اپوزیشن کی ’’مجبوریوں‘‘ سے لطف اندوز ہوتی عمران حکومت - نصرت جاوید

بدھ کی سہ پہر سے قومی اسمبلی کا ایک اور سیشن شروع ہوگیا ہے۔ سیاسی معاملات پر تبصرہ آرائی کرنے والوں کی اکثریت کا اصرار ہے کہ یہ سیشن بہت ’’دھواں دھار‘‘ ہوگا۔ ایک اہم اور حساس ترین منصب کی بابت سپریم کورٹ نے پارلیمان کو واضح ترین الفاظ میں قواعد تیار کرنے کی ہدایت دی ہے۔عمران حکومت سے نالاں افراد کو گماںہے کہ وہ اپنے تئیں یہ قواعد وضوابط تیار نہیں کر پائے گی۔اتحادی جماعتوں کی دلجوئی کو مجبور ہوگی۔ان اتحادیوں میں سے چند تحریک انصاف سے جدائی کا فیصلہ بھی کرسکتے ہیں۔ایسا ہوا تو بجائے سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق قواعد وضوابط تیار کرنے کے عمران حکومت کو قومی اسمبلی میں اپنی اکثریت ثابت کرنے کی ضرورت لاحق ہوجائے ۔شاید اس ’’اکثریت‘‘ کی حقیقت کو عیاں کرنے کے لئے وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد بھی پیش کی جاسکتی ہے۔

ذاتی طورپر اگرچہ میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ اٹھارویں ترمیم میں طے ہوئی پیش بندیوں کی بدولت عمران خان صاحب کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے سے ’’مقصد‘‘ فی الوقت حاصل نہیں ہوسکتا۔ وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ ہو تو اراکین کو ہم سب کی نگاہوں کے سامنے کھڑے ہوکر مذکورہ تحریک کی حمایت یا مخالفت کے لئے مختص لابیوں میں جانا ہوتا ہے۔ تحریک انصاف کے ’’باغی‘‘ تصور ہوتے ہوئے اراکین برملا مخالفت میں کھڑے ہوگئے تو اپنی نشستوں سے محروم ہوسکتے ہیں۔ اتحادی جماعتیں بھی شاید کھل کر مخالفت کا اظہار کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرسکتی ہیں۔ وزیر اعظم کے خلاف پیش ہوئی تحریک عدم اعتماد اگر رائے شماری کی خاطر قواعد و ضوابط کے عین مطابق ٹھہرادی جائے تو اس کے سپیکر کی جانب سے ضابطے کے مطابق ٹھہرائے جانے کے ایک ہفتے بعد رائے شماری ہوتی ہے۔ ہفتے کے سات دن کسی حکومت کے لئے ’’ناراض‘‘ لوگوں کو منانے کے لئے کافی ہوتے ہیں۔

محترمہ بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت کے دوران ستمبر1989میں بھی وزیر اعظم کے خلاف ایک تحریک عدم اعتماد پیش ہوئی تھی۔ اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان اور آرمی چیف اسلم بیگ صاحب وزیر اعظم سے نالاں تھے۔ پنجاب میں نواز شریف وزیر اعلیٰ تھے۔ وہ دائیں اور بائیں بازو پر مشتمل IJI کا متحرک حصہ بھی تھے۔ ایم کیو ایم کی حمایت بھی بالآخر انہیں میسر ہوگئی۔ رائے شماری کے لئے ملے ہفتے کے سات دنوں کی بدولت لیکن محترمہ بے نظیر بھٹو نے بالآخر اپوزیشن کے چار اراکین کو ’’توڑ‘‘ لیا تھا۔ ان کی قومی اسمبلی میں اکثریت بلکہ مزید مضبوط ہوگئی۔ اسی باعث بالآخر غلام اسحاق خان کو آٹھویں ترمیم کی بدولت اختیار استعمال کرتے ہوئے اگست 1990میں محترمہ کی حکومت کو اس وقت کی قومی اسمبلی سمیت فارغ کرنا پڑا تھا۔ عمران خان صاحب کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے سے قبل اپوزیشن جماعتوں کو 1989کے تجربے کو ذہن میں رکھنا ہوگا۔

