ایک کام فیض کے نام - عالیہ زاہد بھٹی

پتہ نہیں ان سرخوں تعلق انقلاب فرانس والوں کے لہو سے ہے یا ترقی پسندوں کے سفلی جذبات کی آگ سے ،یا یہ لوگ 9:11 کے ڈرامائی تھیٹر کی پیداوار ہیں جو کچھ بھی ہیں بہرحال فیض احمد فیض کی نسبت سے فیضی نہیں ہیں اور نہ ہی فیض احمد فیض کو اس روسیاہی دور سے مماثل کرنے کی کوشش کریں ۔

فیض احمد فیض اتنے ہی ترقی پسند تھے جتنے کہ ہر علم کے خمار میں مبتلا کوئی شاعر ہو سکتا ہے اور اتنے ہی سوشلسٹ اور مارکسسٹ تھے کہ جتنے علامہ اقبال اس دور میں تھے کہ جب انہوں نے کہا تھا ۔


جس کھیت سے دہقاں کو میّسر نہ ہو روزی

اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو

اسی غم روزگار کو جب فیض نے پایا تو عشق کی مہک کو بھی بھلا دیا اور بولے
[poetry]
جسم نکلے ہوئے امراض کے تنوروں سے

پیپ بہتی ہوئی گلتے ہوۓ ناسوروں سے

لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجئے

اب بھی دلکش ہے تیرا حسن مگر کیا کیجیے

اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا

راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا


دیکھا جائے تو فیض کا نظریہ پیٹ تھا، غریب کی غربت تھی، یقین جانیں وہ کبھی بھی جذبات کے اس بیہودہ اور بے ہنگم ہیجان میں نہیں بہتے کہ جو اخلاقی پستی اور اقدار کی پامالی کی طرف جاتا ہو آج فیض کے میلے میں فیضی ہونے کی دعویدار نسل نے جو طوفان بدتمیزی بپا کی ہے فیض کی روح تک قبر میں بے چین ہو گی . یہ سرخ انقلاب کی صدا معاشی نظام کی طرف سے تو آتی تھی اور یہ سرخے اصل میں معیشت سے وابستہ تحریک کا ہی حصہ ہیں۔

خود فیض اپنی تحریر کا تعارف پیش کرتے ہوئے اپنی کتاب"دستِ تہہِ سنگ"کے صفحہ نمبر 14میں یوں رقم طراز ہیں کہ ... "پھر دیس پر عالمی کساد بازاری کے ساۓ ڈھلنے شروع ہوۓ ،یہ وہ دن تھے جب یکایک بچوں کی ہنسی بجھ گئ ۔اجڑے ہوے کسان کھیت کھلیان چھوڑ کر شہروں میں مزدوری کرنے لگے اور اچھی خاصی شریف بہو بیٹیاں بازاروں میں آ بیٹھیں۔

یہ بھی پڑھیں:   تبدیلی کسے راس آئی ہے - شاہدمشتاق سمبڑیال

ذرا دل میں درد رکھ کر اس پر درد جملے کو محسوس تو کریں کہ شرفا کی بہو بیٹیوں کی سر بازار رسوائی فیض کے لئے سوہانِ روح ہے اور ادھر فیض کے میلے میں اپنی عزتوں کو سر بازار رسوا کرنے والی یوتھ کا تعلق کس فیض سے ہے؟یہ کھلا تضاد بتا رہا ہے کہ اس "لال ایشیا"اور لال ٹماٹر کا تو باطل تبدیلی والوں کے ساتھ تعلق ہو گا فیض کا بہرحال نہیں ہے ۔