پولیٹیکل اسلام؛ کام کا اسلوب اور فکر معاش - ڈاکٹر حافظ اسامہ اکرم

یونیورسٹی سے گریجویشن کے بعد پولیٹیکل اسلامک سپرمیسی یا دعوت دین کے لیے کام کرنے کا جذبہ رکھنے والے نوجوانوں کے اندر اس حوالے سے بہت زیادہ کنفیوژن پائی جاتی ہے کہ پروفیشنل لائف میں آ کر تحریک اسلامی کے کام کو کیسے وقت دیا جائے ۔

فیلڈ میں کام کے دوران ہم نے دیکھا ہے کہ ہمارے بہت سے ایسے ساتھی جو یونیورسٹی لائف میں دعوتی سرگرمیوں کے اندر بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے، لیکن گریجویشن مکمل ہونے کے بعد سب چیزوں سے کٹ کر صرف معاشی سرگرمیوں میں مصروف ہو جاتے ہیں۔

اس کی بہت ساری وجوہات ہیں۔پہلی چیز تو یہ کہ گریجویشن کے بعد ایک نئی زندگی شروع ہوتی ہے۔ سماجی رویوں میں بدلاؤ آتا ہے ۔ وہی والد محترم جو پچھلے مہینہ تک یونیورسٹی اور ہاسٹل فیس کے علاوہ صرف جیب خرچ کے لیے بیس ، پچیس ہزار دے دیا کرتے تھے ، ریسرچ پروجیکٹ جمع کرواتے ہی ایک دم سے پاکٹ منی وغیرہ بند کر دیتے ہیں ، والدہ محترمہ جو پہلے ہر ویک اینڈ پہ گھر لازمی آنے کا حکم دیا کرتیں تھیں ، گھر آنے پہ شاہی مہمان کی طرح پروٹوکول ملا کرتا تھا۔

لیکن یونیورسٹی سے فری ہو کر ابھی ایک ہفتہ بھی گھر نہیں گزرتا کہ ان کے رویے میں واضح بدلاؤ آنا شروع ہو جاتا ہے کہ جاؤ بیٹا کام دھندہ تلاش کرو اور گھر چلانے میں والد کی مدد کرو ، تمہیں گھر بٹھا کر پوجا کرنے کے لیے نہیں پڑھایا۔ اوپر سے اپنی شادی کے اخراجات کے لیے مالی دباؤ ، چھوٹے بہن بھائیوں کے تعلیمی اخراجات ، والد پہ قرض وغیرہ یعنی کہ ایک دم بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اس پہ مزید یہ کہ عموماً وہ مذہبی تنظیم جس کے ساتھ یونیورسٹی لائف میں مختلف دعوتی سرگرمیوں میں وقت گزارا ہوتا ہے وہ بھی اس حوالے سے سپورٹ نہیں کرتے کہ کسی اچھے جگہ پہ اس فریش گریجویٹ کو اس کے فیلڈ اور Profession کے مطابق ایڈجسٹ کروا سکیں۔اس کی ایک بڑی وجہ ہماری مذہبی تنظیموں کا ایک خاص مزاج ہے کہ ان میں پروفیشنل اپروچ کا بہت زیادہ فقدان ہے۔ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ اس بندے کو کسی حد تک معاشی فکر سے آزاد کر کے اپنے ساتھ ہی رکھا جائے اور کسی صورت یہ نوجوان ہمارے نظم ( Team work) سے نہ نکلے بلکہ اسکی Emotional attachment کا استعمال کرتے ہوئے کچھ پندرہ ، بیس ہزار وظیفہ لگا کر ، کچھ احادیث اور بشارتیں وغیرہ سنا کر اسی پہ قائل کر کے اپنے پاس ہی رکھ لیا جائے۔ کیونکہ ان کے نزدیک اصلی داعی صرف وہ بندہ ہے جو اپنی معاشی ضرورتوں سے کسی حد تک آزاد ہو کر اپنا فل ٹائم صرف اسی تنظیم کو دے۔

یہ بھی پڑھیں:   نوجوانوں میں بڑھتا ہوا رجحان - مریم صدیقی

زیادہ تر نوجوان اسلامک سپرمیسی کے لیے کام کی لگن رکھنے کے باوجود اس فلم ٹائم جاب کے لیے تیار نہیں ہوتے ، کیونکہ گھریلو معاشی مجبوریاں ان کو اس چیز کی اجازت نہیں دیتیں۔
نتیجتاً ناظمین اور ذمہ داران بھی اس کے ساتھ پہلے والا رویہ نہیں رکھتے جسکی وجہ سے تنظیم سے فریش گریجویٹ کا رشتہ کمزور پڑنے لگتا ہے اور رفتہ رفتہ وہ اپنی معاشی سرگرمیوں میں مصروف تر ہو کر تحریک اسلامی کے کام سے بہت دور چلا جاتا ہے۔

لیکن جو پڑھے لکھے باصلاحیت نوجوان اپنی تمام تر مجبوریوں اور مسائل کے باوجود بہت ہی تھوڑے سے وظیفہ پہ تحریک اسلامی کی اس تنظیم کے ساتھ جڑ جاتے ہیں وہ بھی ایک خاص عرصہ کے بعد معاشی نامساعد حالات کے جبر سے تنگ ہو کر اپنی راہیں جدا کرنے پہ مجبور ہو جاتے ہیں ۔ الا یہ کہ کسی کو اس تنظیم میں کوئی بڑا عہدہ مل جائے، سہولیات کی دستیابی ہو جائے یا گھر والے مالی طور پر کافی مضبوط اور سپورٹ کرنے والے ہوں ۔

