عورت کا تشخص مرد کےلیے مسئلہ کیوں؟ شہلا اسلام

میں نے جس معاشرے میں آنکھ کھولی ایک لڑائی جیسے شعور میں بس کر رہ گئی۔ ہر کچھ دن میں کوئی ایک ایسا شوشہ ضرور اٹھتا ہے جو پھر سے ہماری شناخت کے حوالے سے سوالیہ نشان اٹھا دیتا ہے۔ عورت!... عورت ہونا!... یہ گویا کہ ایک تجربہ ہے... مرد کے لیے ... عورت، باپردہ عورت، بے پردہ عورت .... عورت!. پسماندہ عورت، متحرک عورت ... عورت!... کم پڑھی لکھی یا محدود سوچ والی (خاص طور پر دینی تعلیم سے آراستہ)، پڑھی لکھی، با شعور، اعلیٰ تعلیم یافتہ ... عورت!... دبی ہوئی، مردوں کے زیر سایہ۔ با اعتماد، مردوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے والی۔

میں نے جب جب معاشرے میں میں ایک متحرک فرد کی حیثیت سے داخل ہونا چاہا، مجھے قطب شمالی اور قطب جنوبی کی طرح دو واضح انتہاؤں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا۔ ذرا غور کیجیے اس تقسیم پر جو اوپر بیان کی گئی ہے۔ اگر میں اوپر دیے گئے عورت کے تصورات کو دو حصوں میں تقسیم کروں تو دو واضح گروپ نظر آئیں گے۔ عورت!.... باپردہ، پسماندہ، کم تعلیم یافتہ، محدود سوچ رکھنے والی، اپنے حقوق سے نا آشنا، دبی ہوئی شخصیت کی حامل، بالمقابل بے پردہ، متحرک، جدید تعلیم یافتہ، پڑھی لکھی، باشعور، عورت اپنے حقوق کے لیے مردوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے والی عورت۔ اگرمردوں کو ہٹا دوں تو مردانہ تسلط کے حامل معاشرے میں اپنے حقوق کی بات کرنے والی عورت۔

غور طلب بات ہے کہ ہر وہ آدمی جو ہمیں ہمارے حقوق حاصل کرنے یا چھین لینے کا درس دیتا ہے، وہ ان دو انتہاؤں سے ایک یعنی ماڈرن عورت کا ا نتخاب کرتا ہے۔ اور پھر شعوری یا لاشعوری طور پر اس کا تقابل اپنے ذہن میں بنائے ہوئے اس تصور سے کرتا ہے جو کہ باپردہ اور پسماندہ ہے، جبر اور ظلم کی چکی میں پس رہا ہے اور اپنے حقوق سے نا آشنا ہے۔ کبھی آپ نے ان اکثریتی ڈراموں پر غور کیا ہے جس میں ہیروئن غریب ہوتی ہے، ذہین ہوتی ہے، دنیا سے لڑنا جانتی ہے، سر پر دوپٹہ اور معاشرتی اقدار کو سنبھالے وہ دنیا کا سامنا کرتی ہے۔ پھر اپنی ذہانت، حوصلہ، بہادری اور صلاحیت سے لوگوں کو چت کر دیتی ہے، پھر لوگ اسے ماننے لگتے ہیں۔ مگر سر کا دوپٹہ گلے سے ہوتا غائب ہی ہو جاتا ہے، تیل چپڑے بالوں اور بغیر میک اپ کے قبول صورت لڑکی جب شعور حاصل کرتی ہے، اپنا آپ منواتی ہے، مردانہ معاشرے میں اپنی جگہ بناتی ہے، تو کھلے کٹنگ ہوئے بالوں اور میک اپ سے آراستہ وہ ایک خوبصورت لڑکی دکھائی جاتی ہے، جو ہر کسی کو اچھی لگتی ہے۔

