سخت کوشی سے ہے جامِ زندگانی انگبیں- ہارون الرشید

گل رنگ الفاظ نہیں زندگی ریاضت چاہتی ہے اور پیہم ریاضت۔ عصرِ رواں کا ادراک اور عرق ریزی کی تاب۔ عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی/ یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے۔ ملک ریاض سے تین سو ملین ڈالر ملنے کی امید کیا پیدا ہوئی، چہار سمت خوابوں کی فصل لہلہانے لگی۔ ہر سراب پھر سے دریا نظر آنے لگا۔ چھوٹی بڑی رنگین سکرینوں پہ، پی ٹی آئی والوں کے پیغامات میں مرکزی نکتہ یہ ہے:یہ پہلی قسط ہے، ہمارے دیوتا کے طفیل سیم و زر کی اب بارش ہوتی رہے گی۔ مراد سعید نے کہا تھا:دو سو بلین ڈالر، عمران خان کے اقتدار میں آتے ہی، دو سو بلین ڈالر سمندر پار سے پاکستان میں اتریں گے۔ غیر ملکی قرض کے ستر،پچھہتر بلین ڈالر ہم مغربیوں کے منہ پہ دے ماریں گے۔ پھر خوشحالی کے ایک خیر کن دور کا آغاز ہو جائے گا۔ عمران خان پہلے آدمی نہیں خیالات کی جنت جس نے آباد کی۔ ایسا ہی ہوتا آیا ہے اور ہمیشہ ایسا ہی ہوتا رہے گا۔ ایسے کچھ لوگ دائم رہیں گے جو اس کرۂ خاک کو بہشت بریں بنانے کے سپنے دیکھیں اور دکھائیں گے۔ ایک دعوے کو آدمی دہراتا ہے اور دہراتا رہتا ہے تو خود بھی اس پر یقین کرنے لگتا ہے،پختہ یقین، ایمان بالغیب! دو ہزار برس ہوتے ہیں، مزدک نام کا ایک آدمی ایران میں اٹھا۔ نوشیرواں عادل کا عہد ’’ہر چیز سانجھی ہونی چاہئے‘‘ اس نے کہا تھا۔ دھن دولت، گھر بار، حتیٰ کہ بیوی بچے بھی۔ ایک بڑا حکمران عملی آدمی ہوتا ہے۔

اس کی ساری توجہ اپنی اوّلین ترجیحات پہ مرکوز رہتی ہے۔ نوشیرواں کی مفتوحہ سرزمینوں کو جوڑنے اور ان میں سچے عدل کے قیام کی۔ اوّل اوّل احمقوں کے اس ٹولے کو نظرانداز کیا۔ بڑھتے بڑھتے وہ بڑھ گئے۔ پھر ایک دن خبر ملی کہ اس کی سگی بہن بھی اس دلدل میں جا گری ہے۔ خطرے کی گھنٹی بہت قریب سے بجی تو شمشیر بے نیام کی اور فسادیوں کی بیخ کنی کا حکم دیا۔ مزدکیت، اس اشتراکیت کا اوّلین روپ تھا، صدیوں بعد جو سرزمین روس سے پھوٹی۔ اب یہ ایک اور فلسفی کا کارنامہ تھا۔ لندن میں مقیم یہودی النسل دانشور نے دنیا کو لرزا کے رکھ دیا۔ روس، پھر چین اور اس کے بعد درجنوں دوسرے ممالک۔ پون صدی تک کمیونزم کا بھوت ننگا ناچتا رہا۔ آدھی دنیا اس کے سحر میں تھی۔ بھوت کو پری سمجھتی رہی۔ یہ جو ہمارے آج کے لبرل ہیں، یہ کبھی کمیونسٹ تھے، پھر سوشلسٹ ہوئے۔ جلاوطنی کے مہ و سال بتا کر بے نظیر وطن لوٹیں تو ان میں سے بہت سے سوشل ڈیموکریٹ ہو گئے۔ اب ان کی حالت ان کشتیوں ایسی تھی، بحری جہاز سے اتر کر جو بھٹک گئی ہوں۔ رفتہ رفتہ، بتدریج اس گروہ کی اکثریت نے انکل سام کی بیعت کر لی۔ اب وہ این جی اوز چلاتے ہیں۔ پاکستان کے نقطۂ نظر سے مغرب کو نہیں دیکھتے بلکہ مغرب کی نگاہ سے اپنے وطن پہ حکم لگاتے ہیں۔ اپنے گھر میں اجنبی، بھانت بھانت کے لوگ۔ چھوٹے صوبوں کے قوم پرست، لسانی، نسلی اور علاقائی تعصبات کی دلدل میں گھرے گروہ۔ پشتون تحفظ موومنٹ، اسفند یار ولی خان کی اے این پی، محمود اچکزئی کی پختون ملّی عوامی پارٹی اور وغیرہ وغیرہ۔

