باپ پر کیا گزری؟ یہ اولاد کو کب سمجھ آتا ہے۔ یمین الدین احمد

جوانی میں انسان باپ کو شک کی نگاہ سے دیکھتا رہتا ہے، جیسے باپ کو ہمارے مسائل، تکلیفوں یا ضرورتوں کا احساس ہی نہیں۔ یہ نئے دور کے تقاضوں کو نہیں سمجھتا۔کبھی ہم اپنے باپ کا موازنہ بھی کرنا شروع کر دیتے ہیں۔" اتنی محنت ہمارے باپ نے کی ہوتی، بچت کی ہوتی، کچھ بنایا ہوتا نا تو آج ہم بھی ... فلاں کی طرح بڑے گھر میں ہوتے، اچھی گاڑی میں گھوم رہے ہوتے! " کہاں ہو ؟ کب آؤ گے بیٹا ؟ زیادہ دیر نہ کرنا " جیسے سوالات انتہائی فضول اور فالتو سے لگتے ہیں ۔

"سویٹر تو پہنا ہے کچھ اور بھی پہن لو۔ آج سردی زیادہ ہے۔" انسان سوچتا ہے کہ اولڈ فیشن ہونے کی وجہ سے والد صاحب کو باہر کی دنیا کا اندازہ ہی نہیں ہے ۔۔۔۔ کیونکہ آج کل تو قمیض کے بٹن لگانے کا رواج ہی نہیں ہے اور ابا کچھ اور پہنانے کے چکر میں ہیں۔ ہم اصل بات نہیں سمجھ پائے! اکثر اولادیں اپنے باپ کو ایک ہی معیار پر پرکھتی ہیں۔۔۔ گھر، گاڑی ، پراپرٹی، بینک بیلنس، کاروبار اور اپنی ناکامیوں کو باپ کے کھاتے میں ڈال کر خود سرخرو ہو جاتے ہیں۔۔۔۔ "ہمارے پاس بھی کچھ ہوتا تو اچھے اسکول میں پڑھتے، کاروبار کرتے۔۔۔ ابا نے کچھ کیا ہی نہیں ہمارے لئے جیسے اوروں کے باپ کرتے ہیں!" اس میں شک نہیں کہ اولاد کے لئے آئیڈیل بھی ان کا باپ ہی ہوتا ہے لیکن کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جو لڑکپن یا جوانی میں سمجھ نہیں آتیں یا ہم سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے، اسلئے کہ ہمارے سامنے وقت کی ضرورت ہوتی ہے، دنیا سے مقابلے کا بھوت سوار ہوتا ہے۔۔۔۔ ہم چوہوں کی اس دوڑ (rat race) میں ہوتے ہیں جس میں سب ہیں۔ جلد سے جلد سب کچھ پانے کی جستجو میں ہم کچھ کھو بھی رہے ہوتے ہیں جس کا احساس ہمیں بہت دیر سے ہوتا ہے۔ بہت دفعہ اتنی دیر سے کہ مداوا ممکن نہیں ہوتا۔ بہت سی اولادیں وقتی محرومیوں کا پہلا ذمہ دار اپنے باپ کو قرار دے کر ہر چیز سے بری الذمہ ہو جاتی ہیں۔ وقت گزر جاتا ہے۔

اچھا بھی اور برا بھی! اور اتنی تیزی سے گزرتا ہے کہ انسان پلک جھپکتے ماضی کی کہانیوں کو اپنے ارد گرد منڈلاتے دیکھنا شروع کر دیتا ہے۔ جوانی، پڑھائی، نوکری، شادی، اولاد اور پھر وہی اسٹیج، وہی کردار جو نبھاتے ہوئے ہر لمحہ، اپنے باپ کا چہرہ آنکھوں کے سامنے آ آ کر، باپ کی ہر سوچ، احساس، فکر، پریشانی، شرمندگی اور اذیت کو ہم پر کھول کے رکھ دیتا ہے۔ باپ کی کبھی کبھی بلا وجہ خاموشی، کبھی پرانے دوستوں میں بے وجہ قہقہے، اچھے اور نئے کپڑوں کو چھوڑ کر کے پرانے کپڑوں کو فخر سے پہننا، کھانوں میں اپنے دیسی کھانوں پر فخر کرنا۔۔۔۔کبھی کبھی سر جھکائے کمرے میں بند اپنے چھوٹے چھوٹے کاموں میں الجھے ہونے کی وجہ، کبھی بغیر وجہ تھکاوٹ کے بہانے سر شام بتی بجھا کر لیٹ جانا۔۔۔نظریں جھکائے انتہائی محویت سے اپنے آنسو چھپا کر اور ڈوب کر قرآن کی تلاوت کرنا۔۔۔۔ سمجھ تو آنا شروع ہو جاتا ہے لیکن بہت دیر بعد ۔۔۔۔جب ہم خود راتوں کو جاگ جاگ کر، دوسرے شہروں میں گئے بچوں پر آیت الکرسی کے دائرے پھونکتے ہیں ۔۔۔۔۔ جب ہم سردی میں وضو کرتے ہوئے اچانک سوچتے ہیں، پوچھ ہی لیں " بیٹا آپ کے واش روم میں گرم پانی آتا ہے نا!۔۔۔۔ "

