گل خان شیر شاہ سوری کیوں نہ بن سکا - قادر خان یوسف زئی

حسن خان کے عظیم سپوت فرید خان کی روح یقیناََ سوچتی ہوگی کہ سینکڑوں برس بعد ایک ایسا ہونہار پیدا ہوگیا ہے جس کی تعریف تاریخ میں ہزاروں برس یاد رکھی جائے گی۔ فرید خان کون تھا، کیا آپ اس کو نہیں جانتے۔ اگر آپ فرید خان کو نہیں جانتے تو کم ازکم مجھے افسوس نہیں ہوا، کیونکہ جرنیلی سڑک بنانے والے، عظیم ز رعی اصلاحات سمیت ان گنت فلاح و بہبودکرکے تاریخ میں اپنا نام انمٹ لکھوالیا تھا۔مغلیہ سلطنت کے بادشاہ ہمایوں کو بُری طرح چوسہ اور قنوج کے مقام پر دو مرتبہ شکست دینے والے فرید خان کو دنیا آج تک شیر شاہ سوری کے نام سے یاد کرتی ہے اور اس کی بنائی گئی (گرینڈ ٹرنک روڈ)جرنیلی سڑک جی ٹی روڈ پر سفر کرتی ہے۔ تخت لاہور نے بالاآخر ایک نیا شیر شاہ سوری پیدا کردیا۔

شیر شاہ سوری دوم کی تعریف و توصیف چاہے جتنی کریں اس سے کم ازکم مجھے کوئی سروکار نہیں، یہ تو زمانے کا چلن ہے۔ چڑھتے سورج کو تو سب ہی سلام کیا کرتے ہیں، اگر فیاضی زیادہ ہوجائے ہے تو اس پر بھی معترض نہیں، لیکن حیرانی ہوتی ہے کہ شیر شاہ سوری کی عظیم ترین شخصیت کے کارنامے تو پہلے پاکستانی قوم کو بتا دیئے جاتے۔ کل ہی مجھ سے گل خان پوچھ رہا تھا کہ یہ شیر شاہ کالونی و مارکیٹ کانام شیر شاہ سوری پر رکھا گیا تھا؟۔ اور بھی بہت کچھ ہوگا، لیکن شیر شاہ سوری دوئم کا جنم جنوبی پنجاب میں ہوا تھا، یہ ہمیں کچھ دن قبل ہی ہوا۔

یاد آیا کہ پچھلے دو کالموں میں گل خان کا تواتر سے ذکر آیا تو میرے پیارے دوست حقانی نے بڑا معصومانہ سوال پوچھا کہ یہ گل خان کون ہے؟۔ حاجی صاحب مجھ پر ناراض ہوئے کہ گل خان سے معافی کیوں مانگی۔ میں نے حقانی بھائی سے وعدہ کیا کہ گل خان کے بارے میں انہیں ضرور بتاؤں گا کہ گل خان تھیوری کیا ہے؟۔لیکن گل خان تھیوری کو سمجھانے کے لئے اب مجھے زیادہ محنت نہیں کرنی پڑے گی، کیونکہ شیر شاہ سوری دوئم کا خطاب دینے والوں نے میری مشکل آسان کردی۔ تو حقانی بھائی، گل خان ہمارے معاشرے کا وہ استعارہ ہے جو اپنی تقاریر و تحاریر میں مکھن اور دیسی گھی کابے دریغ استعمال کرتے ہیں۔ بوٹ کو پالش کرنا ان کا سب سے مرغوب مشغلہ قرار دیا جاتا ہے۔ یہ پاکستان کے ہر کونے میں پائے جاتے ہیں۔ ہر بے سروپا و غیر منطقی بات کو تاریخی کہہ کر اپنا نام سنہرے لفظوں میں لکھوا لیتے ہیں۔ مدح سرائی کے لئے ہر حد کو پھلانگ جاتے ہیں۔۔ سیاست، صحافت سے لیکر زندگی کے ہر شعبہ میں پائے جاتے ہیں۔نوکر شاہی ہوں یا ارباب اختیار کے اردگرد سموگ کی طرح نظر آتے ہیں، کام کراتے ہیں، دھند کے طرح چھٹ جاتے ہیں، کام پڑتے ہیں، حد نگاہ صفر ہوجاتی ہے اور ان کی دور کی نظر ختم سی ہوجاتی ہے۔

