ہم ماتم سرا ہیں- صدف عنبرین

ہم ماتم سرا ہیں، نوحے کہتے ہیں ،کلیجہ پھٹ جائے ایسے بین ڈالتے ہیں مگر ابھی نہیں ابھی تودور ٍ سکوت ہے کہ ابھی تو سانحہ گزرا نہیں وقت ابھی باقی ہے شاید کچھ ہی رہ گیا ہو سو ١٠٠ دن سے اوپر کا کرفیو !!! اب تک کیا کچھ نہ گزر گیا ہوگا؟؟ اذیتوں کا سمندر ہوگا جو گزر رہا ہوگا اور گزرا بھی نہیں ہوگا۔ بلکتے بچے ابدی نیند سو چکے ہونگے ، لٹی عصمتیں محمد بن قاسم کے انظار میں کہاں بیٹھی ہونگی مر کھب گئیں ہونگی ، بزرگوں سے بھوک کی شدت اور جوان لاشے کہاں اٹھائے جاتے ہیں شاید گنے چنے ہی باقی ہوں ، کچھ آس وامید والے سانس لیتے ہونگے کچھ لشکر شبیر والے دل دھڑکتے ہونگے کچھ۔۔۔

خیر جب معاملہ نمٹ جائے گا ہم سینہ کوبی کرنے نکلیں گے پھر صرف تقریر نہیں ہم سڑکوں پہ آجائیں گے پھر آخری گولی اور خون کے آخری قطرے کی بات نہیں ہم ۔۔۔۔میڈیا اخبار، سوشل میڈیا،احتجاج سب کریں گے. آج ظالم پھر مودی کے روپ میں آمادہ ظلم ہے ،بھوک سے بلکتے بچے بھی ہیں ،سینے پہ گولی کھاتے جوان بھی ہیں یوں لگتا ہے کرب و بلا کے سب منظر مکمل ہیں مگر اس منظر میں ہم بھی ہیں، ہاں ہم بھی تو ہیں، ہم کون ہیں؟ ہم ہیں حادثوں کے بعد رونے والے لوگ!! اس منظر میں ہم! ہم کوفہ والے ہیں ظلم کے وقت خاموش رہنے والے لوگ!!

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com