جب قہر کی گرمی میں اے سی کی ٹھنڈی ہوا بدن کو چھوتی ہے تو پہلا احساس جو دل و دماغ میں ہلچل سی مچاتا ہے، " کہیں اولاد گرمی میں تو نہیں بیٹھی۔۔۔!" پھر یاد آتا ہے کہ والد صاحب نے تو اے سی کے بغیر ہی زندگی گزاردی۔۔۔ کیسے؟ وہ تو پبلک بس میں سرکاری اسکولوں میں پڑھ کر بڑے ہوئے تھے لیکن ہمیں بہترین اسکولوں میں پڑھانے کی تگ و دو کرتے رہے! آنے جانے کے لئے گاڑی اور ڈرائیور کا بھی انتظام کیا! پتا نہیں اتنی مہنگائی میں کیسے سارا خرچہ سنبھالتے تھے! جوان اولاد کے مستقبل، شادیوں کی فکر خصوصا" بچیوں کی، ہزار تانے بانے جوڑتا باپ، تھک ہار کر اللّه اور اسکے پاک کلام اور ذکر میں پناہ ڈھونڈتا ہے۔ تب یاد آتا ہے، ہمارا باپ بھی ایک ایک حرف، ایک ایک آیت پر، رک رک کر، بچوں کی سلامتی، خوشی، بہتر مستقبل کی دعائیں ہی کرتا ہوگا ۔۔۔ ہر فرض نماز کی آخری رکعت میں اپنے بچوں کے لئے متقین کا امام بن جانے کی دعا مانگتا ہوگا! نماز کے بعد اٹھے کپکپاتے ہاتھ، اپنے لئے دعاؤں کو بھول جاتے ہونگے اور ہماری طرح ہمارا باپ بھی ایک ایک بچے کو، نمناک آنکھوں سے اللّه کی پناہ میں دیتا ہوگا ۔۔۔اپنے لئے اور اپنی اہلیہ کے لئے صدقہ جاریہ بننے کی دعا کرتا ہوگا!

سر شام کبھی کبھی کمرے کی بتی بجھا کر، اس فکر کی آگ میں جلتا ہوگا کہ میں نے اپنی اولاد کے لئے وہ نہیں کیا جو مجھے کرنا چاہئے تھا۔۔۔۔حالانکہ اس نے اپنی بساط سے زیادہ کیا تھا۔۔۔اولاد کو باپ بہت دیر سے یاد آتا ہے۔ اتنی دیر سے کہ ہم اسے چھونے، محسوس کرنے، اسکی ہر تلخی، اذیت، فکر کا ازالہ کرنے سے محروم ہو چکے ہوتے ہیں۔ یہ ایک عجیب احساس ہے، جو وقت کے بعد اپنی اصل شکل میں ہمیں بےچین ضرور کرتا ہے ۔۔۔ لیکن یہ حقائق جن پر وقت پر ہی عیاں ہو جائیں، جن کو یہ احساس صحیح وقت پر ہوجائے بس وہی خوش قسمت اولادیں ہیں۔ اولاد ہوتے ہوئے ہم سمجھتے ہیں باپ کا چھونا، پیار کرنا، دل سے لگانا، یہ تو بچپن کی باتیں ہیں۔ باپ بن کر آنکھیں بھیگ جاتی ہیں، پتہ نہیں باپ نے کتنی دفعہ دل ہی دل میں، ہمیں چھاتی سے لگانے کو بازو کھولے ہونگے۔۔۔؟ لیکن لگا نہیں پائے ہوں گے! پیار کے لئے اس کے ہونٹ بھی تڑپے ہونگے ۔۔۔۔لیکن ہماری بے باک اور مصروف جوانیوں نے اسے یہ موقع نہیں دیا ہوگا ۔۔۔۔بس آنکھوں میں آنسو چھپا کر خاموش ہوگئے ہوں گے! ہم جیسے درمیانے طبقے کے سفید پوش لوگوں کی ہر خواہش، ہر دعا، ہر تمنا اولاد سے شروع ہو کر اولاد پر ہی ختم ہو جاتی ہے۔۔۔۔۔

