امریکہ اور ترکی کے درمیان کشیدگی- نذیر ناجی

یار برا نہ ماننا کیا یہ طلبہ یونینوں کی بحالی کی تحریک ہے۔ ایسا ہے تو میں ایمان لایا، مگر بہت سے سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ پوچھنا تو بنتا ہے اگر یہ طلبہ یونینوں کی بحالی کی تحریک ہے تو مجھے تو بہت خوش ہونا چاہیے کہ میں تو ان تحریکوں کا پروردہ ہوں۔ پاکستان میں جب طلبہ تحریک کا ذکر آتا ہے تو کراچی والوں کا حوالہ دوسرا ہوتا ہے، لاہور کا دوسرا۔ کراچی والے 53 سے آغاز کرتے ہیں۔ اس وقت یہ تحریک بائیں بازو کی تحریک تھی۔ 12 طلبہ شہر بدر ہوئے تھے۔ وہ ساری زندگی اسی نشے میں سرشار رہے۔ معراج محمد خاں، فتح یاب علی خان، ادیب الحسن رضوی کیا کیا نام تھے۔ ایک آدھ کو چھوڑ کر باقی صرف اس کے تذکرے پڑھتے رہے۔ نیا نیا پاکستان بنا تھا، ہندوستان بھر سے انقلابیوں نے کراچی کا رخ کیا تھا۔ مہاجرین کے مسائل بھی بے پناہ تھے۔ نظریاتی لڑائیاں اپنے عروج پر تھیں۔ ترقی پسند تحریک کے ساتھ برصغیر بھر سے کراچی چلے آئے تھے۔ کمیونسٹ ہونا ان دنوں گالی تھی۔ کراچی صنعتی مرکز بن رہا تھا۔ پورے ملک کا کمرشل سرمایہ اس شہر میں لگ رہا تھا۔ ٹریڈ یونین کی تحریک بھی زوروں پر تھی۔ یوں سمجھو کہ ماسکو نواز ٹولہ ہر جگہ چھا جانا چاہتا تھا۔ پرولتاریہ کا انقلاب آ رہا تھا۔ ریاست پاکستان ایک طرف امریکہ کے قریب جا رہی تھی۔

دوسری طرف ملک کے اندر سے مقامی تہذیبی روایات کے ساتھ ایک نیا طبقہ ابھر رہا تھا۔ سو ایک طرف ایشیا سرخ تھا تو دوسری طرف سبز ہونے لگا تھا۔ لاہور کا حوالہ مختلف تھا۔ ایک تو ایوب خان کے زمانے میں 63,62 میں ملک میں نصاب تعلیم کے خلاف تحریک چلی۔ یہ تین سالہ ڈگری کورس تھا۔ میٹرک تین سال کا پھر بی اے تین سال کا اور درمیان میں انٹرمیڈیٹ غائب جیوی کا یہ نصاب پڑھنا بھی شروع کردیا تھا۔ ایک دو سال اس میں گزرے ہی تھے بالخصوص لاہور میں بڑی زور کی تحریک اٹھ کھڑی ہوئی۔ اب تو اس نوجوان کا نام بھی یاد نہیں ہوگا لوگوں کو، بارک اللہ خاں، کیا طوفانی قیادت تھی۔ اصل معرکہ 68ء میں ایوب خان کے خلاف شروع ہوا۔ یہ وہ زمانہ ہے کہ دنیا بھر کے یونیورسٹی کیمپسوں میں بیک وقت طوفان اٹھ کڑا ہوا تھا۔ آغاز فرانس میں ہوا۔ پھر یہ بحیرہ اوقیانوس پار کر کے امریکہ میں جا پہنچا۔ اس تحریک نے یورپ کے فکری مزاج پر بہت اثر ڈالا۔ ان میں بایاں بازو زیادہ سرگرم عمل تھا۔ ان کا ایک آدھ لیڈر پاکستانی نژاد بھی تھا۔ وہ لیڈر پاکستان میں بازار گرم دیکھ کر ادھر آیا تو اسے ایک ٹانگے کی سواریاں بھی نصیب نہ ہوئیں۔ اس تحریک نے پاکستان میں دائیں بازو کو مستحکم کیا۔ یہ ایک نظریاتی تحریک بن گئی۔ لاہور میں بایاں بازو پائوں جمانہ پایا تو اس نے ایک اور تنظیم بنا ڈالی۔ این ایس ایف کے بجائے یہاں این ایس او بنی۔ این ایس ایف روسیوںکے قریب تھی۔ پنجاب میں یہ فکر جڑ نہ پکڑ سکی۔ این ایس او نے بڑا زور مارا مگر درسگاہوں میں جمعیت نے انہیں بری طرح مات دی

