قرآن کی عینک - ناہید خان

آپی رہنے دیں بس! آپ میں تو بوڑھی روح بس گئی ہے شاید۔ علشبہ نے قد آدم آئینے میں جیولری اتارتے ہوئے بہن کو دیکھا جو سکون سے بیڈ پر بیٹھی مسکراتے ہوئے اس کی جلی کٹی باتیں سن رہی تھی۔ کہیں سے نہیں لگتا کہ آپ اعلی تعلیم یافتہ ایک کامیاب ڈاکٹر ہیں جس کے کلینک کے باہر مریضوں کی ایک لمبی لائن آپ کی منتظر رہتی ہے۔

لو بھئی میری قابلیت بیچ میں کہاں سے آگئی، اگر میں شادی جیسے فنکشن اور دیگر خرافات میں انجوائے نہیں کرتی۔کیا کہا خرافات! علشبہ حیرانی سے مڑ کر بہن کو دیکھنے لگی، ماموں نے لاکھوں خرچ کرکے یہ فنکشن ارینج کیا تھا، اپنی اکلوتی بیٹی کی شادی کے لیے کہ کوئی کمی نہ رہے۔ کیا کھانا تھا؟ اور کیا سج دھج تھی دلہن کی، کہ ہر کوئی اپنے کیمرے میں قید کرنا چاہتا تھا اور آپ کہہ رہی ہیں خرافات، کچھ خدا کا خوف کریں آپی۔

خوف خدا ہی تو ہے زینب نے ٹھنڈی سانس بھری۔ پہلے تو وہ شادی اٹینڈ نہ کرنے پر بضد تھی مگر پھر مامی کے بے حد اصرار اور ناراضگی کے سبب چلیں تو گئی مگر وہاں کونے میں شرم کی بوبو بنی بیٹھی رہی جیسے کسی غیر کی شادی میں آئی ہو۔وہاں سب نے یہ بات محسوس کی تھی کہ اس نے کسی بھی رسم میں حصہ لیا نہ انٹری کے وقت موجود رہی شہریار جو اس کا کزن اور یونیورسٹی فیلو بھی تھا اس کی یہ تبدیلی محسوس کۓ بنا نہی رہ سکا اور پوچھ بیٹھا کہ زینب تمھاری کزن کی شادی ہے اور تمھاری اچھی دوستی رہی ہے فرح باجی سے مگر زینب نے اسے کوئی خاطر خواہ جواب نہیں دیا ۔

آپی چلیں نا پلیز برتھ ڈے پارٹی ہے بہت مزہ آئے گا کبھی کبھی تو اسے موقعے آتے ہیں کے سب مل کر خوش ہوں اور بھرپور انجوائے کریں مگر لگتا ہے کہ آپ وقت سے پہلے بوڑھی ہو گئی ہیں۔زینب بہن کی بات پر مسکرائی اور گویا ہوئی کے کبھی کبھی کیوں بھئ اللہ نے ہمیں سال میں دو مواقع عیدین کی صورت میں دیے ہیں جن پر ہم بھرپور خوشی منا سکتے ہیں رہی انجوائے اور سیلیبریشنز تو وہ اگر حدود میں ہوں تو کی جاسکتی ہیں ۔حدود سے کیا مطلب ہے !کل شادی میں بھی آپ کا یہی رویہ تھا وہاں ایسا کیا تھا جوآپکو حدود سے باہر نظر آیا میں دیکھ رہی ہوں جب سے قرآن کی کلاس میں جانے لگی ہیں آپ نے اپنے کزنز وغیرہ سے بھی بات کرنا کم کر دیا ہے ہمارا مذہب یہ تو نہیں سکھاتا کہ خوشیوں کے دروازے خود پر بند کرلئے جائیں ۔علشبہ کے لہجے میں خفگی عود آئی تھی آخر ان کی اکلوتی کزن کی شادی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:   صرف ایک ہی راہ نجات ہے- حبیب الرحمن

بالکل ٹھیک کہ رہی ہو تم، واقعی ہمارا مذہب ہم پر خوشیاں منانے پر پابندی نہیں لگاتا مگر اسراف سے منع کرتا ہے۔ مگر آپی ماموں نے اپنی محنت کی کمائی اپنے بچوں پر لگائی ہے، کسی کی چوری نہیں کی ہے۔ بالکل ! ماموں نے بہت محنت کی ہے مگر اللہ کا حکم ہے کہ اپنے معاملات میں اعتدال اور میانہ روی اختیار کرو اور اس کا ہر حکم حکمت سے بھرا ہے۔ زینب سمجھانے والے اندازمیں بولی۔ لیکن آپی شادی اور دوسرے فنکشنز ہماری خوشیوں کا باعث بنتے ہیں، پھر اس میں کیا برائی ہے، یہ تو پارٹ آف کلچر ہیں۔ یہی تو ہماری غفلت ہے بہنا جسے ہم کلچر کا حصہ کہہ رہے ہیں قرآن نے اس رویہ کی صاف صاف نفی کی ہے۔ برائی خوش ہونے میں نہیں چندا، بلکہ برائی پھیلانے میں ہے۔

وہ کیسے؟ علشبہ نےحیران ہوکر کہا۔ تم نے یہ تو دیکھا کہ ماموں کی فیملی نے اپنے ارمان پورے کرنے کے لیے لاکھوں روپے خرچ کیے، پورے بینکویٹ پر ان کی فیملی چھائی ہوئی تھی، مامی قیمتی لباس اور مہنگے موبائل کو لیے بڑے کروفر سے اسٹیج کی شان بنی ہوئی تھی۔ مگر تمہاری نظر اسی بینکویٹ کے کونے میں بیٹھی ہوئی صابرہ خالہ ان کے بچوں اور بہو پر نہیں پڑی، جو رشتے داری نبھانے کے لیے چلی آئی تھیں اور اپنی کسمپرسی چھپانے کی ناکام کوشش کر رہی تھیں کہ کہیں کسی کی نظر ان کی پرانی چپلوں پر نہ پڑ جائے۔ میں نے ان کی بہو کے وہ جلے کٹے جملے بھی سنے جو وہ اپنے شوہر کی کم مائیگی پر اسے سنا رہی تھی۔ اچھا جبھی ان کا منہ پھولا ہوا تھا مگر اس میں ہمارا کیا قصور ہے۔ علشبہ نے کہا ۔

قصور ہے ! زینب زور دیتے ہوئے بولی، ایک درمیانی درجے کا خاندان جب ایسی صورتحال کا سامنا کرتا ہے تو اس میں احساس محرومی عروج پر چلا جاتا ہے اور وہ اس محرومی کو ختم کرنے کے لیے جرائم سے بھی نہیں چوکتا۔ جو مذہب پھلوں کے چھلکے بھی باہر پھینکنے کو منع کرتا ہو کہ مبادا ان پر کسی غریب کی نظر پڑے اور اس کی دل آزاری ہو وہ کیسے پھر ایسی رسموں کی اجازت دے سکتا ہے جیسے مایوں مہندی برتھ ڈے بارات جیسی خرافات جس میں بے جا اسراف ونمائش عام ھو اور لوگ جرم کرنے پر تیار ھوں۔ زینب ایک ہی سانس میں کہتی چلی گئی۔یہ بات تو آپکی سوفیصد ٹھیک ہے آپی علشبہ دھیرے سے بولی۔

یہ بھی پڑھیں:   افسانہ - محمد اویس حیدر

ناصرف یہ کہ ہم اللہ کی نافرمانی کرتے ہوۓ ان رسموں کو پھیلانے کا سبب بن رہے ہیں بلکہ اس کا وبال پورے معاشرے پر نظر آرہا ہے اللہ کا حکم تھا کہ نکاح آسان بناؤ مگر ھم نے اسے مشکل بناکر زنا کو عام کردیا ۔ جب ہم نے غیر اسلامی رسمیں مایوں مہندی بارات سالگرہ وغیرہ کو عام کیا تو ایک عام ذہن رکھنے والا انسان اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا اور ایسی شان دکھانے والے فنکشنز لوگوں نے اٹینڈ کیے اور اپنے لئے یہ سہولت حاصل کرنے کے لیے حلال و حرام کی تمیز کھودی پھر اس سے کتنی برائیاں پھیلیں جیسے احساس کمتری ، ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ ،بے حسی، اور بے حیائی تو آج اپنے عروج پر ہے ۔آپی یہ تو بہت خطرناک بات ہے۔

یعنی جس کو ہم اپنی خوشی سمجھ رہے ہیں وہ اصل میں برائی ہے اور اس برائی کو پھیلانے میں ہم اپنا حصہ ڈال رہے ہیں ۔بلکل ٹھیک سمجھی اب تم۔اور افسوس کی بات یہ کہ یہ تمام رسمیں غیر اسلامی ہیں اور امتیاز برتنے کا سبب ھیں اس لۓ دین ھمیں ایسے کاموں سے روکتا ہے زینب افسوس بھرے لہجے میں بولی ۔اس کا مطلب ہے ایسے فنکشنز اور خاص طور پر شادیاں معاشرے میں بگاڑ کا سبب بن رہے ہیں ۔بلکل ! اور اس کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ ایسی شادیوں کے نتیجے میں ہونے والے رشتے برکت سے خالی ہیں یہی وجہ ہے کہ اس وقت معاشرے میں طلاق کا ریشو بلند ہوتا جا رہا ہے۔

آپی اس رخ پر تو کبھی ہم سوچتے ہی نہیں علشبہ صدمے والی کیفیت سے دوچار تھی ۔ یہ سب مجھے کیوں نظر نہیں آیا پہلے اس لیے کہ تم نے وہ عینک نہیں پہنی!کون سی عینک آپی؟ قرآن کی عینک جس سے سب کچھ صاف صاف نظر آتا ہے۔ علشبہ ہونقوں کی طرح آپی کو دیکھنے لگی جیسے مطلب سمجھنے سے قاصر ہو۔

میری پیاری بہن قرآن ہی وہ عینک ہے جسے پہننے کے بعد وہ تمام آلائشیں جو ان رسموں کی صورت ہم نے خود سے چمٹا لی ہیں صاف نظر آنے لگتی ھیں اور ہم سب کو اپنی صفائی کی ضرورت ہے ۔آپی آپ بالکل ٹھیک کہہ رہی ہیں اب سے میں بھی آپ کے ساتھ کلاس میں جایا کروں گی ۔میری گڑیا جیسی بہن زینب خوشی سے علشبہ سے چمٹ گئی۔