس آج تک ہم اسی کا نظارہ دیکھتے ہے کہ قرآن کریم آج تک اسی حالت میں محفوظ ہے جس حالت میں یہ نازل ہوا تھا لوگ کوشش کے باوجود بھی اس میں کوئی اختلاف ڈھونڈ نہیں پاۓ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ حضرت عثمان ؓ کے دور میں جو صحیفہ لکھا گیا وہ بھی بفضل تعالی محفوظ ہے۔

اس کے علاوہ آج کل جدید سائنس نے اتنی ترقی کرلی ہے کہ کاغذ دیکھ کر اور سیاہی کی جانچ پڑتال کر کے ہم جان سکتے ہیں کہ یہ صحیفہ کتنا پرانا ہے اسے ماڈرن اصطلاح میں کاربن ڈیٹنگ کہتے ہیں آپ جس بھی جگہ پر ہو وہاں کے میوزیم سے رابطہ کریں اور تھوڑی دگ و دو کے بعد قران کے نسخے مل جاتے جن کے بارے میں ہمیں علم ہے کہ آج سے چودہ سو سال پہلے لکھا گیاہے۔

یہ کتاب اپنی حفاظت کے اعتبار سے معجزہ ہے اور ایسے شخص کو جو حق کی تلاش میں ہیں صحیح راستہ فراہم کرتا ہے مگر جس شخص کے دل و دماغ پر تعصب کی تہہ ہو وہ قرآن العزیز کی بے حرمتی کرنے کی اپنے گمان میں کوشش کرتا ہے مگر جس کی رب العرش العظیم نے حفاظت کا ذمہ لیا ہو اس کی کوئی بے حرمتی کوئی کیسے کرسکتا ہے

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */