اشتراکی کوچہ گرد - رابعہ کاشف چوہدری


لال لال لہرانے کو برپا ہے یہ ہیجان

سر پہ کلغی پہنے ہوئے کچھ مرغوں کا طوفان

سرخ سرخ ہیں باتیں ان کی، خونیں ہے میلان

تخریب کا ہے نشان، یہ سرخے کا اعلان


...


نہ اس کی کوئی مسجد مندر نہ کوئی دیر کلیسا

نہ کوئی بھکشو بدھو اس کا، نہ کوئی رب خدا

نہ اس کا کوئی قبلہ کعبہ، نہ اس کا بھگوان

حق سے ہے انجان ، یہ سرخے کا اعلان


...


یہ اضداد کا مجموعہ ہے، یہ بھی استبداد

حق و باطل کی آمیزش، اس میں ہے تضاد

یہ حریت ضمیر کا قاتل، کہنہ ایک نشان

اقدار کا ہے بطلان، یہ سرخے کا اعلان


...


سرخ سویرا اندر سے گھٹا ٹوپ اندھیرا

یہ کسان کے روپ میں آیا دوجا ایک وڈیرا

روس بھی اس کا، چین بھی اس کا اور اس کا شیطان

ناقص ہے بیان، یہ سرخے کا اعلان


...


شکم مساوات اس کی کڑی، اس کا نکتہ دیرینہ

بھانپ لیا اقبال نے اس کا برسوں قبل قرینہ

یہ مزدور کے سائے میں سرمائے کی اک دکان

حرب کا ہے سامان ، یہ سرخے کا اعلان


...


اس کی محفل بھی باطل، زہریلا جام و سبو ہے

اس میں فسطائیت کی بو ہے اور آمر کی خو ہے

الحاد ہے اس کے جسم پہ طاری ، دہریت ہے جان

جھوٹی اس کی شان ، یہ سرخے کا اعلان


...


قطع برید اور بیخ کنی میں بنا ہوا اک جال

یہ دور تنویر کا خاصہ، یہ بھی استحصال

یہ مادی افکار کی قائل، مطلق العنان

یہ المانی میدان، یہ سرخے کا اعلان


...


یہ بھی جوع الارض کا قائل، حق کا انہدام

یہ فکر و اظہار کا مدفن، یہ جبری نظام

باتیں اس کی خوش کن لیکن یہ سلبی سلطان

ایجاب کا ہے فقدان ، یہ سرخے کا اعلان


...


اس کے حیلے بھی پرویزی، یہ بھی ہے عیار

لا کا یہ اثبات کرے، الاللہ کا انکار

مذہب ہے اک ذاتی مسئلہ، اس کا ہے فرمان

فکر کا ہے بحران ، یہ سرخے کا اعلان


...


لیکن یہ خوش آئند بھی ہے، اس نے جمود کو توڑا

اپنے ازمنہ وسطہ میں، اشہب اس کا دوڑا

دل موہ لینے والے نعرے، کیا اس کا رومان

پا جائے گا فرقان، کچھ پڑھ لے گر قرآن


...


سبز سبز ہے اپنا پرچم، سبز ہے یہ عنوان

ہند نے اپنی جان چھڑا لی، تو بھی پڑھ گردان

اس کے چنگل سے باہر آ، اور اس کو پہچان

اے پیارے پاکستان، اے پیارے پاکستان