لیکن کم ہی باپ ہونگے جو یہ احساس اپنی اولاد کو اپنی زندگی میں دلا سکے ہوں گے۔۔۔ یہ ایک چھپا، میٹھا میٹھا درد ہے جو باپ اپنے ساتھ دنیا سے لے جاتا ہے۔ اولاد کے لئے، بہت کچھ کر کے بھی کچھ نہ کرسکنے کی ایک خلش، آخری وقت تک ایک باپ کو بہت بے چین رکھتی ہے، اور یہ سب بہت شدت سے محسوس ہوتا ہے جب ہم خود باپ بنتے ہیں۔ اور پھر بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھتے ہیں ۔۔۔۔ تو باپ کے دل کا حال جیسے قدرت ہمارے دلوں میں منتقل کر دیتی ہے۔اولاد اگر باپ کے دل میں اپنے لئے محبت کو کھلی آنکھوں سے، وقت پر دیکھ لے تو شاید اسے یقین ہو جائے کہ دنیا میں باپ سے زیادہ اولاد کا کوئی دوست نہیں ہوتا ۔۔۔۔ہاں وہ بھی بشری خامیوں کے ساتھ زندگی گزارتا ہے لیکن اولاد کے لئے جو خاموش محبت باپ کے دل میں ہوتی ہے اس کا احساس کم ہی اولادیں کر پاتی ہیں۔ بہت کم!
اگر آپ کے والد صاحب حیات ہیں تو جائیے ان کا ماتھا چوم لیجئے۔ انہیں "I love you Baba" کہہ دیجئے۔ یقین جانئے وہ آپ سے یہ سننے کے لئے مچلتے ہیں چاہے اوپر سے جتنے بھی سخت نظر آتے ہیں، اندر سے موم کی طرح نرم ہیں۔

اس سے پہلے کہ یہ دیا بجھ جائے، اپنے باپ کو سینے سے لگا لیجئے کیونکہ باپ جنت کے دروازوں میں سے ایک بہت ہی اہم دروازہ ہے۔اگر آپ کے والد صاحب حیات نہیں ہیں تو ان کی قبر پر جائیے، ان کے لئے روزانہ کم از کم پانچ بار مغفرت اور رحم کی دعا کیجئے۔ اپنے لئے رزق کے دروازے بھی وا کیجئے اور اپنے اللہ کو بھی راضی کیجئے۔اللہ سبحانہ و تعالی ہم سب سے اور ہمارے والدین سے خوب خوب راضی ہوجائے۔ آمین۔
باپ روٹی ہے کپڑا ہے مکان ہے - باپ ننھے سے پرندے کا بڑا آسمان ہے
باپ ہے تو گھر میں سکھ اور آرام ہے - باپ سے ماں کی چوڑیاں اور ان کا سہاگ ہے
باپ ہے تو روشن ہے آشیانہ - باپ ہے تو سکون میں ہے آستانہ
باپ ہے تو لُٹنے کا ڈر نہیں - باپ ہے تو کسی رہنما کی ضرورت نہیں
باپ ہے تو دوست کی ضرورت نہیں - باپ میری آواز، میرا مان
باپ میری خوشی، میری جان - باپ ہے تو زندگی کا سفر آسان
باپ ہے تو دنیا کی ہر چھت اپنی - باپ ہے خوش تو آخرت بھی اپنی
کیونکہ... باپ ہے تو بچوں کے سارے سپنے ہیں - باپ ہے تو بازار کے سارے کھلونے اپنے ہیں
(دسمبر میں والد صاحب بہت یاد آتے ہیں کیونکہ 27 برس قبل اسی مہینے میں وہ دنیا سے رخصت ہوگئے تھے اور میں 17 برس کی عمر میں یہ سارے احساسات نہیں کرسکا تھا۔) اللہ تعالی ان کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