پیغام رسانی کی مشکلات - بشارت حمید

ہم میں سے کوئی دو چار جماعتیں پڑھ لے یا کسی یورپی ملک میں وقت گزار آئے تو انگریزی سے کم کسی زبان میں بات کرنا توہین سمجھنے لگتا ہے۔ اگر اردو یا پنجابی بھی بولے گا تو اس میں بھی باربار انگریزی الفاظ کا استعمال کرے گا۔ یہ ہمارا عجیب قسم کا احساس کمتری ہے کہ اپنی ہی مادری زبان بری لگنے لگ جاتی ہے۔

ہم انسان جانوروں سے افضل مخلوق ہیں اور اللہ نے ہمیں قوت گویائی عطا کی ہے جس کے زریعے ہم ایک دوسرے کو اپنے خیالات اور سوچ سے آگاہ کرتے ہیں اور دوسرے انسان کو ہمارے نکتہ نظر کا علم ہو جاتا ہے۔

ایک انسان سے دوسرے انسان تک پیغام رسانی یا میسجنگ کا زریعہ یہ زبان کا میڈیم ہے۔ اس پیغام رسانی کے عمل کی تکمیل اس وقت ہوتی ہے جب بات کرنے والا بات سننے والے کے ذہن میں اپنی بات اسی مفہوم اور اسی درجے کی حساسیت کے ساتھ پہنچا دے جس لیول پر وہ بات اس کے اپنے ذہن میں ہے۔

اگر تو میں کوئی بات جس لیول پر آپ کو سمجھانا چاہتا ہوں اسی لیول پر اسی فریکوینسی پر آپ تک پہنچ گئی تو یہ ایک کامیاب پیغام رسانی ہوگی۔ اگر میں بات کچھ اور طریقے سے سمجھانا چاہوں لیکن آپ کو کسی اور طریقے سے سمجھ آئے اور بات کا مفہوم ہی تبدیل ہو جائے یا بات پورے طریقے سے پہنچ ہی نہ سکے تو یہ پیغام رسانی فیل ہو جائے گی اور مخاطب کو بات کی سمجھ ہی نہیں آئے گی۔

جس فرد کو کوئی بات سمجھانی ہو اس کی ذہنی سطح اس کی تعلیم اور اس کے فہم کا اندازہ کرکے ہی بات کہنے کے میڈیم کا انتخاب کیا جانا چاہیے۔ اگر ہم ان پڑھ لوگوں سے بات کریں تو ان کے ساتھ ان کی مادری زبان میں بات کرنا زیادہ بہتر رہے گا۔ اگر ہم پنجابی بولنے اور سمجھنے والے کے ساتھ اردو یا انگریزی میں بات کریں گے تو اگرچہ ہماری زبان دانی کا رعب تو سننے والے پر ضرور پڑے گا لیکن وہ بات کو درست طریقے سے سمجھ ہی نہیں پائے گا اور سننے والا زبان مختلف ہونے کی وجہ سے ایک فاصلہ محسوس کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   لغت بدل گئی، ہے نہیں اور نہیں ہے ہوگیا - حبیب الرحمن

انسان کی زبان کوئی بھی ہو اس کی وجہ سے عزت نہیں ہوتی اصل عزت تو ان الفاظ کی ہے جو ہم گفتگو میں استعمال کرتے ہیں۔ کوئی انگلش یا عربی میں گالیاں دے یا بدکلامی کرے تو صرف غیر ملکی زبان بولنے کی وجہ سے کوئی اس کی عزت نہیں کرے گا۔ دوسری طرف کوئی چاہے پنجابی بولے یا جنگلی زبان بولے اگر اس میں الفاظ کا چناو بہترین ہو تو یہ قابل عزت بات ہوگی۔

اس لئے دوسروں پر علمی دھاک بٹھانے کے بجائے ہم ان کی ذہنی سطح کے مطابق زبان اور الفاظ کا استعمال کریں تو ہماری بات زیادہ لوگوں تک درست طریقے سے پہنچ جائے گی اور بات سمجھانا ہی گفتگو کا اصل مقصد ہوتا ہے۔ ورنہ ان پڑھ کے ساتھ انگریزی میں بات کریں گے تو گفتگو بے فائدہ رہے گی۔

Comments

بشارت حمید

بشارت حمید

بشارت حمید کا تعلق فیصل آباد سے ہے. بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی . 11 سال سے زائد عرصہ ٹیلی کام شعبے سے منسلک رہے. روزمرہ زندگی کے موضوعات پر دینی فکر کے تحت تحریر کے ذریعے مثبت سوچ پیدا کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.