ملک ریاض ڈاکٹرائن، اور دسترخوانی عوام - محمودفیاض

پسماندہ ملکوں میں ترقی کا ایک ہی طریقہ ہے۔ وہاں کے طاقتور مافیاز سے گٹھ جوڑ کر کے اپنا کام نکالو۔ یہ ہی ملک ریاض کی کاروباری ڈاکٹرائن ہے۔ بظاہر ملک ریاض ایک خدا ترس ، ڈاؤن ٹو ارتھ (عاجز) کاروباری نظر آتا ہے جس نے انتھک محنت سے اپنے کاروبار کو معمولی سرکاری ٹھیکوں سے بین الاقوامی کرائم ایجنسیوں کو "ڈیل دینے" تک پہنچا دیا۔

ملک ریاض اپنے انٹرویوز میں اپنے ان تعلقات اور طریقہ کار کو چھپاتا بھی نہیں ہے کہ اس نے اپنی کاروباری فائلوں کو جلد از جلد منزل پر پہنچانے کے لیے ہر رائج الوقت حربہ اختیار کیا۔ مختصر تاریخ دیکھی جائے تو سرکاری افسران کو رام کیا اور ٹھیکے لیے۔ بحریہ ٹاؤن کے نام سے کاروبار کیا جو پاکستان جیسے فوجی اداروں کے سائے میں پلے بڑھے عوام کے لیے ساکھ کی علامت بن گیا۔ بعد میں بحریہ ٹاؤن کا "عدالتی تصفیہ" کر کے بحریہ ٹاؤن کو پاکستان بحریہ سے الگ شناخت منوا لیا گیا۔ برانڈنگ کی یہ عجیب مثال آپ کو اسی خطے میں دستیاب ہوگی۔

بحریہ ٹاؤن کی کوکھ سے پھر بچے نکلتے چلے گئے اور کراچی میں ایک "دبئی" بسا دینے سے پہلے بھی بحریہ ٹاؤن ، ڈی ایچ اے کے بعد دوسرا بڑا پراپرٹی اور ہاوسنگ ٹائیکون بن چکا تھا۔

ملک ریاض کی شہرت فائلوں کو پہیے لگانے کے علاوہ کرنیلوں جرنیلوں کو اپنے ادارے میں بہترین معاوضے والی نوکریاں دینے کی بھی ہے۔ ملک ریاض نے بلڈی سویلینز پر رعب داب رکھنے کے لیے ریٹائرڈ فوجی رینکس کا جو استعمال کاروباری سطح پر کیا اسکا خیال یا تجربہ پہلے کئی مارشل لاء والے بھی نہ کر سکے۔

سیاستدانوں کو نوازنے کی جو بےجوڑ مثالیں ملک ریاض نے قائم کیں ہیں ان میں بلال ہاؤس جیسے محلات تحفے میں دینے، اور الطاف حسین یونیورسٹی کا سنگ بنیاد جیسے واقعات محض اشارے ہیں، جو عوام تک پہنچے ہیں۔ درون خانہ ملک صاحب نے اپنے خزانوں کے منہ ہر اس صاحب طاقت و اختیار کے لیے کھولے رکھے جو اسکے کاروبار کی دن دگنی رات چوگنی ترقی کو یقینی بنا سکتا تھا۔

بظاہر دیکھیں گے تو ان تمام "معصومانہ" حرکات میں آپ کو کوئی کرپشن یا غیر قانونی حرکت نظر نہیں آئیگی۔ کیا ریٹائرڈ فوجی افسران کو نوکریاں دینا غلط ہے؟ یا ملکی سیاسی لیڈران کو بخوشی تحفے تحائف دینے میں کوئی قباحت ہے؟ حتی کہ جہاں کہیں عدالت نے اعتراض کیا، وہاں ملک ریاض نے بسروچشم انکی بات بھی مان لی۔ ۔ ۔ کہ ملک ریاض پہلے ہی منافع کو ہزار گناہ رکھتا ہے تاکہ اس میں سب کا حصہ شامل رہے۔

ملک ریاض اپنے کھیل میں اس قدر ماہر ہے کہ "کھرا سچ" بولنے والا مبشر لقمان اور مہر بخاری اس کے لیے پیڈ پروگرام کرتے ہیں۔ وہ اس میں تمام صحافیوں، سیاسی لیڈروں، جرنیلوں، اور دیگر طاقتوں کو خفیہ و جلی دھمکیاں لگاتا ہے، پاکستان میں کرپشن کرنے کا اعتراف کرتا ہے۔ اپنی ڈاکٹرائن سمجھاتا ہے اور چلا جاتا ہے۔ کوئی اس پر "غصہ" میں بھی نہیں آتا کہ سو موٹو ہی لے لیا جائے۔ سب اسکی حق گوئی کی داد دیتے ہیں۔ صحافی بھی، اور کاروباری بھی۔

برطانوی کرائم ایجنسی نے جو جائیداد ملک ریاض سے لی ہے، وہ پانامہ کا معاملہ پبلک ہونے سے دو ماہ پہلے ملک ریاض نے شریف فیملی سے "خریدی" تھی۔ اور یہ عین وہی وقت تھا جب پانامہ والی صحافی حضرات پوری دنیا میں ان کرپٹ سیاسی خانوادوں سے رابطے کر کے ان سے وضاحتیں مانگ رہے تھے۔ عقل کی زرا سی رمق بھی ہو تو یہ واضح نظر آجاتا ہے کہ ملک ریاض نے شریف فیملی کو اس "آڑے وقت" میں اپنی پیٹھ سواری کے لیے پیش کر دی۔ یہ اور اس طرح کہ دیگر کاروباری "نقصان" ہی تو ملک ریاض کی ڈاکٹرائن کا حصہ رہے ہیں۔

سیاست سے قطع نظر میں تو آپ سب پاکستانیوں کے سامنے صرف یہ سوال رکھنا چاہتا ہوں کہ شریف و زرداری مافیاز کے کالے کرپشن والے کرتوتوں کے لیے اپنا چہرہ پیش کر کے ملک ریاض جیسے کردار ملک و قوم کا لوٹا ہوا پیسہ ٹھکانے لگانے میں اپنی پیٹھ پیش کرتے ہیں۔ ۔ ۔ اور جب اس کرپشن اور لوٹ مار کی نتیجے میں ملک میں لاکھوں کروڑوں غربت کی لکیر سے نیچے جا گرتے ہیں، تو یہی کاروباری اپنی پیٹھ پیش کرنے کے کمائی میں سے دسترخوان سجانے لگتے ہیں۔

سوال صرف یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ کاروباری ان کرپٹ لیڈروں کو سواری کے لیے اپنی پیٹھ پیش ہی نہ کریں تو شائد انکو بھوکوں کو کھانا کھلانے کی نوبت بھی نہ آئے ۔ ۔ ۔ کہ مدینہ کی ریاست میں بھوکے کتے کا تصور بھی نہ تھا ۔ ۔ ۔ نہ کہ بھوکی عوام کا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */