اسلام میں صحت افزا غذائیں - امیر جان حقانی

اسلام دین فطرت ہے۔ دین اسلام ہی ہر انسان کے لیے مکمل ضابطہ حیات فراہم کرتا ہے۔ زندگی کے ہر شعبہ سے متعلق اسلام میں مکمل اور واضح رہنمائی اور احکامات موجود ہیں۔اسلام نے صرف روحانیت کے اصول نہیں دیے بلکہ مادی زندگی سے متعلق تمام امور میں بہترین گائیڈ لائنزدی ہیں۔

اسلام ایک ایسے معاشرے کی بات کرتا ہے جس میں انسان صحت مند ہو، توانا ہو، اعصاب مضبوط ہوں، گندگی سے پاک ہو،بیماریاں نہ ہو، جسمانی اور ذہنی طور پر مکمل و اکمل ہو،غرض ایک جامع انسان کی تعمیر اور اس کی شخصیت کی تکمیل کے لیے اسلامی تعلیمات کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔یہ ایک مشہور مقولہ ہے۔ العلم علمان، علم الادیان و علم الابدان(طب صادق، نصیرالدین تہرانی)کہ علوم دو قسم کے ہیں۔ ایک ادیان کے علوم اور ایک ابدان یعنی جسم کے علوم۔کامیاب زندگی گزارنے کے لیے صحت اور تندرستی کو بہت اہمیت اور مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اس کو برقرار رکھنے کے لیے دیگر عوامل کے ساتھ متوازن غذائیں اور صفائی بہت زیادہ ضروری ہے۔

اس میں دو رائے نہیں کہ حفظان صحت کے لیے متوازن غذا ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔متوازن غذا سے انسان مناسب طور پر نشو و نما پاتا ہے۔ اس کی صحت برقرار رہتی ہے۔محنت و مشقت کا قابل رہتا ہے۔اللہ تعالی نے اس حوالے سے ایک آفاقی اصول ارشاد فرمایا ہے۔’’کھا، پیو اور اس میں حد سے آگے نہ بڑھو‘‘۔ (الاعراف:31)یہ تین اصول ہیں جو کھانے کے حوالے سے وضع ہوچکے ہیں۔طب قدیم اور جدید کے ماہرین ہی ان تین اصولو ںکو بہتر سمجھ سکتے ہیں۔بہرصورت بہت سارے امراض کا سبب ناقص غذا یا غیر متوازن غذا ہی ہے۔بہت دفعہ غذا معیاری ہوتی ہے لیکن اس کا استعمال غیر مناسب ہوتا ہے۔اگر غذا متوازن ہو اور ضرورت کے مطابق ہو اور انسانی مزاج کے مناسب اور ضرورت سے زیادہ نہ ہو تو انسان زیادہ دیر تک بہت سارے امراض سے محفوظ رہ سکتا ہے۔

قدیم عربوں کے مشہور طبیب حارث بن کلد کا قول ہے:’’پرہیز دوا کا سر(بنیاد)ہے اور معدہ بیماری کا گھر ہے، ہر شخص کو وہ چیز کھانی چاہیے جو اس کے بدن کے مطابق ہو، اور کم خوراکی بہ ذاتِ خود ایک علاج ہے۔‘‘نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لیے کامل اسوہ حسنہ ہیں۔جس طرح زندگی کے ہر شعبہ میں اللہ، رسول کے احکامات موجود ہیں اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آدابِ طعام اور کھانے پینے،مناسب اور متوازن غذا کے سلسلے میں ہدایات جاری کی ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اس حوالے سے بہت واضح ہے۔آپ کے تمام معمولات محفوظ ہیں۔

آپ ﷺ کے ارشاد کردہ تمام طریقے حفظان صحت کے اصولوں کے عین مطابق ہیں۔اطباء فرماتے ہیں کہ رسول اللہ کے ارشادات جدید و قدیم طبی فلسفوں اور اصولوں کے عین مطابق ہیں۔ اس سلسلے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے ارشادات اور آپؓ کے اسوہ حسنہ کا خلاصہ قارئین سے شیئر کرتے ہیں۔

۱۔آپ ﷺ کھانے سے پہلے ہاتھ دھوتے،تاکہ کسی قسم کا جراثیم ہاتھوں کے ذریعے جسم اور معدہ میں داخل نہ ہو۔ کھانا کھانے سے پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتے تاکہ کھانے میں ہر قسم کی برکتیں شامل ہوں اور کھانے کے بعد بھی دعا پڑھتے تاکہ اللہ کا شکر ادا ہو۔ اور کھانے کے بعد بھی باقاعدگی سے ہاتھ دھوتے تاکہ کسی قسم کی گندگی نہ ہو۔۔

