ڈراموں کے ذریعے اصلاح یا بگاڑ؟ مریم حسن

ٹی وی پر دعا منگی کے اغواء سے متعلق خبریں دیکھ کر میرے دماغ میں مسلسل جھکڑ چل رہے ہیں۔ ایک لڑکی کا اغواء اور گمشدگی، ذہن میں مختلف خیالات سرسرا رہے ہیں جن میں سے ایک اس اغوا کے طریقہ واردات کے حوالے سے ہے۔ کافی عرصے سے ایک بات مجھے تنگ کر رہی تھی اور اب کچھ دن پہلے پھر وہ پوری طرح ذہن پر سوار ہوگئی ہے۔

کیا آپ نے کبھی اس بات پر غور کیا ہے کہ ہمارے ہاں جیسے ڈرامے دکھائے جاتے ہیں ویسا ہی معاشرے میں رجحان بڑھنے لگتا ہے۔جب چائلڈ ایبیوز پر ڈرامے بن رہے تھے تو تواتر سے یہ واقعات ہونا شروع ہوگئے تھے، اور زیادہ تر اسی انداز میں جیسے ڈرامے چل رہے ہوتے تھے۔ چند ایک کیسز کے بعد ڈراموں میں یہ موضوع دکھایا گیا تھا (قصور ویڈیو کیس ایک الگ طرح کا تھا) جن دنوں یہ ڈرامے چل رہے تھے تب ریکارڈ کیسز ہوئے ہیں۔

خبریں نکال کر دیکھیں تو ایک عام سی بات بن گئی تھی، آئے دن کسی نہ کسی کے ساتھ کیا جانے والا ظلم۔ مختلف کیسز میں مجرموں نے بتایا کہ انہوں نے یہ سب کسی فلم/ویڈیو میں دیکھا تو ان کے ذہن میں بھی یہ خیال آیا۔ ڈرامے اس لیے بنائے جاتے ہیں تاکہ دیکھنے والے برائی سے دور ہوجائیں، لیکن جب آپ کسی ایسی برائی کو جو پہلے ڈھکی چھپی ہے، کھول کر سامنے رکھ دیں گے تو دیکھنے والے کے ذہن میں بھی اس حوالے سے مختلف خیالات سر ابھارنا شروع ہوتے ہیں میسج کو دیکھتا ہے یہاں؟ زیادہ تر لوگ منفی اثرات قبول کرتے جاتے ہیں۔

اور اب یہ دعا منگی کیس!
اغوا کا طریقہ دیکھیں، بالکل وہی انداز جو ڈرامہ سیریل "رسوائی" میں دکھایا گیا ہے۔ آپ ڈرامے awareness کے لیے بنا رہے ہیں لیکن اس کا یہ نیگٹو اثر بھی ذہن میں رکھیں، وہ جن کو اپنی سوچ پر عمل کرنے کا راستہ نہیں بھی مل رہا ہوتا ان کے لیے راستے کھل جاتے ہیں۔

میں یہ نہیں کہہ رہی کہ ڈرامے کا موضوع غلط ہے، لیکن تباہی کا باعث بن رہے ہیں یہ ڈرامے یہ بات ذہن میں رکھیں! جو ہم دیکھ رہے ہوتے ہیں وہ ہم پر اثر ڈالتا ہے۔ لازمی نہیں ہے کہ کسی چیز کو غلط دکھانے کے لیے پہلے اس "غلط چیز" کو دکھایا بھی جائے۔

اصلاح کی نیت سے بننے والے ڈرامے ہیجان پھیلانے کا سبب بن رہے ہیں۔ پیمرا کو چاہیے کہ ایسے مواد و موضوعات پر نظر رکھے جو معاشرے میں بگاڑ کا باعث بن رہے ہیں، حالات پہلے ہی بہت برے ہیں۔ برائی کو پینٹ کر کے انہیں مزید نہیں بگاڑنا چاہیے۔