تو مانتے کیوں نہیں؟ڈاکٹر رضوان اسد خان

کائنات کے ایک سرے سے دوسرے سرے کا فاصلہ 93 ارب نوری سال ہے اور یہ مسلسل پھیل رہی ہے. اور روشنی کی رفتار 3 لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ ہے. اگر روشنی کی کرن ایک سرے سے سفر شروع کرے تو وہ کبھی بھی دوسرے سرے تک نہیں پہنچ سکتی۔ یعنی سائنس کے پاس کوئی ایسا طریقہ ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ جان سکے کہ کائنات کے دوسرے سرے میں کیا ہو رہا ہے۔

البتہ ہائر ڈائمنشنز/جہات میں رسائی سے یہ ممکن ہے. سٹرنگ تھیوری کے مطابق وقت کو ملا کر کل 11 جہات ہیں جن میں سے ہم صرف 3 میں قید ہیں. ہماری چوتھی ڈائمنشن میں جانے کی کیا کیفیت ہو گی، اسے ایک مثال سے سمجھیں فرض کریں کوئی مخلوق 2 ڈائمنشنز تک محدود ہے. یعنی کاغذ کے ایک ٹکڑے کے اندر. اگر وہ کسی طرح کاغذ سے نکل کر آپکے کمرے میں آ جائے تو اس کو اچانک اسقدر زیادہ ڈیٹا کو اپنی حسیات اور دماغ سے سنبھالنا پڑے گا کہ وہ ماؤف ہو کر رہ جائے گا. اور ادھر کے تجربات الفاظ میں بیان کرنا اسکے لئے ممکن نہیں ہو گا. یہی حال ہمارا ہو گا اگر ہم چوتھی ڈائمنشن میں چلے جائیں۔تو یہ تو وہ بات ہے جو سائنس بھی مانتی ہے۔

پھر وہ لوگ ہیں جو سوتے میں جسم سے آزاد ہو کر روحانی اسفار کا تجربہ کر چکے ہیں. جو ہوا میں معلق ہو کر خود اپنے سوئے ہوئے جسم کو دیکھ سکتے ہیں اور دوسرے روحانی اجسام سے ملاقات کر سکتے ہیں اور مختلف مشقوں کے ذریعے یہ کیفیت اپنی مرضی سے بھی خود پر طاری کر سکتے ہیں. گویا کہ ہائر ڈائمنشن میں جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔(Out of Body Experience)اسی طرح ہمارا دین جب معجزات، کرامات، برزخ، آخرت، جنت، جہنم کی بات کرتا ہے تو یہ گویا وہ ڈائمنشنز ہیں جن کی کیفیت ہماری 3 ڈائمنشنز کی عادی اور ان میں قید عقل سمجھنے سے قاصر رہتی ہے۔

اب جو لوگ عقل کو معیار مانتے ہیں وہ ان "غیبی" امور کا انکار کر دیتے ہیں. یہ لوگ دوسری قسم کے لوگوں کے روحانی اسفار کو بھی انکا وہم قرار دیتے ہیں اور انبیاء کے ذاتی تجربات مثلاً واقعہ معراج کا بھی مذاق اڑاتے ہیں۔لیکن جب نیل ڈی گراس ٹائسن جیسا ملحد انہیں سٹرنگ تھیوری پڑھا رہا ہوتا ہے تو سر دھنتے اور واہ واہ کرتے ہیں، حالانکہ وہ خود مان رہا ہوتا ہے کہ ہماری فزکس کے قوانین ہائر ڈائمنشنز میں لاگو نہیں ہوتے۔

تو پھر مسئلہ کیا ہے؟

جس بنیاد پر آپ مذہب کے غیبی امور کا انکار کرتے ہیں، روحانی اسفار والوں کا انکار کرتے ہیں، جنات سے تعامل کرنے والوں کا انکار کرتے ہیں، عین اسی بنیاد پر سٹرنگ تھیوری کا انکار کیوں نہیں کرتے؟جب ایک ملحد ناول نگار لکھتا ہے کہ فلاں کردار نے ایک غیر مرئی دروازے (وارپ پوائنٹ) سے گزر کر چوتھی ڈائمنشن میں جا کر اپنے ساتھیوں کو دیکھا تو اسے انکی ہڈیوں کا گودا تک نظر آ رہا تھا،("Death's End" by Cixin Liu)

تو اس پر آپ عش عش کر اٹھتے ہیں... لیکن یہی بات جب حدیث میں جنت کی حور سے متعلق آتی ہے تو آپ پھبتیاں کستے ہیں؟اصل وجہ یہ ہے کہ مذہب کے غیوب پر یقین کرنے سے ان غیوب پر مطلع کرنے والے خدا کو بھی ماننا پڑتا ہے، اسکی بندگی اختیار کرنا پڑتی ہے اور پھر اسکی ہر بات ماننا پڑتی ہے اور اسے ناراض کرنے والی ہر بات سے رکنا پڑتا ہے. اور یہ لوگ تو چاہتے ہیں مزے کرنا، بلا روک ٹوک عیاشی کرنا، جو جی میں آئے کر گزرنا... بالکل بچوں کی طرح... جو بڑوں کو اسلئیے برا سمجھتے ہیں ۔

کیونکہ وہ ان پر پابندیاں لگاتے ہیں، زبردستی سکول بھیجتے ہیں، بری باتیں کرنے سے روکتے ہیں، گندی چیزیں کھانے سے روکتے ہیں، حالانکہ انکی اپنی عقل کے مطابق نہ سکول جانا ضروری ہوتا ہے، نہ وہ بات بری ہوتی ہے جو وہ کر رہے ہوتے ہیں، نہ وہ چیز گندی ہوتی ہے جو وہ کھا رہے ہوتے ہیں۔تو اپنے آپ کو عقل کل سمجھنے والے ملحدین بھی دراصل ذہنی طور پر بچے ہی ہیں جو ہر اس چیز کو رد کر دیتے ہیں جو انکے ننھے منے نابالغ ذہن میں سما نہ پاتی ہو۔