تحریک عدم اعتماد پیش کرنے سے قبل اپوزیشن جماعتوں کو یہ بھی طے کرنا ہوگا کہ وہ عمران خان صاحب کو ہٹاکر کسے وزیر اعظم کے منصب پر بٹھانا چاہ رہے ہیں۔ اس ضمن میں شہباز شریف صاحب کا نام کئی دنوں سے اسلام آباد کے ڈرائنگ روموں میں سازشی سرگوشیوں کے ذریعے چلایا جارہا ہے۔ موجودہ اسمبلی کے ’’موڈ‘‘ کو دیکھتے ہوئے میں ان سرگوشیوں پر اعتبار کرنے کو کبھی تیار نہیں ہوا۔ گزشتہ دو دنوں سے ان ذرائع کی بدولت جن کی بات پر اعتماد کرنے کو میں ہمیشہ تیار ہوتا ہوں، مجھ تک خبر آئی ہے کہ نواز شریف صاحب کی بیماری کی ابھی تک کامل تشخیص نہیں ہوپائی ہے۔ شہباز شریف اس کی وجہ سے انتہائی پریشان ہیں۔ وہ ان دنوں اپنے بڑے بھائی کو ڈاکٹروں کے سپرد کرکے سیاست میں گہماگہمی لانے کے لئے وطن لوٹنے کا خطرہ مول لینے کو تیار نہیں۔ آئندہ چند دنوں میں ان کی پاکستان میں موجودگی ممکن نظر نہیں آرہی۔

وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کے بجائے عمران حکومت کی ’’اکثریت‘‘ کو ’’کھوکھلا‘‘ ثابت کرنے کے لئے اپوزیشن جماعتیں البتہ سپیکر اسد قیصر کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرسکتی ہیں۔ ان کے خلاف تحریک جمع ہوئی تو اس پر رائے شماری ’’خفیہ‘‘ انداز میں ہوگی۔ حکومت کے خلاف ممکنہ طورپر ووٹ ڈالنے والوں کا سراغ لگانا تقریباََ ناممکن ہوگا۔ آج سے چند ماہ قبل اپوزیشن نے سینٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی تھی۔ ایوان میں جب یہ قرارداد پیش ہوئی تو 60 اراکین نے اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر اس کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ اس کے چند ہی لمحوں بعد جب تنہائی میں بیلٹ پیپر پر مہرلگانے کی باری آئی تو 15سے زائد اپوزیشن اراکین کے ’’ضمیر‘‘ مگر جا گ گئے۔ اپوزیشن جماعتیں آج تک یہ طے نہیں کر پائی ہیں کہ آخری لمحات میں انہیں ’’دغا‘‘ دینے والے کون تھے۔ معاملات قومی اسمبلی کے سپیکر کے خلاف ممکنہ طورپر پیش ہوئی تحریک عدم اعتماد کے دوران اب کی بار حکومت کے لئے باعث شرمندگی ہو سکتے ہیں۔ بنیادی سوال مگر اپنی جگہ موجود رہے گا اور وہ سوال ان قواعد وضوابط سے متعلق ہے جن کے ذریعے اس ملک کے اہم اور حساس ترین منصب پر تعیناتی کے معاملات کو واضح الفاظ میں طے کرنا ہے۔