چنانچہ دونوں صورتوں میں ان پڑھے لکھے نوجوانوں کا تحریک اسلامی کی جدوجہد سے تعلق ٹوٹ جاتا ہے ، اختلافات پیدا ہو جاتے ہیں ، دل اُچاٹ ہو جاتے ہیں ، رستے جدا جدا ہو جاتے ہیں ۔
نتیجتاً ایسے ایسے ہیرے ضائع ہو جاتے ہیں جن کو اگر مناسب انداز سے استعمال کیا جاتا تو ہماری مذہبی جماعتیں آج معاشرہ میں بہتر پوزیشن پہ کھڑی لیڈنگ رول ادا کر رہی ہوتیں۔
اس مسئلہ کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ دعوت دین کے تحریکی کام کے حوالے سے جس مزاج اور Perception کو ہم نے اپنایا ہوا ہے اس کی مثال جناب محمد رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور صحابہ اکرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے نہیں ملتی ۔

رسول کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے دعوتی ماڈل میں کارکنان کو کبھی بھی معاشی فکر سے آزاد نہیں کیا گیا ، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سمیت تمام صحابہ اکرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اپنی محنت ، مزدوری ، کھیتی باڑی اور تجارت بھی کرتے تھے ساتھ میں دعوت دین کا کام بھی ایسے بہترین انداز میں کرتے تھے کہ ہماری تمام تر مذہبی تنظیموں اور افراد کی ہزاروں سالوں کی زندگیوں کی محنت پہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی کی جماعت کی صرف تئیس سال کی محنت اور کام بھاری ہے ۔

آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد اسلام جزیرہ عرب سے باہر نکلا ، چین و ہندوستان اور افریقہ و یورپ کے دور دراز شہروں تک صحابہ اکرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور تابعین عظام رحمہ اللّٰہ کے تجارتی قافلے گئے اور وہاں وہاں پہ دعوت کا کام منظم کیا ۔ جسکی تائید و نصرت کے لئے ان تجارتی قافلوں کے پیچھے جہادی قافلے روانہ ہوئے ۔ تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ جس بھی خطے کو اسلامی حکومت کی عملداری میں لایا گیا وہاں پہلے مسلمان تاجر گئے ، ان تاجروں نے وہاں جا کر حالات کا جائزہ لیا گیا ، مقامی طور پہ اسلام کی دعوت کو پھیلایا گیا پھر واپس آ کر خلیفتہ المسلمین کو اس علاقہ کے حالات و واقعات بتاۓ ، جس کے نتیجے میں خلافت کے مختلف ملکوں اور بادشاہوں سے دوستانہ تعلقات بھی استوار ہوئے ، تجارتی اور جنگی معاہدے بھی عمل میں آئے ۔ اسی طرح جن علاقوں میں مسلمانوں کو دعوت کے کام سے روکا گیا وہاں خلیفہ وقت نے جہادی لشکروں کی قوت سے دعوت دین کے رستے میں آنے والی رکاوٹوں کو دور کیا ۔

یہ بھی پڑھیں:   وہ سیاست کیا جس میں دھڑکتا ہوا دل ہو- محمد عنصر عثمانی

اس کے علاوہ ایک اور حیران کن چیز یہ کہ ہزاروں ، لاکھوں مربع میل کے مالک اور اس کا نظم و نسق چلانے کے ذمہ داران، امیر المومنین خلیفہ المسلمین ، صوبوں کے گورنر اور والیان ، انتہائی مصروفیت کے باوجود ذاتی فکر معاش سے آزاد ہوئے نہ بڑے بڑے محدثین ، آئمہ کرام اور فقیہان فکر معاش سے آزاد ہوئے ۔ بلکہ یہ سب عظیم لوگ اپنا پیٹ پالنے کے لیے یا تو ساتھ میں کوئی تجارت کرتے تھے یا کچھ اور محنت مزدوری۔

چنانچہ اگر روم و ایران جیسی سپر طاقتوں کو توڑ کر تیرہ سو سال تک اسلام کو دنیا میں سپر طاقت بنا کر رکھنے والے ، Islamic supermacy کی جدوجہد کے ساتھ ساتھ اپنا الگ ذریعہ معاش رکھتے تھے تو یہ تحریک اسلامی کا وہ اصل ماڈل ہے جسے ہمیں اپنانا چاہیے ۔ ہمیں چاہیے کہ Comfortable zone سے باہر نکلیں ، زندگی کے چیلنجز کا سامنا کریں ، اپنے عقائد و نظریات پہ قائم رہتے ہوئے پروفیشنل لائف میں خوب محنت کریں، پیسہ کمائیں ، مالی طور پہ بھی مستحکم ہوں ، اپنے خاندان والوں کو اپنے پاؤں پہ کھڑا کریں ، اپنے اپنے فیلڈ میں ماہر ہوں ، پروفیشنل لائف میں اپنا نام اور مقام پیدا کریں پھر ہر فیلڈ میں تحریک اسلامی کے کام کے لیے ذہن تیار کریں اور دعوت دین کے لیے افرادی قوت کھڑی کریں ۔

یوں اپنی صلاحیتوں کو Constructive approach کے ساتھ ایک بہتر انداز میں اپنی ذات ، گھر ، خاندان ، مسلم معاشروں اور تحریک اسلامی کے وسیع تر مفاد میں ایک مشن کو سامنے رکھتے ہوئے بھرپور انداز سے استعمال کریں ۔ تاکہ ہم دنیا و آخرت میں بھی سرخرو ہو سکیں اور پولیٹیکل اسلامک سپرمیسی کا ہمارا بھی خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے ۔