۔ اس وقت جمعیت اسلامی نظام فکر کا نام تھا۔ دائیں بازو کی علامت تھی۔ لاہور میں بائیں بازو نئے نئے فلسفے لے کر آئے۔ کوئی بتاتا کہ وہ روس نہیں چین کے قریب ہیں۔ چین 65ء کی جنگ کی وجہ سے پاکستانیوں میں دلعزیز تھا۔ جگہ جگہ سٹڈی سرکل کھلنے لگے۔ ایسے ایسے چہرے آنکھوں میں گھوم رہے ہیں کہ ایمان تازہ ہو جاتا ہے۔ کیا کیا معرکہ آرائیاں ہوئیں۔ پاک ٹی ہائوس، حلقہ ارباب ذوق، مال روڈ کے چوبارے، یونیورسٹی کی کینٹین، سب کچھ بیان کروں تو بہت سچ بولنا پڑے گا۔ یہی وہ تحریک تھی جس کے بطن سے جاوید ہاشمی کی نسل نے جنم لیا۔ ایوب خان نے آخری دنوں میں سٹوڈنٹس یونین ذرا نئے قواعد اور چند پابندیوں کے ساتھ بحال کردی تھی۔ پنجاب یونیورسٹی میں پہلے انتخابات جہانگیر بدر اور حافظ ادریس کے درمیان ہوئے۔ جہانگیر بدر ہیلے کالج کے انتخابات دوبار جیت چکا تھا۔ اسے دائیں بازو کی حمایت حاصل تھی مگر اب وہ بائیں بازو کا امیدوار تھا۔ بائیں بازو اس پر پھولے نہ سماتا تھا۔ پھر بھی وہ 160 ووٹوں سے ہار گیا۔ بڑے کانٹے کا مقابلہ تھا۔ پھر 70ء کے قومی انتخابات ہوئے۔ بھٹو صاحب نے پنجاب کا معرکہ مار لیا۔ پنجاب میں پہلی بار بائیں بازو نے انگڑائی لی۔ ایسے لگا انہوں نے میدان مار لیا ہے۔

ٹھیک ایک ماہ بعد پنجاب یونیورسٹی میں انتخابات تھے۔ بائیں بازو والے اس بار کھلے عام تین رنگوں کے پیپلزپارٹی کے جھنڈے کے بیچ بنا کر میدان میں اترنے۔ مجھے یاد ہے میں نے لکھا، نئی جدوجہد کا آغاز اس بار بھی تعلیمی اداروں سے ہوگا۔ جہانگیر بدر یہ انتخاب 400 ووٹوں سے ہار گیا۔ سارا مخالف پینل جیت گیا۔ حفیظ خان صدر، جاوید ہاشمی سیکرٹری جنرل، ایک صرف راشد بٹ مرحوم نائب صدر تھے۔ لیکن کیا زمانہ تھا آپس میں بہترین تعلقات ہوا کرتے تھے۔ اس کے بعد پنجاب طلبہ یونینوں سے لیفٹ بھاگ گیا۔ یہ جو قیادت دوبارہ نظر آ رہی ہے۔ انہوں نے جانے کن جنگلوں اور صحرائوں کا رخ کرلیا تھا۔ اپنے لیے ایک نئی دنیا منتخب کرلی تھی۔ کراچی میں بھی شہر بدر ہونے والوں کا کہیں نام و نشان نہ تھا۔ قومی اور مقامی سیاست ہی میں نہیں بلکہ طلبہ یونینوں پربھی دایاں بازو چھا گیا۔ پھر وہ وقت آیا جب پروگریسو کا لفظ ناپید ہونے لگا اور لبرل نے ایک نیا لباس اوڑھ کر کچھ کامیابیاں حاصل کیں۔ میں اب بھی بار بار کہتا ہوں کہ پروگریسو کا لفظ اب بھی لبرل اورسیکولر کے جامے میں لپیٹ کر استعمال کیا جارہا ہے۔ یہ جو میں نے پرانی تاریخ بیان کی ہے اس میں وہ عرصہ نکال دیا جو لاہور اور کراچی میں یونین پر پابندیاں لگنے کے زمانے میں ابھر کر سامنے آیا۔