سرخ پرچم لہراتے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں طلبہ انجمنوں کی تشکیل ان کا مطالبہ ہے۔ نعرہ ان کا آزادی ہے اور گیت وہ فیضؔ کے گاتے ہیں۔ بیچارہ فیضؔ، زندگی کے آخری ایام جس نے بے بسی اور ویرانی میں بسر کیے۔ اپنے آخری انٹرویو میں اس نے کہا تھا کہ مجاہدین روسیوں کو ہرا سکتے ہیں اور نہ روسی مجاہدین کو۔ وفات سے چند روز قبل جو اپنے گائوں کی مسجد میں گیا اور نماز پڑھی۔ ساری عمر بتا کر منزل پہ پہنچا تو چمن نہیں، وہاں ایک صحرا تھا۔ وہ ریگزار جس میں کچھ نہیں اگتا۔ ہوا کے سوا جو ٹیلے بناتی بگاڑتی ہے، کوئی ہمدم نہ دم ساز۔ ان کے ہم نفس ظہیر کاشمیری نے کہا تھا۔ میں ہوں وحشت میں گم تیری دنیا میں نہیں رہتا بگولہ رقص میں رہتا ہے، صحرا میں نہیں رہتا بادِ نسیم بھی ہوتی ہے۔ دن بھر دھوپ میں تپتے اور شبوں کو ستاروں سے دمکتے ریگ زار کی مہربان ہوا کا ذکر خواجہ غلام فرید کے ہاں زیادہ ہے۔ ان کی شاعری میں روہی بجائے خود ایک جیتا جاگتا کردار ہے۔ اس کی تنہائی میں صوفی کو یکسوئی نصیب ہوتی۔ خیالات کو الفاظ کا پیراہن اور پیراہن میں دمکتے ہوئے موتی۔ میڈا دین وی توں، ایمان وی توں میڈا جسم وی توں میڈا روح وی توں میڈا قلب وی توں، جند جان وی توں میڈا کعبہ قبلہ مسجد ممبرمصحف تے قرآن وی توں عنفوانِ شباب میں اقبالؔ نے کہا تھا: جس قوم میں غلام فرید ایسا شاعر موجود ہو، مجھے کیوں پڑھے گی لیکن پھر عطا کرنے والے کے سامنے لرزتے ہاتھ پھیلائے۔ اے بادِ بیا بانی مجھ کو بھی عنایت ہو خاموشی و دل سوزی، سرمستی و رعنائی آنسوئوں سے بھری آنکھوں کے ساتھ، ایک شب حافظِ شیراز نے جاگ کر بتائی تھی۔

اس کی روداد سے،فارسی شاعری کے طالب علم واقف ہیں۔ اقبالؔ کی مناجات کا حال معلوم نہیں۔ یہ معلوم ہے کہ ابرِرحمت بے حساب برسا۔ عظمت پھر ان پر ٹوٹ ٹوٹ کر برسنے لگی۔ حافظؔ کو تو فقط طبعِ موزوں اور حسنِ خیال بخشا گیا، اقبالؔ کو فکر و فقر اور وہ علم بھی جو آسمان سے زمین کو دیکھتا ہے۔ کمال قرینے کے ساتھ عمل میں ڈھلتا رہتا ہے۔ اپنے عہد ہی نہیں، بیتے اور آنے والے زمانوں کا ادراک بھی۔ عشق کی تقویم میں عصرِ رواں کے سوا اور زمانے بھی ہیں جن کا نہیں کوئی نام اقبالؔ نے پاکستان کا خواب دیکھا۔ اس وطن کے لیے جو ان کی وفات کے دو عشرے بعد طلوع ہوا۔ ایک لیڈر کا انتخاب بھی کیا۔ یہی نہیں بیداری،حریت اور عظمت کا وہ نصاب بھی تجویز کیا، جس پہ ابھی عمل ہونا ہے۔ جس مسلم ہندوستان میں وہ پیدا ہوئے تھے، دنیا سے اٹھے تو وہ بدل چکا تھا۔ خود انہی کے جلال و جمال سے دمک اٹھا۔ مفکر نے کہا تھا: کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں/یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں۔

اقبالؔ محمدﷺ کے تھے، قرآن کے تھے ۔ بار بار ان کے پسندیدہ لیڈر محمد علی جناحؒ نے بھی یہی کہا: پاکستان کا دستور قرآن ہو گا، اللہ کی آخری کتاب۔ یہ بھی کہا تھا کہ کسی مکتب فکر کا نہیں، سرکارؐ کا راستہ۔ وہی قدیم اقدار، وہی ابدی اصول مگر عہدِ نو کے لیے تراشے ہوئے۔ فروغِ اسمِ محمد ہو بستیوں میں منیرؔ قدیم یاد نئے مسکنوں سے پیدا ہو عجیب لوگوں سے واسطہ آن پڑا ہے، عجیب لوگوں سے۔ ڈھنگ کی ایک کرکٹ ٹیم بنا نہیں سکتے، مدّعی ریاست مدینہ کے ہیں۔ بس خواب دیکھتے ہیں اور بس خواب دکھاتے ہیں۔ گل رنگ الفاظ نہیں زندگی ریاضت چاہتی ہے اور پیہم ریاضت۔ عصرِ رواں کا ادراک اور عرق ریزی کی تاب۔ عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی/ یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے۔