میں حقانی بھائی کو گل خان کی تاریخ سے آشنا بھی کرانا چاہتا ہوں، لیکن گل خان مجھے منع کررہا ہے کہ اگر کچھ کیا تو تم بھی گل خان بن جاؤ گے۔ مجھے گل خان بننے پر اعتراض تو نہیں ہے، لیکن یہ کمال ہنر سیکھنے میں بہت وقت لگے گا۔ میں بڑی کوشش بھی کروں تو گل خان نہیں بن سکتا۔ یہ خداد داد صلاحیت ہوتی ہے، جو کسی کو بھی وسیم اکرم پلس تو کسی کو شیر شاہ سوری بھی بنا دیتی ہے،اگر اب بھی میری بات نہیں سمجھے تو سوشل میڈیا میں کسیکی بھی بلاوجہ تعریف و توصیف کرتے دیکھیں تو سمجھ لیں اس میں بھی ایک گل خان چھپا بیٹھا ہے۔ جو اُچک اُچک کر باہر آنے کی کوشش کررہا ہے۔ اگر سیاسی جماعت میں نہیں دیکھنا چاہتے تو اپنے اردگرد دیکھ لیں، دہن سے نکلتے شہد سے میٹھے لفظوں اور چمکتے چہروں میں گل خان کو فوراََ پہچان لیں گے۔

کسی کی تعریف توصیف کرنا بُری بات نہیں ہے۔ حوصلہ افزائی اور اچھے کاموں کی تعریف اگر نہیں کی جائے گی تو علم کیسے ہوگا کہ یہ اچھا کام تھا۔ میں نے اپنے گل خان سے پوچھا کہ شیر شاہ سوری نے تو جی ٹی روڈ جیسی عظیم سڑک تعمیر کردی تھی اگر خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ نے اپنے دور اقتدار میں بی آر ٹی منصوبہ مکمل کرلیا تو شیر شاہ سوری سوئم کا خطاب تو حق بنتا ہی ہے۔ ویسے بھی خطابات میں اول تا اژدھم تک ایک ہی نام چلنے کی کئی روایات رہی ہیں، اس پر کسی کو اعتراض بھی نہیں ہوگا۔ گل خان نے فوراََ اثبات میں سرہلایا اور مجھ سے کہا کہ اثرات غالب آ رہے ہیں۔ میں نے بغیر شرمندہ ہوئے کہا کہ بچپن سے سنتا آرہا ہوں کہ سیدھی انگلی سے گھی نہیں نکلتا تو انگلی ٹیڑھی کرنی پڑتی ہے۔ لیکن اب زمانہ بدل گیا ہے، گھی نکالنے کے لیے کنستر کو نرم آنچ پر رکھنا ہی کافی ہے۔

ایک بڑا مشہور واقعہ ہے کہ پارٹی کے ایک کنونشن میں بھٹو صاحب کی خوشامد میں دو معروف شخصیات میں مقابلہ ہوگیا۔کنونشن کے بعد بھٹو صاحب نے سیا سی شخصیت سے کہا کہ آج اس قدر خوشامد ہوئی میں خود بھی سراسیمہ ہو رہا تھا۔ پی پی پی کے سینئر رہنما فیصل آباد کی ریلی میں پرجوش اور ولولہ انگیز خطاب کر رہے تھے، انہوں نے جوش خطابت میں کہا، بھٹو سورج ہیں عوام ا سکی روشنی ہیں۔ بھٹو چاند ہیں عوام اس کی کرنیں ہیں۔ بھٹو پھول ہیں عوام اس کی خوشبو ہیں۔ ایک نظریاتی جیالا کھڑا ہوگیا اور کہنے لگا بھٹو دیگ ہیں اور ہم ان کے چمچے ہیں۔ پارٹی لیڈر نے جیالے سے مخاطب ہو کر کہا کہ تم نے میری زبان سے میری بات چھین لی میں بھی یہی کہنے والا تھا۔