اس سوال کی بابت مولانا فضل الرحمن سمیت کسی بھی اپوزیشن رہ نما نے ابھی تک کوئی واضح مؤقف اختیار نہیں کیا ہے۔ تنہائی میں گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن کے کئی سرکردہ رہ نما مجھے تو اس بارے میں بھی قطعی کنفیوژڈ نظر آئے کہ سپریم کورٹ کی ہدایات کی روشنی میں جو قواعد وضوابط تیار کرنا ہیں، کیا ان کے لئے کسی آئینی ترمیم کی ضرورت ہوگی یا فقط Act of Parliament کے ذریعے بنایا قانون ہی کافی ہوگا۔ آئینی ترمیم کے لیے پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہوتی ہے۔ قانون البتہ سادہ اکثریت کے ذریعے منظور کروایا جاسکتا ہے۔ عمران حکومت کو قومی اسمبلی میں قانون سازی کے لئے درکار اکثریت ابھی تک میسر ہے۔ سینٹ میں اسے یہ قوت حاصل نہیں۔ نظر بظاہر عمران حکومت کے قانونی مشیر یہ طے کیے بیٹھے ہیں کہ سپریم کورٹ نے نئے ’’قوانین‘‘ بنانے کی ہدایت کی ہے۔ آئین میں ترمیم کا تقاضا نہیں کیا۔ وہ اس ضمن میں ’’قانون‘‘ بناکر اسے قومی اسمبلی سے بآسانی پاس کروالیں گے۔اس کے بعد یہ سینٹ میں جائے گا تو وہاں موجود اپوزیشن جماعتیں اسے قطعی انداز میں رد کرنے سے قبل سو بار سوچیں گی۔ اپنی ’’قوت‘‘ دکھانے کی خاطر البتہ قومی اسمبلی سے پاس ہوئے قانون میں ’’سقم‘‘ اجاگر کرنے کی خاطر دھواں دھار تقاریر کے بعد ’’اسی تنخواہ‘‘ پر کام کرنے کو راضی ہوجائیں گی۔

اپوزیشن جماعتوں کی ’’محدودات‘‘ کا حقارت سے جائزہ لیتے ہوئے عمران حکومت اسی باعث واجد ضیاء کو ایف آئی اے کا سربراہ اور شہزاد اکبر کو وزیر مملکت برائے داخلہ تعین کرنے کے ذریعے ’’لاڑکانہ چلو - ورنہ تھانے چلو‘‘ والا پیغام دے رہی ہے۔ اپوزیشن میں موجود ’’چوروں اور لٹیروں‘‘ کو وہ یہ پیغام دینے کو ہرگز آمادہ نظر نہیں آ رہی کہ انہیں کوئی "NRO" مل سکتا ہے۔ 5 اگست 2019 کے روز مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر کو اپنا ’’اٹوٹ انگ‘‘ ثابت کرنے کے لئے سفاکانہ اقدامات لئے تو ان دنوں بھی ہماری اپوزیشن کو یہ گماں ہوا تھا کہ مسئلہ کشمیر کے تناظر میں ’’قومی یکجہتی‘‘ دکھانے کی خاطر عمران حکومت اس کے ساتھ لچکدار رویہ اختیار کرنا چاہے گی۔ وزیراعظم نے مگر ذرا سی بھی لچک نہ دکھائی۔ کشمیر کے لئے "Consensus" ڈھونڈنے کے لئے پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلکہ کافی دن گزرنے کے بعد بلایا گیا تھا۔ اس اجلاس کے دوسرے اور اختتامی روز جب ایوان میں دھواں دھار تقاریر ہورہی تھیں تو شہزاد اکبر ٹی وی سکرینوں پر Live رونما ہوگئے اور نواز شریف اور ان کی دُختر کے خلاف مبینہ منی لانڈرنگ کے ’’تازہ ثبوت‘‘ حاصل کرنے کااعلان کر دیا۔ محترمہ مریم نواز اس پریس کانفرنس کے بعد احتساب بیورو کے ہاتھوں گرفتار ہوگئیں۔ سپریم کورٹ نے جس قانون سازی کا تقاضا کیا ہے اس کے ضمن میں بھی عمران حکومت کوئی لچک دکھانے کو ہرگز آمادہ نہیں ہے۔ اپوزیشن کی ’’مجبوریوں‘‘ سے لطف اندوز ہوتے ہوئے کھیل رہی ہے۔