تب علاقائی، لسانی اور جانے کون کون سے حوالے ابھر کر سامنے آئے۔ ایم کیو ایم ہی نہیں کراچی میں تو ہر علاقے ہر صوبے ہر قومیت اور خدا جھوٹ نہ بھلائے ہر فرقے کے گروپ بن گئے تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ٹریڈ یونین کی سرگرمیوں سے بھی ڈر لگنے لگا تھا۔ ضیاء الحق نے بلدیات کے نظام کو لپیٹا، ٹریڈیونین پر بھی دایاں بازو چھا گیا تھا، اسے بھی قابو کیا گیا۔ ویسے بھی دنیا بھر میں تھیچرازم اور ریگن ازم کا دور آرہا تھا۔ یورپ میں روس کے زیر اثر ٹریڈ یونین سرگرمیاں پسپا ہورہی تھیں۔ آخر دیوار برلن کیا گری کہ لیفٹ مایوس ہو کر امریکہ کی طرف بھاگا اور اب وہاں سے این جی او کی شکل میں نیا کلچر اور نیا پیسہ نئی طاقت لے کرآیا ہے۔ اس کلچر اور کلاس کے خلاف بار بار لکھتا آ رہا ہوں۔ یار لوگ اسے آسان لے رہے ہیں۔ میں پوچھتا ہوں یہ عاصمہ جہانگیر کنونشن، فیض میلہ اور درمیان میں یہ دھڑام سے طلبہ یونین کی بحالی کا معاملہ اکٹھے کیسے آ گئے۔ ایک ہی طرح کی سرگرمیاں، ایک ہی طرح کے نعرے، ایک ہی طرح کے چہرے اور اس کا ذکر خاص طور پر وسطی پنجاب ہے۔ وہ سب لوگ جو مر کھپ گئے تھے، وہ زندہ ہو کر کس طرح پھر سے تروتازہ ہو کربولنے لگے ہیں۔ اس تحریک کے لیے اتنے وسائل، پورے ملک میں ایک ہی دن کیسے میسر آئے۔ جب آپ ایک ہی دن پورے ملک میں مظاہرے کر رہے ہیں تو بعض چہرے خاص طورپر لاہور میں کیوں نمایاں کئے گئے۔

مشعال خان کے والد بھلے آدمی معلوم ہوتے ہیں، انہیں خاص طورپر لاہور میں کیوں مدعو کیا گیا۔ بہت سے لوگ ہیں جو خاص اندازہ میں روشناس کرائے جا رہے ہیں۔ میڈیا لگتا ہے اس طرح ہم خیال ہے جس طرح میری رائے میں ایسے مسائل پر این جی اوز العروف سول سوسائٹی ہوا کرتی ہے۔ میں نے عرض کیا کہ ان سب سرگرمیوں کا رنگ ڈھنگ بھی ایک جیسا ہے۔ فکر نہ کریں، ہمیں آپ تیار پائیں گے۔ فکر کے محاذ پر ہم یہ جنگ لڑ چکے ہیں۔یہ اس کا اگلا ایڈیشن ہے۔ انشاء اللہ حاضر ہیں۔ یہ روایتی رائٹ لیفٹ کی جنگ نہیں۔ یہ سفید سامراج کی جنگ ہے جس نے سرخ سامراج کو گودلے رکھا ہے۔ اس نے اپنے مخالفوں کو دہشت گردی کی جنگ میں دھکیل دیا ہے مگر جب یہ امت بیدار ہوتی ہے تو مکر کی کوئی چال کامیاب نہیں ہوتی۔ یہ چالیں الجزائر، مصر، ترکی، تیونس، لبنان، عراق، شام جانے کہاں کہاں سے چلائی گئی ہیں۔ اب انہوں نے ادھرکا رخ کیا ہے۔ اب ہم لبرل ہیں، سیکولر ہیں، پروگریسو ہیں، ڈیموکریٹ ہیں، ہمارے کئی خوبصورت نام ہیں۔ اندر سے ہم وہی ہیں۔ فکر نہ کریں، ہم آپ کو پہنچانتے ہیں۔ تم آرہے ہو تو ہم بھی تیار ہیں۔