۲۔آپ ﷺجب تک کھانے کی اشتہا نہ ہوتی، کبھی نہ کھاتے، اور ابھی اشتہا باقی ہوتی کہ کھانا ختم کر دیتے۔ضرورت سے زیادہ کھا کر معدہ پر بوجھ نہ بناتے۔معدہ پر بوجھ بنانا بھی کثرت امراض کا سبب ہے۔

۳۔ نبی کریم ﷺ کی غذائیں انتہائی متوازن ہوا کرتی تھیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نہایت سادہ، نرم، ہاضم اورمانوس غذائیں کھاتے تھے۔

۴۔سبزی میں کدو،آپ ﷺ کی پسندیدہ ڈش تھی۔گوشت اور مکھن کا استعمال بھی کرتے تھے۔

۵۔جو اور گندم کی بغیر چھنے آٹے کی روٹی کھاتے تھے جو انتہائی صحت افزا ہے۔ آج کے اہل علم نے اس پر مفصل گفتگو کی ہے۔اسی طرح شہد، سرکہ، نمک، زیتون کا تیل اور کھجورو غیرہ آپ ﷺ کی مرغوب و پسندیدہ غذائیں تھی جن کی افادیت اور صحت بخش ہونے میں ساری دنیا کی قدیم وجدید طب متفق ہے۔یہ غذائیں ہر جگہ اور ہر موسم کے لیے قابل قبول ہیں اور صحت افزا بھی۔یوں کہا جاسکتا ہے کہ آپ ﷺ کی غذائیں حیوانی اور نباتی دونوں طرح کی تھی۔

۶۔آپ ﷺ نے زیتون کے پھل کے استعمال کا حکم دیا۔فرمایا’’ زیتون کا پھل کھا، تیل استعمال کرو، کیونکہ یہ ایک ممبارک اور پاک درخت ہے‘‘۔(ترمذی ابواب الطعام)یہاں اہل علم اور جہاندیدہ لوگ بیٹھے ہیں۔ جنوبی اور شمالی اٹلی میں ہارٹ اٹیک نہ ہونے کے برابر ہے جس کی ایک بڑی وجہ زیتون کے استعمال کی بھی ہے۔

۷۔ اسی طرح شہد کے بارے میں ارشاد باری ہے کہ ’’فیہ شفا للناس‘‘ کہ اس میں لوگوں کے لیے شفا ہے اور پوری دنیا کے ڈاکٹر اس کے شفا اور صحت افزا ہونے پر متفق ہیں۔

۸۔آپ ﷺتین انگلیوں سے کھانا کھاتے تھے۔ منہ سے لقمہ دوبارہ باہر نکال کر کبھی نہ کھاتے اور ایسا کرنے سے سختی سے منع فرماتے۔ آج کی سائنس کہتی ہے کہ منہ سے نکلے ہوئے لقمہ میں سینکڑوں کے حساب سے جراثیم پیدا ہوتے ہیں اور طاقتور بھی ہوکر کھانے کے ساتھ دوبارہ معدہ اور پیٹ میں پہنچ کر امراض کا سبب بنتے ہیں۔مشاہدے میں آیا ہے کہ بچوں کو بھی چمچہ کے ذریعے منہ سے باہر نکالا ہوا خوراک دوبارہ کھلایا جاتا ہو انتہائی غیر مفید اور مضرصحت ہوتا ہے۔اس سے گریز کرنا بہت ضروری ہے۔

۹۔ آپ ﷺ موسم کی کیفیت کے اعتبار سے غذا میں تبدیلی بھی لاتے تھے۔ متضاد کیفیت پیدا کرنے والی غذاں سے پرہیز کرتے۔اسی طرح گرم اور سرد اثر رکھنے والی غذائیں بھی ایک ساتھ استعمال نہیں کرتے۔جن کی وجہ سے صحت کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

۱۰ ۔ روزانہ ایک قسم کی غذا بھی استعمال نہ کرتے بلکہ ان میں تبدیلی بھی لاتے۔

۱۱۔ آپ ﷺ کھانے میں کبھی بھی جلدی نہ دکھاتے بلکہ خوب چبا کر آہستہ آہستہ تناول فرماتے ۔اس سے نظام ہضم ڈسٹرب نہیں ہوتا ہے۔

۱۲۔آپ ﷺ گرم کھانوں سے اجتناب کرتے، کھانے میں پھونک نہیں مارتے،گرم کھانا معدے کے لیے درست نہیں اور پھونک مارنے سے کھانے میں جراثیم شامل ہوجاتے ہیں۔گرم اشیا کھانے کے بعد ٹھنڈا پانی پینے سے دانتوں کی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔

۱۳۔آپ ﷺ بدبودار چیزیں کھانے سے مکمل پرہیز کرتے۔ہمیں بھی اس کا معمول بنانا چاہیے۔
زاد المعاد میں علامہ ابن قیم فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم وہ غذا ئیں استعمال فرماتے تھے جن میں مندرجہ ذیل تین صفات بدرجہ اتم پائے جاتی ہیں۔

۱۔ قوائے جسمانی کے لیے مفید ہو۔

۲۔ معدے کے لیے خفیف اور نرم ہو۔

۳۔ جلد ہضم ہونے والی ہو۔

آپ ﷺ کی اشیاء خوردو ونوش سے معلوم ہوجاتا ہے کہ آپ انتہائی نفیس طبیعت کے مالک تھے۔اور آپ کے حسن انتحاب سے اس بات کا بھی اندازہ خوب ہوجاتا ہے کہ آپ ﷺ کی استعمال کردہ تمام غذائیں جسم انسانی پر دوررس اور مفید اثرات پیدا کرتی ہیں اور صحت و صفائی کے ساتھ ان کا گہرا ربط ہے۔اور ہر لحاظ سے مفید ہیں۔آپ ﷺ سادہ اورصاف پانی استعمال کرتے تھے۔کبھی اس سادہ پانی میں شہد اور دودھ اور کھجور کے خمیرے ملاکر بھی آپ ﷺ نوش فرماتے۔ یہ چیزیں بہت ہی مفید اور صحت افزا ہیں۔سادہ پانی پیاس بجھاتا ہے جبکہ دودھ، کھجور اور شہد ملا پانی پیاس اور غذا دونوں کا کام دیتا ہے۔اطبا ء کا کہنا ہے کہ شہد ملا مشروب کئی امراض کا علاج ہے۔ بلغم ختم ہوجاتا ہے، معدہ کی صفائی ہوجاتی ہے، جگر کو تقویت ملتی ہے اور جسم سے مضراثرات کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔اور انسان فرحت محسوس کرتاہے۔

امام ترمذی نے حضرت عائشہ سے روایت کی ہے ، وہ فرماتی ہیں ’’حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ مشروب پسند تھا جو میٹھا اور ٹھنڈا ہو۔‘‘(ترمذی)میٹھا اور مناسب ٹھنڈا پانی، جس کو ہم نارمل پانی کہتے ہیں روح کو فرحت بخشتے ہیں اور دل کو سرور آجاتا ہے۔قوائے جسمانی کو خوشی اور مسرت محسوس ہوتی ہے۔آپ ﷺ کنووں اور چشموں کا صاف پانی اور مٹکوں اور مٹی کے برتنوں کا پانی بھی استعمال کرتے ۔یہ پانی بھی انتہائی ہاضم ہوتا ہے اور جراثیم بھی نہیں ہوتے۔یہ تجربہ اور مشاہدہ کی بات ہے۔

آپ ﷺصفائی کا خاص خیال رکھتے تھے۔ نفاست پسندی آپ ﷺ کی وصف خاص ہے۔گھر ،معاشرہ اور ماحول کی صفائی اور مزاج کی نفاست پسندی بھی اہم امر ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرف توجہ دلائی اور ارشاد فرمایا۔’’اللہ تعالی پاک و صاف ہے اور پاکی و صفائی سے محبت رکھتا ہے، کریم اور سخی ہے، کرم اور سخاوت کو پسند فرماتا ہے، اس لیے اپنے گھر بار، صحن (اور گلی کوچوں)کو صاف ستھرا رکھو۔‘‘

ہم سب جانتے ہیں کہ آج ہمارے معاشرے اور ملک میں سینکڑوں بیماریاں صفائی کے ناقص نظام کی وجہ سے پھیلتی ہیں۔ کچرا تک ٹھکانے نہیں لگایا جاتا ہے۔آج کی طب اور جدید میڈیکل نے بھی صفائی پر زور دیا ہے۔اس کے لیے بڑے بڑے ادارے بنے ہوئے ہیں۔ صفائی، ماحول کی ستھرائی اور گرد و غبار اور ماحولیاتی آلودگی سے محفوظ رہنے کے لیے آپ ﷺ نے جو ارشادات فرمائے ہیں ان کا خلاصہ آپ کے سامنے پیش کیے دیتے ہیں۔

۱۔ رہائش کے لیے ایسا مکان بنایا جائے جو گرمی، سردی اور موسمی سختیوں سے گھر والوں کو بچا سکے۔