یاد رہے اب بھی اس کے اوصاف وہی ہیں، اب بھی اس کا بہادر، ذہین، باصلاحیت ہونا، مردانہ معاشرے میں ان کو چیلنج کر کے ان سے اپنے حقوق چھیننا، اپنی موجودگی کا احساس دلانا، ہی اس کی کامیابی کی کنجی ہے لیکن ہماری بیمار دیمک زدہ ذہنیت اس تصور کو دوپٹے میں یا باحجاب قبول نہیں کر سکتی۔ یہ وہ سوچ ہے جو آہستہ آہستہ ہمارے معاشرے میں اتاری جا رہی ہے۔ ڈرامے ہوں یا ڈاکومنٹری، خبر ہو یا کالم، اس کا محور تعلیم یافتہ روشن خیال ماڈرن عورت ہوگی اور ٹارگٹ با پردہ، دینی سوچ سے آراستہ عورت۔ اس کی ٹارگٹ آڈینس روشن خیال ماڈرن عورت نہیں ہوگی کیوں اسے تو ضرورت نہیں، وہ تو پہلے ہی معاشرے میں اپنا مقام بنا چکی ہے، اس کا ٹارگٹ ان کے ذہن میں موجود یہ دقیانوسی معاشرہ اور ان کی نئی نسل ہے، وہ کم عقل گھٹے ہوئے معاشرے کے پروردہ لوگ (جنھوں نے دین کے ایک محدود تصور کو ہی اپنا رکھا ہے) اور ان کی تربیت ہے۔

سوال یہ ہے کہ بہادر، ذہین با صلاحیت پڑھی لکھی معاشرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر چیلنج کرنے والی عورت کی مثال صرف عروج اورنگزیب اور عاصمہ جہانگیر ہی کیوں ہیں؟ فرحت ہاشمی اور آسیہ اندرابی کیوں نہیں؟ دوپٹہ اوڑھے ہوٹلوں پر چھاپے مارتی عائشہ ممتاز کیوں نہیں؟ پڑھی لکھی اعلیٰ تعلیم یافتہ مغربی سامراج کو چیلنج کرنے والی عافیہ صدیقی (جس کو واپس لانے کا نعرہ آج بھی ہماری انتخابی سیاست میں بکتا ہے) کیوں نہیں؟ حجاب کے حق کےلیے جان قربان کرنے والی مروہ الشر بینی کیوں نہیں؟ کشمیر اور فلسطین کی آزادی کے لیے ظلم کے خلاف اب تک ڈٹی ہوئی اور ثابت قدم مائیں بہنیں بیٹیاں کیوں نہیں؟

سوال یہ بھی ہے کہ ہمارا پڑھا لکھا با شعور دانشور طبقہ جس نے اس معاشرے سے انتہا پسندی (صرف مذہبی انتہا پسندی) کو ختم کرنے کا بیڑا از خود اپنے سر لیا ہوا ہے، وہ خود اس انتہا پسندی سے باہر کب نکلے گا!... اورسوال تو یہ بھی ہے کہ کب تک عورت کی شناخت اس مخصوص تصور کے ساتھ ہوتی رہے گی جو آج کے ان مردوں نے سوچا ہوا ہے۔

سوال یہ ہے کہ ہم ان دو انتہاؤں میں سے نکل کر اس اعتدال کی طرف کب جائیں گے، جہاں حضرت عائشہ ایک باپردہ خاتون ہونے کے باوجود ایک ایسی فقیہہ اور عالمہ تھیں کہ اس دور کے صحابی ان سے علم حاصل کرنے جاتے تھے اور ان سے منسوب کتنی ہی احادیث سے ہم آج تک استفادہ کر رہے ہیں اور رہتی دنیا تک لوگ کرتے رہیں گے۔ جہاں حضرت خدیجہ بزنس بھی کرتی تھیں لیکں ان کا شمار قبول اسلام کے اولین ہستیوں میں ہوتا ہے۔

اب سوال نہیں ہے جواب ہے ہمیں اپنے وضع کردہ ان تصورات میں ڈھالنے کی کوشش نہ کریں ہمارا اپنا ایک الگ تشخص ہے ہمیں ان انتہاؤں میں نہ بانٹیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com