سرخ کٹھ پتلیاں۔؟؟ صائمہ وحید

سرخ چہرہ کیے، مرد کو پتہ ڈال کر کتا بنائے، نعرے لگاتی عورتیں اور ان کے ہمنوا مرد ہمیں ورطہ حیرت میں مبتلا کررہے تھے۔ یہ کس تہذیب کے نمائندے ہیں جو اپنے ہی ہم صنف کو کتا بنا دیکھ کر تالیاں بجا، داد دے رہے ہیں ۔سرخ ہے، ایشیا سرخ ہے کے نعرے لگا رہے ہیں۔

گزشتہ دنوں کا واقعہ ذہن میں تازہ ہوا۔جب ایک بوڑھی عورت اور اس کی بیٹی روڈ پار کرنے کے لیے، ٹریفک رکنے کے انتظار میں کھڑی تھیں۔ آدمی دوڑتے بھاگتے روڈ پار کررہے تھے کہ ایک نوجوان جو سڑک پار کرچکا تھا، پلٹ کر دوبارہ آیا۔ اور بوڑھی عورت کے سامنے سے ٹریفک کو ہاتھ کے اشارے سے روکتا آہستہ آہستہ آگے بڑھا۔ ان خواتین کو روڈ پار کرا کر چلا گیا۔ ایسے واقعات ہمارے معاشرے میں اکثر و بیشتر نظر آتے ہیں۔ یہ اسلامی معاشرے کی خوبی ہے۔ چونکہ "مرد کو اللہ تعالیٰ نے قوام بنایا ہے۔" اور عورت کے تحفظ کی ذمہ داری سونپی ہے۔

اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جس نے عورت کو قدر و منزلت عطا کی، عورت کی عین فطرت کے مطابق اس کی ذمہ داری، دائرہ کار، حقوق متعین کیے۔ عورتوں کے حقوق ادا کرنے والے مرد کو "بہترین مرد" قرار دیا۔ شوہر، باپ، بھائی، بیٹا ہر رشتہ میں اپنے اموال بھی خرچ کرنے، عورت کی حفاظت، حقوق کی ادائیگی کا پابند کیا ہے۔ جبکہ مغربی معاشرے میں مردوں نے عورت کو چکی کے دو پاٹوں میں پیس رکھا ہے۔ مغربی عورت نے مردوں کی برابری، مقابلے کی دوڑ میں اپنی نسوانیت، حیا، عزت و وقار کو بالائے طاق رکھ دیا ہے۔ عورت نوکری کرے، اپناخرچ خود اٹھائے، گھر، بچے بھی دیکھے، اور مرد کے لیے کھلونا، عورت پابند، مرد آزاد۔ مغربی متاثرین ایشیا، خصوصا پاکستان کی عورت کو بھی اسی چکی میں پیسنا چاہتے ہیں۔ اہل قلم اور اہل دانش کی ذمہ داری ہے۔ ان نادان مغرب پرستوں، ان سرخوں اور سرخیوں کو سمجھائیں کہ سرخ شعلوں سے جو کھیلو گے تو جل جاؤ گے۔

دنیا کی عظیم خواتین حضرت خدیجہ، حضرت عائشہ، بی بی فاطمہ، ام عمارہ، رابعہ بصری اور ان کی جانشین عمر الیاس جیسے بہادر عظیم سپوت کی مائیں۔ برہان وانی جیسے دلیر بیٹے کی کشمیری مائیں بہنیں، مروہ الشربینی، مریم مختیار جو باپردہ ہو کر کامیاب پائلٹ تھیں۔عافیہ صدیقی۔ آسیہ اندرابی جیسی مضبوط، باطل کے آگے چٹان کی طرح ڈٹ جانے والی، پاک سیرت، باحیا، باہمت، بلند روشن کردار کی چمک دمک سے ہی دنیا ابدی، حقیقی روشنی سے منور ہے۔ معاشرے امن وعافیت کا گہوارہ بن سکتے ہیں۔
حکومت کا فرض ہے کہ ایسے غیر مہذب، اخلاقیات سے عاری، عوام کو راہ راست سے بھٹکانے والے، مرد کو کتا بنانے والے افراد کی بنیادی انسانی تربیت کا اہتمام کرے۔