۲۔ جا ئے رہائش ایسی ہو کہ اس میں حشرات الارض اور موذی جانور سے محفوظ ہو اور گرد و غبار اور آندھیاں ڈسٹرب نہ کرے۔

۳۔ جائے رہائش میں ہر لحاظ سے صفائی کا مناسب انتظام ہو، بدبو اور تعفنن نوغیرہ نہ ہو۔

۴۔لٹرین اور غسل خانے گھر کے ایک کونے میں ، اور بالکل الگ ہو۔متصل نہ ہو۔

۵۔ گھر معقول حد تک وسیع بھی ہو، تاکہ رہنے والے اس میں تنگی محسوس نہ کریں ۔

یہ بات ذہن میں رہے کہ گھر ان اوصاف سے متصف ہونا چاہیے پھر یہ گھر حفظان صحت کے اصولوں کے عین مطابق ہوگا۔ اس سے بہتر، مفید اور معتدل مکان جسمانی ارتقا اور صحت کی بقا کے لیے نہیں ہوسکتا۔یہ بھی مشاہدے میں آیا ہے ان صفات کے سوا گھر میں رہنے والے کئی کئی امراض کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ڈاکٹرز ایسے مریضوں کی ہسٹری معلوم کرکے انہیں صفائی کا خاص خیال رکھنے کا حکم دیتے ہیں۔

حفظان صحت کے اسلامی اصول بے شمار ہیں جن کے ذکر کرنے کا یہ موقع بھی نہیں اور قلت وقت کا بھی خیال ہے۔ان کے صرف عنوانات پر اکتفا کرتے ہیں۔

۱۔ورزش کے حوالے سے بھی اسلام مکمل رہنمائی کرتا ہے۔ حج و عمرہ اور نماز کا پورا عمل، بہترین ورزش کی مثال ہے۔عبادت کے عباد ت اور ورزش کے ورزش۔ان دونوں فرض عبادات کو ورزش کی تربیت گاہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ دونوں میں جسمانی مشقت شامل ہے۔اور اس کے ادائیگی سے صحت میں فٹنس پیدا ہوجاتی ہے۔اور فٹنس کے لیے آج کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں ہم سب آگاہ ہیں۔

۲۔آپ ﷺ چہل قدمی کا خاص خیال رکھتے تھے۔حضرت ابوہریرھ رضی عنہ سے روایت ہے کہ’’میں نے آپ ﷺ سے تیز چہل قدمی کرتے ہوئے کسی کو نہیں دیکھا''(ترمذی، باب مناقب، حدیث نمبر1582)۔سویرے چہل قدمی اور واک کی افادیت سے ہم میں سے کوئی شخص ناواقف نہیں۔آپ ﷺ مکہ سے طائف تک 110 کلومیٹر پیدل چلے تھے۔یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ ﷺ ہر اعتبار سے جسمانی طور پر فٹ اور تندورست تھے ورنا اتناطویل پیدل چلنا اور تیز واک کرنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔

خلاصہ کلام کے طور پر عرض کرتا ہوں کہ اسلام نے ان تمام چیزوں سے رکنے کا حکم دیا ہے جو مضر صحت ہیں۔ اور ان افعال اور اعمال کے کرنے کا حکم دیاہے جو انسانی صحت کے لیے مفید ہوں، بلکہ ضروری قرار دیا ہے۔آپ ﷺ کی سیرت اور احادیث میں ان تمام چیزوں کی صراحت موجود ہے جس کے ذریعے انسان مضبوط اور صحت مند زندگی گزار سکے۔انسان کی ظاہری زندگی کی نفاست اور بہتری کے ساتھ باطنی زندگی کی نفاست کے بھی احکامات موجود ہیں۔

اسلام نے ظاہری زندگی کی بہتری کے لیے متوازن غذائیں ، صفائی، ورزش اور باطنی زندگی کی تکمیل کے لیے،توحید الہی، اللہ کی عظمت وجلالت کا صدق دل سے اعتراف کرنا اور ہر وقت ذکرالہی لازمی قرار دیا ہے۔اللہ تعالی ہمیں بھی ان اصول و ضوابط پر عمل کرکے اپنی جسمانی اور روحانی زندگی کوکامیاب بنانا چاہیے۔اللہ ہمارا حامی وناصر ہو۔
(یہ مقالہ Scaling up Nutrition Moment Unit GB کی 3 دسمبر2019 میںدربار ہوٹل ہنزہ میں منعقد کردہ سیمنار میں پڑھ کر سنایا گیا۔)

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com